Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

25 دسمبر عیسائی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن

پاکستان میں 25دسمبر کو عیسائی برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف عیسائی برادری کے لئے اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس دن کو پورے پاکستان میں مسلمانوں کے لئے بھی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس دن کی خاصیت یہ ہے کہ پاکستان کے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جاتا ہے۔ عیسائیوں کے لئے یہ دن عید کی طرح اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 25 دسمبر کو عیسائیوں کا سب سے بڑا مذہبی دن، یسوع مسیح کا یوم پیدائش یا کرسمس ہوتا ہے۔پاکستان میں عیسائیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، اور یہ ہماری قومی شناخت کا حصہ ہیں۔ ان کی موجودگی اور کردار کو تسلیم کرنا اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا، ہمیں ان کی ثقافت اور مذہب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان محبت اور احترام کا رشتہ ہمیشہ سے قائم رہا ہے۔ پاکستان کے بانی، قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے بھی مذہب، فرقہ، نسل یا زبان سے بالاتر ہو کر تمام اقلیتی گروپوں کے حقوق کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ ان کے اس پیغام کو یاد کرتے ہوئے ہم اس دن کو مناتے ہیں تاکہ عیسائی بھائیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں۔یوم یکجہتی کے اس دن پر مختلف مقامات پر پروگرامز، اجتماعات اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ عیسائی برادری کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کی خوشیوں میں شریک ہیں۔ اس دن، نہ صرف عیسائی برادری کو اپنے مذہبی تہوار کی خوشی کا موقع ملتا ہے بلکہ پورے معاشرے میں اتحاد، بھائی چارے اور محبت کی فضا بھی پیدا ہوتی ہے۔ خاص طور پر مسلمان عیسائیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ان کے گھروں پر جاکر کرسمس کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں، ان کے ساتھ تہوار مناتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیک خواہشات بھیجتے ہیں۔
پاکستان میں عیسائیوں کی تاریخ اور ان کے ثقافتی ورثے کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ عیسائیوں کا معاشرتی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی میں اہم کردار رہا ہے۔ یہ برادری ہمیشہ سے ملک کی ترقی میں حصہ دار رہی ہے، چاہے وہ تعلیم، صحت یا دیگر شعبوں میں ہو۔ اس کے علاوہ عیسائی برادری نے پاکستان کی آزادی کی تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔دور حاضر میں بھی عیسائی برادری کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مسیحی تعلیمی ادارے، اسپتال اور فلاحی تنظیمیں ملک کے مختلف حصوں میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ اس دن عیسائیوں کو ان کی خدمات کی قدر کرنا اور ان کے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔ اس دن ہم نہ صرف ان کے مذہبی تہوار کے ساتھ ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں بلکہ ہم یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے ہمسایہ ہیں، اور ہمارے درمیان کوئی مذہبی یا ثقافتی فرق نہیں ہے۔ پاکستان میں عیسائیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن محض ایک رسمی تقریب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا موقع ہے جس پر ہمیں اپنے رویوں اور سوچوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ عیسائی برادری کو حق دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے دلوں میں ان کے لیے محبت اور عزت پیدا کرنی چاہیے۔ ایک قوم کے طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اقلیتی برادریوں کو مکمل حقوق فراہم کریں، اور ان کے ساتھ انصاف اور مساوات کا سلوک کریں۔پاکستان کے معاشرتی ڈھانچے میں اقلیتی برادریوں کا کردار اہم ہے، اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہمارے مذہب اور آئین کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ اعیسائی برادری کی زندگی کے اس خاص دن پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مشترکہ اقدار، جیسے محبت، بھائی چارہ، انصاف اور انسانیت کی خدمت، ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔ اس دن کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہوئے ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی کوشش کرنی چاہیے جہاں تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق ملیں، اور کسی بھی شخص کو اپنے مذہب یا عقیدہ کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق کا سامنا نہ ہو۔عیسائی برادری کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا محبت، صبر، اور انسانیت کے لیے خدمت کا جذبہ ہے۔ ہمیں ان کے ساتھ اپنے روابط کو مزید بہتر بنانے کے لیے ان کی خوبیوں کو اپنانا چاہیے۔ ان کی روحانیت اور ان کے خیرات کے کام ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم کس طرح اپنے معاشرتی ذمہ داریوں کو ادا کر سکتے ہیں۔یہ دن ہمیں اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر اقلیتی گروہ کے ساتھ محبت، احترام اور بھائی چارے کی فضا پیدا کریں تاکہ ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکے۔ 25 دسمبر کا دن عیسائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے، لیکن یہ ایک ایسا موقع ہے جب ہمیں اپنے دلوں میں انسانیت کی محبت، اقلیتی برادریوں کے لیے عزت اور ان کے ساتھ احترام کا رشتہ مضبوط کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔اس دن کے موقع پر تمام مسلمانوں کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ اس وقت دنیا بھر میں اقلیتیں مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، اور ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی حمایت کریں اور ان کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں۔ یوم یکجہتی پر ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مذہب سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے اور اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارے، اور ہمیں اس حق کا احترام کرنا چاہیے۔ پاکستان کی مذہبی ہم آہنگی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، تو ہمارے معاشرے میں امن اور سکون ہوتا ہے۔ 25 دسمبر کا دن عیسائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے، اور یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا مقصد ایک ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں سب کو آزادی ہو، امن ہو اور محبت کا رشتہ ہو۔اس دن کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے عیسائی بھائیوں کے ساتھ ہر حالت میں یکجہتی اور تعاون کی فضا قائم رکھیں گے۔ ہمیں اپنی حکومت، تعلیمی اداروں، اور میڈیا کے ذریعے یہ پیغام پھیلانا چاہیے کہ مذہب، رنگ یا نسل کی تفریق کے بغیر ہم سب ایک ہیں اور ہمارا مقصد ایک مضبوط، پرامن اور خوشحال پاکستان بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں