حضرت ابوبکر صدیقؓ اسلام کی ان برگزیدہ اور عظیم ترین ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے اعلیٰ کردار اور بے مثال خدمات سے۔ قیامت تک کے لئے تاریخ کو درخشندہ بنا دیا،سیدنا صدیق اکبرؓ کو یہ منفرد اعزاز، مقام و مرتبہ بھی حاصل ہے کہ آپ اسلام لانے سے پہلے ہی محسن عالم ﷺکے بہترین دوست اور غمگسارساتھی تھے،محسن عالم ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ جو چیز اللہ نے میرے دل میں ڈالی تو میں نے اس کو ابوبکر صدیقؓ کے دل میں ڈال دیا، حضرت سیدنا اسید بن صفوانؓ فرماتے ہیں جب حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو مدینے کی فضا میں رنج وغم کے آثار تھے ،ہر شخص شدت غم سے نڈھال تھا ،ہر آنکھ سے اشک رواں تھے ،صحابہ کرامؓ پر اسی طرح پریشانی کے آثار تھے۔جیسے حضور ﷺکے وصال ظاہری کے وقت تھے ، سارا مدینہ غم میں ڈوبا ہوا تھا،پھر جب حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو غسل دینے کے بعد کفن پہنایا گیا تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا : آج کے دن نبی آخرزماں ﷺکے خلیفہ ہم سے رخصت ہوگئے،پھر سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوگئے اور سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے صدیق اکبررضی اللہ عنہ،اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے ،آپ رسول اللہﷺ کے بہترین دوست ،اچھے محب،بااعتماد رفیق اور محبوب خداﷺ کے رازداں تھے۔ حضور ﷺ آپ رضی اللہ عنہ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے ،صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے پہلے مومن ،ایمان میں سب سے زیادہ مخلص ،پختہ یقین رکھنے والے اور متقی پرہیز گا رتھے ، آپ رضی اللہ عنہ دین کے معاملات میں بہت زیادہ سختی اور اللہ کے رسول ﷺکے سب سے زیادہ قریبی دوست تھے۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحبت سب سے اچھی اور مرتبہ سب سے بلند تھا،آپ ہمارے لیے بہترین واسطہ تھے ،آپ کا اندازِ خیر خواہی ،دعوت وتبلیغ کا طریقہ ،شفقتیں اور عطائیں رسول اللہ ﷺکی طرح تھیں ،سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے بہت زیادہ خدمت گزار تھے،اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے رسول ﷺ اور اسلام کی خدمت کی بہترین جزا عطافرمائے آپ دین ِمتین اور نبی کریم ﷺ کی بہت زیادہ خدمت کی ،اللہ عزوجل اپنی رحمت کے شیانِ شان آپ کو جزا عطافرمائے جس وقت لوگوں نے رسول اللہﷺکو جھٹلایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکی تصدیق فرمائی حضور نبی کریم ﷺکے ہر فرمان کو حق وسچ جانا اور ہر معاملے میں آپ ﷺکی تصدیق فرمائی ،اللہ عزوجل نے قرآن ِکریم میں آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا فرمان باری تعالیٰ ہے ترجمہ : اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈروالے ہیں ۔ (الزمر) اس آیت میں صدق بہ سے مراد صدیق اکبررضی اللہ عنہ یا تمام مومنین ہیں ۔پھر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے مزیدفرمایا: اے صدیق ِاکبر رضی اللہ عنہ!جس وقت لوگوں نے بخل کیا آپ نے سخاوت کی ،لوگوں نے مصائب وآلام میں رسول اللہ ﷺ کاساتھ چھوڑ دیا لیکن آپ نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ رہے آپ رسول اللہ ﷺکی صحبت سے بہت زیادہ فیضیاب ہوئے۔آپ کی شان تو یہ ہے کہ آپ کو ثانی اثنین کالقب ملا ،آپ یارِغار ہیں اللہ عزوجل نے آپ پر سکینہ نازل فرمایاآپ نے نبی کریم ﷺکے ساتھ ہجرت فرمائی ،آپ رسول اللہ ﷺکے رفیق وامین اور خلیفہ فی الدین تھے ، آپ نے خلافت کا حق ادا کیا ،آپ نے مرتدوں سے جہاد کیا۔
حضور ﷺکے وصال کے بعد لوگوں کے لیے سہارا بنے ،جب لوگوں میں اداسی اور مایوسی پھیلنے لگی تو اس وقت بھی آپ رضی اللہ عنہ کے حوصلے بلند رہے۔ لوگوں نے اپنے اسلام کو چھپایا لیکن آپ نے اپنے ایمان کا اظہار کیا ،جب لوگوں میں کمزوری آئی تو آپ نے ان کو تقویت بخشی ،ان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور انہیں سنبھالاآپ نے ہمیشہ نبی کریم ﷺکی سنتوں کی اتباع کی ،آپ رسول اللہ ﷺکے خلیفہ برحق تھے ، منافقین وکفار آپ کے حوصلوں کو پست نہ کرسکے ،آپ نے کفار کو ذلیل کیا ،باغیوں پر خوب شدت کی ،آپ کفارو منافقین کے لیے غیض وغضب کا پہاڑ تھے ۔ لوگوں نے دینی امور میں سستی کی لیکن آپ نے بخوشی دین پر عمل کیا ۔لوگوں نے حق بات سے خاموشی اختیار کی مگر آپ نے علی الاعلان کلمئہ حق کہا،جب لوگ اندھیروں میں بھٹکنے لگے تو آپ کی ذات ان کے لیے منارئہ نورثابت ہوئی ۔انہوں نے آپ کی طرف رخ کیا اور کامیاب ہوئے ،آپ سب سے زیادہ ذہین وفطین ،اعلیٰ کردار کے مالک ،سچے ، خاموش طبیعت ،دور اندیش ،اچھی رائے کے مالک ، بہادر اور سب سے زیادہ پاکیزہ خصلت تھے ۔ خدا کی قسم!جب لوگوں نے دین اسلام سے دوری اختیار کی تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے اسلا م قبول کیا۔ آپ مسلمانوں کے سردار تھے آپ نے لوگوں پر مشفق باپ کی طرح شفقتیں فرمائیں ،جس بوجھ سے وہ لوگ تھک کر نڈھال ہوگئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں سہارا دیتے ہوئے وہ بوجھ اپنے کندھوں پر لاد لیا ۔ جب لوگوں نے بے پروائی کا مظاہرہ کیا تو آپ نے قوم کی باگ ڈور سنبھالی ،جس چیز سے لوگ بے خبر تھے آپ اسے جانتے تھے اور جب لوگوں نے بے صبری کامظاہرہ کیا تو آپ نے صبر سے کام لیا ، جوچیز لوگ طلب کرتے آپ عطافرمادیتے ۔لوگ آپ کی پیروی کرتے رہے اور کامیابی کی طرف بڑھتے رہے اور آپ کے مشوروں اور حکمت عملی کی وجہ سے انہیں ایسی ایسی کامیابیاں عطاہوئیں جو ان لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں ۔ سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کافروں کے لیے دردناک عذاب اور ممنوں کے لیے رحمت ، شفقت اور محفوظ قلعہ تھے خدا عزوجل کی قسم!آپ اپنی منزل ومقصود کی طرف پرواز کرگئے اور اپنے مقصود کو پالیا، آپ کی رائے کبھی غلط نہ ہوئی ،آپ نے کبھی بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا،آپ بہت نڈر تھے ،کبھی بھی نہ گھبراتے گویا آپ جذبوں اور ہمتوں کا ایسا پہاڑ تھے جسے نہ تو آندھیاں ڈگمگاسکیں نہ ہی سخت گرج والی بجلیاں متزلزل کرسکیں آپ بالکل ایسے ہی تھے جیسے حضورﷺنے آپ کے بارے میں فرمایا۔ آپ بدن کے اعتبار سے اگرچہ کمزور تھے لیکن اللہ عزوجل کے دین کے معاملے میں بہت زیادہ قوی و مضبوط تھے آپ اپنے آپ کو بہت عاجز سمجھتے ،لیکن اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپ کارتبہ بہت بلند تھا اور آپ لوگوں کی نظروں میں بھی بہت باعزت وباوقار تھے۔
(جاری ہے)