امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسرائیل کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ پر قبضے کا فیصلہ اسرائیل کرے گا، جبکہ امریکا صرف انسانی امداد پر توجہ دے گا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا امریکا اسرائیلی قبضے کی حمایت کرتا ہے؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہماری ترجیح یہ ہے کہ غزہ کے شہریوں تک زیادہ سے زیادہ خوراک پہنچائی جائے۔ باقی فیصلہ اسرائیل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل خوراک کی تقسیم میں مدد کرے گا اور عرب ممالک مالی تعاون فراہم کریں گے تاکہ غزہ کے عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی سرزمین پر قبضے کی کھلی حمایت کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اعلیٰ سیکورٹی حکام سے ملاقات میں غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو ان علاقوں میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں یرغمالیوں کی موجودگی کا شبہ ہے۔اسرائیلی عزائم اور ٹرمپ کے بیانات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ غزہ پر مکمل قبضے کی سازش رچائی جا رہی ہے اور امریکا خاموشی سے اس کے لئے راہ ہموار کر رہا ہے۔
غزہ میں انسانی امداد کے دعوے محض دکھاوا ہیں، جس کا مقصد اسرائیل کے ہاتھوں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کو عالمی سطح پر پردہ فراہم کرنا ہے۔ دوسری طرف بھوک سے نڈھال، فاقوں سے بے حال، غذائی کمی سے کمزور غزہ کے بچے، عورتیں، بوڑھے اور جوان کھلی آنکھوں کے ساتھ مسلم ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ اپنے نحیف اور کمزور جسموں کے ساتھ پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرنے پر مجبور ہیں،جنگ زدہ محصور پٹی کے عوام کو چند لیٹر پانی کے لیے میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وزارت نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 24گھنٹوں میں قحط اور غذائی قلت کے باعث مزید 5 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔وزارت صحت کے مطابق بھوک اور غذائی قلت سے اب تک مرنے والوں کی تعداد 217 ہو گئی ہے، جن میں 100 بچے ہیں، عالمی ادار صحت کا کہنا ہے کہ فلسطین کی محصور اور جنگ زدہ پٹی غزہ میں ہر 5 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔
اسرائیلی ناکابندی اور امداد کی ترسیل میں رکاو ٹ غزہ میں صورت حال کو خراب سے خراب تر کرنے کے ساتھ انسانی جانوں کا ضیاع مسلسل بڑھا رہی ہے۔غزہ کی آبادی تقریبا ً24 لاکھ ہے، جسے خوراک، پانی اور صحت کی دیکھ بھال کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارچ کے اوائل سے سرحدی گزرگاہوں کی مکمل بندش کے بعد سے امداد کے داخلے پر سخت پابندیاں ہیں۔اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) نے حال ہی میں غزہ میں 5سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت کے واقعات دگنا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کی وجہ بنیادی ضروریات زندگی کا شدید فقدان ہے۔یاد رہے کہ 2ہفتے قبل 100سے زائد غیر سرکاری تنظیموں نے غزہ میں بڑے پیمانے پر قحط کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔ غزہ میں 22 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں پھیلنے والی تباہی کے باعث یہ علاقہ اب رہنے کے قابل نہیں رہا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں بڑے پیمانے پر فاقہ کشی پھیلنے کے ساتھ اس کے اپنے کارکنوں سمیت عوام انتہائی کمزور ہوچکے ہیں۔ایف پی کے مطابق ڈاکٹرز ود آٹ بارڈرز، ایمنسٹی انٹرنیشنل، آکسفیم انٹرنیشنل ، ڈاکٹرز آف ورلڈ اور کیریٹاس سمیت درجنوں فلاحی تنظیموں نے غزہ میں فاقہ کشی کی تصدیق کی ہے۔ فلسطین کی محصور جنگ زدہ پٹی غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے، جہاں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 11افراد بھوک سے اور 21فلسطینی امداد حاصل کرنے کی کوشش میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک بھوک اور غذائی قلت سے مرنے والوں کی تعداد 212 ہو چکی ہے، جن میں 98بچے شامل ہیں۔ ہسپتالوں میں غذائی قلت اور ادویات کی کمی کے باعث بچوں اور بزرگوں کی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ خوراک نے اسرائیل سے روزانہ کم از کم 100 امدادی ٹرکوں کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے جبکہ اصل ضرورت کم از کم 600 ٹرکوں کی ہے۔ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں امدادی مراکز کے قریب موجود افراد پر حملے کئے، جن میں 21 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔قابض فوج نے نیٹزارم کاریڈور اور رفح کے قریب امداد کے انتظار میں کھڑے افراد کو نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں خان یونس میں ایک رہائشی عمارت پر فضائی حملے میں ایک خاتون شہید اور ایک شخص زخمی ہوا۔واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کو اقوام متحدہ، یورپی ممالک، چین، ترکی، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ مزید قتل، جبری نقل مکانی اور قحط کو جنم دے گا جبکہ آسٹریلیا، جرمنی، اٹلی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 ء سے غزہ پر مسلط جنگ میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 61ہزار 380ہو گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 52 ہزار 850 فلسطینی زخمی ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی محاصرے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غذائی بحران سے252 افراد بھوک کے باعث جاں بحق ہو گئے، جن میں 100سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ امداد تقسیم کے موقع پر اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 1753 اور زخمیوں کی 12690 ہو گئی ہے۔