Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

یار غار ومزار خلیفہ اول سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت سیدنا علی المرتضی نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرمایا،آپ نے کبھی کسی کو عیب نہ لگایا، نہ کسی کی غیبت کی اور نہ ہی کبھی لالچ کیا ۔بلکہ آپ لوگوں پر بہت زیادہ شفیق ومہربان تھے ،کمزور وناتواں لوگ آپ کے نزدیک محبوب اور عزت والے تھے ،اگر کسی مالدار اور طاقتور شخص پر ان کا حق ہوتا تو انہیں ضرور ان کا حق دلواتے ،طاقت اور شان وشوکت والوں سے جب تک لوگوں کا حق نہ لے لیتے وہ آپ کے نزدیک کمزور ہوتے آپ کے نزدیک امیروغریب سب برابر تھے ،آپ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ مقرب ومحبوب وہ تھا جو سب سے زیادہ متقی وپرہیز گار تھا۔آپ صدق وسچائی کے پیکر تھے ،آپ کا فیصلہ اٹل ہوتا ،آپ بہت مضبوط رائے کے مالک اور حلیم وبردبار تھیاللہ کی قسم!آپ ہم سب سے سبقت لے گئے ،آپ کے بعد والے آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتے،آپ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ۔آپ رضی اللہ عنہ اپنی منزل مقصود کو پہنچ گئے، آپ کو بہت عظیم کامیابی حاصل ہوئی۔(اے یار غار) آپ نے اس شان سے اپنے اصلی وطن کی طرف کوچ کیا کہ آپ کی عظمت کے ڈنکے آسمانوں میں بج رہے ہیں اور آپ کی جدائی کا غم ساری دنیا کو رلارہا ہے۔ ( انا للہ واناالیہ راجعون)۔
ہم ہر حال میں اپنے رب عزوجل کے ہر فیصلے پر راضی ہیں ،ہر معاملے میں اس کی اطاعت کرنے والے ہیں اے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ!رسول اللہﷺ کے وصال کے بعد آپ کی جدائی کا غم مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا غم ہے ۔آپ کی ذات اہل اسلام کے لیے عزت کا باعث بنی ،آپ مسلمانوں کے لیے بہت بڑا سہارا اور جائے پناہ تھے اللہ عزوجل نے آپ کی آخری آرام گاہ اپنے پیارے نبی ﷺکے قرب میں بنائی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کی طرف سے اچھا اجر عطا فرمائے اور ہمیں آپ کے بعد صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے اور گمراہی سے بچائے ۔(آمین بجاہ النبی الامین ﷺ) لوگ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا کلام خاموشی سے سنتے رہے جب آپ نے خاموشی اختیار کی تو لوگوں نے زاروقطار رونا شروع کردیا اور سب نے بیک زبان ہوکر کہا ،اے حیدر کرار! آپ نے بالکل سچ فرمایا، آپ نے بالکل سچ فرمایا،۔ (ماخوذ از عیون الحکایات مترجم حصہ اول ص ۳۶) سیدنا ابوبکر نے کبھی بت پرستی نہیں کی ، سیدنا ابوبکر ؓ نے معراج کی سب سے پہلے تصدیق کی ، صرف سیدنا ابوبکرؓ کو قرآن پاک میں صحابی کہا گیا سیدنا ابوبکرؓ حوض کوثرپر نبی کریم ﷺسے پانی لے کر امت کو پلائیں گے ۔ سیدنا ابوبکر ؓکو اللہ نے ہجرت کی رات کا نبی کریم ﷺکے ساتھ ہمسفر بنایا ۔ سیدنا ابوبکرؓ کی وجہ سے حضرت عثمان ؓ ایمان لائے ۔ سیدنا ابوبکر ؓنے ہی مسجد نبویﷺ کی زمین خرید کر نبی ﷺکے حوالے کی۔ تین دن اکیلے غار ثور میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہنے کا شرف سیدنا ابوبکرؓ کو حاصل ہوا ۔ قیامت کے دن سیدنا ابوبکرؓ کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے بلایا جائے گا۔ قیامت کے دن سیدنا ابوبکر ؓکو دیکھ کر اللہ کا جلال ، جمال میں بدل جائے گا۔ قیامت کے دن سیدنا ابوبکر نبی کریم ﷺکے ساتھ اٹھیں گے ۔
سیدنا ابوبکر ؓ کو اللہ تعالیٰ کا سلام آیا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے ہی اپنا سارا مال نبی کریم ﷺ پر خرچ کیا تھا ۔ سیدنا ابوبکر ؓکے لئے نبی کریم ﷺنے فرمایا تھا کہ مسجد نبویؐ کی طرف جتنے دروازے کھلتے ہیں بند کر دئیے جائیں سوائے ابوبکر ؓکے دروازے کے، ہر غزوے میں نبی کریمﷺ کے ساتھ رہے۔ سیدنا ابوبکرؓ جنت میں بوڑھوں کے سردار ہوں گے۔ ہجرت کی رات سیدنا ابوبکرؓ کے گھر کے سارے افراد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رہے۔سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے ذاتی پیسے سے جنت خرید کر نبی کریم ﷺکے حوالے کی۔یعنی ریاض الجنتہ، سیدنا ابوبکرؓ خود صحابی ، والدین صحابی ، اولاد صحابی ،پوتے پوتیاں صحابی ، نواسے نواسیاں صحابی ،۔ سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ راشد ہیں۔ سیدنا ابوبکر ؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ کی مرویات 104ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ نے سات غلام آزاد کر وائے وفات نبوی ﷺکے بعد باہمی مشاورت سے تمام مہاجرین و انصار نے حضرت صدیق اکبر ؓکے ہاتھ پر متفقہ طور پر بیعت کرلی اور آپ کو خلیفہ بنالیا گیا۔منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد سیدنا صدیق اکبرؓ نے ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا،اس خطبے کاایک ایک لفظ سنہرا اور قیامت تک آنے والے حکمرانوں کے لئے نصیحت آموز ہے،فرمایا،میں تمہارا سردار بنایا گیا ہوں،حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں،پس اگرمیں نیک کام کروں تو تمہارا فرض ہے کہ میری مدد کرواور اگرمیں غلط راہ اختیار کروں توتمہارافرض ہے تم مجھے سیدھے راستے پر قائم کرو۔
راستی اور راست گفتاری امانت ہے، اور دروغ گوئی خیانت۔تم میں جو ضعیف ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے اور تم میں جو قوی ہے وہ میرے نزدیک ضعیف ہے،جب تک میں اس سے حق نہ لے لوں،تم لوگ جہاد کو ترک نہ کرنا،جب کوئی قوم جہاد ترک کردیتی ہے تو وہ ذلیل ہوجاتی ہے،جب تک میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں تو تم میری اطاعت کرو،جب میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کروں تو تم میرا ساتھ چھوڑ دو،کیونکہ پھرتم پر میری اطاعت فرض نہیں ہے۔کاش کہ اس خطبے سے پاکستانی حکمران بھی نصیحت پکڑیں،آقانامدارﷺکا اس دار فانی سے پردہ فرما جانے کے بعد مسلمانو ں کے لئے انتہائی کٹھن مرحلہ شروع ہوچکا تھا،اس مشکل گھڑی کو آپ نے اپنے عزم مسمم سے اس طرح سر کیا کہ دین اسلام کو کوئی آنچ نہ آنے دی۔ بڑے بڑے فتنے رونماہوئے،جن میں مانعین زکوٰۃ کا فتنہ، مرتدین کافتنہ اور جھوٹے مدعیان نبوت کافتنہ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے صحابہ کرام ؓکے ساتھ مل کر حضورﷺ کی حاصل شدہ تربیت کے ذریعے ان فتنوں کو بڑے احسن طریقے کے ساتھ ختم کیا مختلف مقامات پر گھمسان جنگیں ہوئیں۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں