اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ پر مکمل قبضہ کر کے حماس کو ختم اور نئی انتظامیہ قائم کرے گا۔ صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو کے اس منصوبے کے اعلان نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا وہ یہ قدم اپنی دائیں بازو کی انتہاپسند کابینہ کو خوش کرنے کے لئے اٹھا رہے ہیں یا پھر عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی مذمت اور بدترین قحط کی وجہ سے اسرائیل پر دبائو کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟۔دوسری جانب فلسطینی رہنمائوں اور عالمی انسانی حقوق تنظیموں نے اسرائیلی وزیراعظم کے اس اقدام کو فلسطینی عوام کے خلاف ایک اور جارحانہ فیصلہ قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں پہلے سے جاری سنگین حالات مزید بدتر ہو جائیں گے۔یاد رہے کہ اسرائیلی فوج پہلے ہی غزہ کے تقریباً 80 فیصد علاقے پر قابض ہے، جہاں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی شہری شدید بمباری، غذائی قلت، بار بار نقل مکانی اور عارضی پناہ گاہوں میں بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس اور انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اسرائیل کی جانب سے محصور غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی ادارے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی سیکورٹی کابینہ کی جانب سے منظور شدہ اس منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج غزہ پر مکمل قبضہ حاصل کرے گی، جس سے نہ صرف انسانی بحران مزید گہرا ہوگا بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیوں کو لاحق شدید خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔اقوام متحدہ کے بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس فیصلے کے خلاف ہے جس میں اسرائیل کو فوری طور پر قبضہ ختم کرنے اور دو ریاستی حل کی طرف بڑھنے کا کہا گیا تھا۔
وولکر ترک نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے جبری بے دخلی، شہری ہلاکتیں، ناقابل برداشت مصائب اور سنگین جرائم میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں پہلے ہی قحط، بیماری اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف جولائی میں 12ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوئے ہیں اور رواں سال اب تک 100سے زیادہ افراد بھوک سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباری، نقل مکانی کے احکامات اور امدادی رکاوٹوں نے غزہ کو انسانی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔انتونیو گوتیرس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کرے، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی یقینی بنائے اور تمام قیدیوں کو غیر مشروط طور پر رِہا کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے 2024 ء کے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کرے اور تمام یہودی نئی بستیوں کی تعمیر روک دے۔بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی غیر قانونی موجودگی ختم کرے۔ گوتیرس نے واضح کیا کہ غزہ فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسے ایسا ہی رہنا چاہیے۔واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ پر قبضے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جرمنی نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی معطل کر دی ہے جب کہ ترکی نے اسے جبری بے دخلی کی سازش قرار دیا ہے اور چین نے سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔اٹلی کے وزیرِ دفاع گوئیدو کروسیٹو نے اسرائیلی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری کارروائیاں اب دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے عقل اور انسانیت کھو دی ہے اور اب اس کی پالیسیاں قابلِ دفاع نہیں رہیں۔
کروسیٹو نے مطالبہ کیا کہ اب ایسے فیصلے کیے جانے چاہئیں جو اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی پر مجبور کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ وہاں کے عوام کو ایک انتہا پسند حکومت سے بچانے کے لئے ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یورپی رہنما غزہ کا دورہ کیوں نہیں کرتے؟ جیسے انہوں نے کیف کا کیا؟ کیونکہ اسرائیلی حکومت مکالمے سے انکاری ہے اور بنیاد پرستانہ رویہ اپنا چکی ہے۔ دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے الجزیرہ کے معروف اور قابل احترام صحافی انس الشریف کا آخری پیغام منظر عام پر آ گیا، جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے۔(اے کاش کہ عالمی ضمیر اگر زندہ ہوتا) انس الشریف نے 6 اپریل کو اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ایک وصیتی پیغام تحریر کیا تھا، جسے انہوں نے اپنے اہلِ خانہ سے کہا تھا کہ جس دن میری شہادت ہو۔
(جاری ہے)