کراچی کی فضائوں میں ایک نورانی لمحہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اتر آیا۔ ادارہ معارف القرآن، جو اپنی علمی عظمت اور دینی خدمات کے باعث شہر کراچی کی پہچان ہے، میں حفظِ قرآن کریم کی ایک پروقار اور روح پرور تقریب منعقد ہوئی۔ یہ محفل محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھی، بلکہ ایمان کو جلا دینے والا اور روح کو سرشار کر دینے والا وہ لمحہ تھا جس میں سترہ معصوم چہروں کو وہ سعادت نصیب ہوئی جو دنیا و آخرت کی سب سے بڑی دولت ہے قرآنِ حکیم کو سینوں میں محفوظ کر لینے کی عظیم کامیابی۔ہال میں سکوت ایسا کہ جیسے وقت اپنی چال روک کر ان لمحوں کو دیکھنے آ گیا ہو۔ بچے نہایت اعتماد اور خشوع کے ساتھ اپنا آخری سبق سنانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ ہر آواز میں یقین اور ہر حرف میں اخلاص کی چمک تھی۔ یہ سعادت جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کے ممتاز اور جید استاد، مولانا لطف الرحمن یوسف زئی کے حصے میں آئی۔ ان کی پرسوز آواز سے نکلتے قرآن کے الفاظ دلوں میں اترتے چلے گئے، اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ رحمت کے فرشتے اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لئے اتر آئے ہوں۔
ادارہ کے بانی و مدیر، مولانا عبدالوحید کشمیری نے اپنی بصیرت افروز اور دل نشین تقریر میں بچوں اور ان کے والدین کو قیمتی نصیحتیں کیں اور قرآن کو زندگی کا رہنما بنانے اور اس کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا ہر جملہ گویا نصیحت نہیں بلکہ ایک دعا کی صورت میں سننے والوں کے دلوں میں اتر رہا تھا۔مولانا عبدالوحیدکو پاکستان کے دینی حلقوں میں ’’خادم قرآن‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر میں بھی آپ نے انسانیت کی بھلائی کے جو منصوبے شروع کر رکھے ہیں،وہ اپنی مثال آپ ہیں (یہ تفصیل پھر کبھی سہی) جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھے تو فضاء میں ایک عجیب کیفیت چھا گئی۔ آہوں اور سسکیوں کے درمیان وہ دعا ایک ایسی روحانی بارش تھی جس نے ہر دل کو تر و تازہ کر دیا۔دعا کے بعد منظر خوشیوں کے ایک نئے رنگ میں ڈھل گیا ، گویا عید کا سماں ہو، بچے، اساتذہ اور والدین ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔حفاظ بچوں کو ہار پہنائے جا رہے تھے،کوئی خوشی کے آنسو پونچھ رہا تھا، کوئی اپنے بیٹے کے سر پر فخر سے ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ اس لمحے ہر چہرہ روشن تھا اور ہر دل مطمئن۔
مولانا لطف الرحمن یوسف زئی نے اپنے خطاب میں حاملینِ قرآن کے مقام و مرتبہ اور ان پر اللہ کی خاص عنایت کا ذکر کیا اور اس بات کی تاکید کی کہ قرآن صرف یاد کرنے کے لئے نہیں، بلکہ عمل کرنے کے لئے ہے۔تقریب میں شہر کے مختلف گوشوں سے آئے ممتاز علماء کرام اور معززین کی موجودگی نے اس اجتماع کو ایک منفرد شان بخشی۔ کچھ مہمان اس روحانی ماحول میں اتنے محو تھے کہ وقت کا احساس تک نہیں رہا۔ کیمروں کی فلیش لائٹس لمحوں کو قید کر رہی تھیں تاکہ یہ یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں۔اس یادگار محفل کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ہر چہرے پر ایک پیغام لکھا نظر آ رہا تھا کہ یہ بچے صرف ادارے یا والدین کی خوشی نہیں، بلکہ امت مسلمہ کا سرمایہ ہیں۔ سامعین میں موجود بزرگ یہ منظر دیکھ کر پرانے وقتوں کو یاد کر رہے تھے، جب گلی کوچوں میں قرآن کی تلاوت کی صدائیں گونجتی تھیں۔ نوجوانوں کے لئے یہ تقریب ایک عملی درس تھی کہ کامیابی کا اصل معیار دنیاوی ڈگریاں نہیں بلکہ اللہ کا کلام اپنے دل میں بسانا ہے۔
ادارہ معارف القرآن کے اساتذہ کی محنت اور قربانیوں کا ذکر بھی بار بار ہوتا رہا۔ کسی نے بتایا کہ یہ بچے صبح سویرے سے رات گئے تک محنت کرتے رہے، کبھی سردیوں کی ٹھنڈی ہوا میں اور کبھی گرمی کی شدت میں، مگر قرآن کے ہر لفظ کو یاد کرنے کا جذبہ ان کے عزم کو مزید جلا دیتا رہا۔ والدین کی آنکھوں میں چمک اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ یہ سفر آسان نہ تھا، لیکن اس کا انجام سب سے خوبصورت تھا۔جب محفل اپنے اختتام کو پہنچی تو یہ محض ایک تقریب کے ختم ہونے کا لمحہ نہیں تھا، بلکہ ایک عہد کی تجدید تھی۔ سب کے دلوں میں یہ احساس تازہ ہو گیا کہ قرآن وہ رسی ہے جو ہمیں رب العالمین سے جوڑتی ہے اور جب تک ہم اس کو تھامے رہیں گے، روشنیوں کا یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔
قرآن پاک کے نور سے جہالت کی تاریکیاں کافور ہو جائیں گی، اس دن کا پیغام یہ تھا کہ اگر دلوں میں قرآن بسا ہو تو زندگی تاریکیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے،تاریکیوں کے سوداگر بھاگ جاتے ہیں،ادارہ معارف القرآن کراچی کے سینے پر اللہ کی رحمتوں کے نزول کا ذریعہ ہے ،مجھے پاکستان کا ہر وہ تعلیمی ادارہ عزیز ہے،جہاں قوم کے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کی جاتی ہے ،میرے نذدیک تربیت کے بغیر تعلیم دینا گدھے پہ کتابوں کا بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے ،ہر وہ تعلیمی ادارہ زمین پر بوجھ ہے کہ جہاں تعلیم کے نام پر قوم کے بچوں کو گوئیے،ڈانسر ،ماں باپ کا نافرمان اور اسلامی تہذیب و تمدن کا باغی بنایا جاتا ہے،ہر وہ سوکالڈ پروفیسر ،ٹیچر،پرنسپل،ہیڈ ماسٹر ملک و قوم کا مجرم ہے کہ جو یورپ کے فنڈز ہضم کرنے کے لئے اپنے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کے عقائد ونظریات اور اخلاق و کردار کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے , نظریات فروشوں کے اتوار بازار میں خادم قرآن مولانا عبدالوحید کشمیری وہ جگمگاتا ہوا ستارہ ہیں کہ جس کی روشنی سے قوم کے ہزاروں بچے مستفید ہو رہے ہیں ۔