Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

سیدنا عثمان غنی ؓ،سیدہ فاطمۃ الزہراء ؓاورمحمود غزنویؒ

وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ’’سلطان محمود غزنویؒ ڈاکو تھا،وہ لوٹ مار کرنے آتا تھا،لوٹ مار کر کے واپس چلا جاتا تھا ،میں اسے ہیرو نہیں مانتا‘‘،لگتا ہے کہ خواجہ آصف نوا ز شریف کو ہی محمود غزنویؒ سمجھتے ہیں ،کیوں کہ اصل سلطان محمود غزنویؒ کو تو کروڑوں مسلمان سومنات کا فاتح اور اسلام کے عظیم جرنیل کی حیثیت سے جانتے ہیں،ہاں البتہ خواجہ آصف کے قائد نواز شریف77 سالہ تاریخ میں وہ پہلے پاکستانی ہیں کہ یہ جہاں جاتے ہیں لو گ انہیں دیکھ کر چور،چور،ڈاکو،ڈاکو کے نعرے بلند کرتے ہیں ، لندن میں ان کی رہائش گاہ کے سامنے نوجوانوں کا ایک ہجوم جمع ہو کرجب نواز شریف چور چور کے نعرے بلند کرتا ہے ،سچی بات میڈیا کے ذریعے یہ مناظر دیکھ کر ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں، خواجہ آصف کو کوئی بتائے کہ شرم، حیا اور غیرت ہی انسان کا چہرہ روشن کرتی ہے،ورنہ ’’کالک زدہ‘‘ چہرہ صابن سے صاف ہو جانے کے باوجود دل کی کالک اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔
کہاں سیالکوٹی خواجہ آصف اور کہاں اسلام کا جرنیل اور عظیم فاتح حضرت سلطان محمود غزنویؒ ؟سلطان محمود غزنویؒ آسمان شجاعت کا وہ چاند ہے،کہ جس پر تھوکنے کی کوشش کرنے والوں کی تھوک ان کے اپنے چہروں پر آن گرتی ہے،خواجہ آصف کو ووٹ دینے والے ووٹروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سے پوچھیں کہ سلطان محمود غزنویؒ نے 77 سالوں میں پاکستان کے قومی خزانے کو کتنی بار لوٹا؟اور فرنگیوں کے کس کس ملک میں فلیٹسں خریدے اور جائیدادیں بنائیں؟
دکھ کی بات یہ کہ سومنات کی محبت میں گرفتار کالک زدہ لوگ نواز شریف اور جرنیل اسلام محمود غزنویؒ کے درمیان فرق ہی بھول گے،حالانکہ ان دونوں کے درمیان کئی زمینوں اور کئی آسمانوں کا فرق ہے ،آئیے پرودگار عالم سے دعا کر تے ہیں کہ اے میرے مولا ایسی عقل نہ دینا جو تیرے ہونے پہ شک کرے‘وہ منطق نہ سیکھانا جو تیرے قادر مطلق ہونے کو پرکھنے کی جسارت کرے‘وہ غیر جانبداری عطا نہ کرنا جو تیرے نبی کے مبارک افعال اور اقوال کو تولنے بیٹھ جائے‘ اس سوچ سے دور رکھنا جس کو اپنا کر دنیا میں تو ذہین پہچانے جائیں لیکن آخرت کا خسارہ مقدر ہو‘یااللہ ایسی ’’ریشنیلٹی‘‘ نہیں چاہیے جس سے تو اور تیرا نبی ناراض ہوں,یا اللہ ایسا فلسفی بننا بے سود ہے جس سے تکوین کون و مکاں کا فلسفہ ہضم نہ ہو‘ میرے مولا وہ بنادے جس سے تو راضی ہو پھر چاہے پوری دنیا ناراض ہوجائے پرواہ نہیں۔
ایک دن حضرت عثمان غنی ؓ نے نبی کریمﷺ کی دعوت کی جب نبی کریمﷺ حضرت عثمان غنی ؓ کے گھر کی طرف تشریف لے کر جارہے تھے تو حضرت عثمان غنی ؓ آپﷺ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے اور آپﷺ کے قدموں کی تعداد گن رہے تھے۔سرکار دو عالم ﷺ نے جب منہ موڑ کر یہ معاملہ دیکھا تو مسکرا کر پوچھا ’’اے عثمان(رضی اللہ عنہ) کیا کر رہے ہو‘‘؟ حضرت عثمانؓ نے جواب دیا ’’یارسول اللہﷺ میں آپﷺ کے قدم گن رہا ہوں تاکہ میں اتنے غلام آزاد کروں۔‘‘دعوت ختم ہونے کے بعد حضرت عثمان غنیؓ نے ایسا ہی کیا اور اتنے ہی غلام آزاد کیے۔
حضرت علیؓ اس دعوت سے متاثر ہوئے اور گھر آکر حضرت فاطمۃ الزہراءؓ سے اس دعوت کا ذکر کیا حضرت فاطمۃ الزہراءؓ نے فرمایا علی (رضی اللہ عنہ) اگرتم چاہتے ہو تو ٹھیک ہے تم رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحابؓ کو بلائو اور میں دعوت کے لئے کچھ پکالوں گی۔
حضرت علی ؓ کے جانے کے بعد حضرت فاطمۃ الزہراءؓ نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجودہوگئیں اور دعا مانگنے لگیں‘ اے اللہ! تیری بندی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے تیرے حبیب محمدﷺ اور ان کے اصحابؓ کی دعوت کی ہے ‘ تیری بندی کاصرف اور صرف تجھ پر بھروسہ ہے لہٰذا اے میرے مالک و خالق آج تو فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کی لاج رکھ لے اور اس دعوت کے لئے کھانوں کا انتظام عالم غیب سے فرما۔
سیدہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا مانگ کے ہانڈیوں کو چولہوں پر رکھ دیا‘ اللہ کے فضل و کرم سے تمام ہانڈیاں مختلف قسم کے کھانوں سے بھری پڑی تھیں ‘ جب سرکار دو عالمﷺ اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ تشریف لے آئے تو حضرت فاطمۃ الزہرا ء ؓ نے ہانڈیوں سے ڈھکن اٹھا کر کھانا ڈالنا شروع کیا‘ اصحاب رسول اللہﷺ کھانے کی خوشبو سے حیران رہ گئے‘ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کھانا کھایا تو کھانوں کی لذت نے مزید حیران کر دیا‘ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حیران دیکھ کر فرمایا۔
’’حیران ہو رہے ہو‘ تمہیں معلوم ہے کھانا کہاں سے آیا ہے‘‘تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جواب دیا ’’اللہ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں۔‘‘
سرکار دو عالمﷺ نے فرمایا ’’حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے یہ کھانا ہم لوگوں کے لئے جنت سے منگوا کر دعوت کی ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ پھر سربسجود ہوگئیں اور اس طرح دعا مانگنے لگیں ’’اے میرے مالک! حضرت عثمان ؓ نے تیرے محبوب کے ہر ہر قدم کے بدلے ایک غلام آزاد فرمایا ہے ‘ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس اتنی استطاعت نہیں کہ وہ غلام آزاد کرے ‘ اے میرے رب تو نے پہلے بھی میری لاج رکھی اور جنت سے کھانا بھیج دیا ‘ اب تیرے محبوبﷺ جتنے قدم چل کر میرے گھر آئے اتنے ہی سرکار دو عالم کے امتی جہنم کی آگ سے آزاد فرما دے۔‘‘
ادھر سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ اس دعا سے فارغ ہوئیں اور ادھر جبرائیل امین علیہ السلام وحی لے کر بارگاہ خیر الانامﷺ میں حاضر ہوگئے اور بشارت سنانے لگے‘ یارسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہر قدم کے بدلے ایک ہزار گناہ گار امتیوں کو بخش دیا اور جہنم سے آزادی عطا کر دی ہے۔ (جامع المعجزات (مترجم)257۔

یہ بھی پڑھیں