Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

بھارت کی آبی دہشت گردی

پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائوں کا بہائو صدیوں سے دونوں ممالک کے لوگوں کے لیے زندگی کا سہارا رہا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور چناب، جو بھارت سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، پنجاب اور سندھ کے کسانوں کے کھیتوں کی آبیاری کرتے ہیں، لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں اور پاکستان کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے ان دریائوں کا پانی پاکستان کے لیے خیر کا باعث بننے کے بجائے تباہی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ بھارت کی جانب سے ڈیموں سے اچانک پانی چھوڑنے کے واقعات اب کوئی اتفاقیہ یا قدرتی موسمی تغیرات کا نتیجہ نہیں رہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جو پاکستان کو معاشی، زرعی اور انسانی نقصان پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ بھارت کی یہ آبی دہشت گردی پاکستان کے کھیتوں کو ڈبو دیتی ہے، آبپاشی کے نظام کو درہم برہم کرتی ہے، غریب آبادیوں کو بے گھر کرتی ہے اور زرعی معیشت کو تباہ کرتی ہے۔ یہ اقدامات محض ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسی سازش ہے، جو پاکستان کے آبی تحفظ کو غیر مستحکم کرنے اور خطے میں بدامنی پھیلانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
1960ء میں عالمی بینک کی وساطت سے طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائوں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا، جبکہ ستلج، بیاس اور راوی بھارت کے حصے میں گئے۔ معاہدے کی رو سے بھارت کو اپنے ڈیموں سے پانی چھوڑنے سے قبل پاکستان کو پیشگی اطلاع دینا لازم ہے تاکہ سیلابی صورتحال سے بچا جا سکے۔ لیکن بھارت بارہا اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔ اچانک پانی چھوڑنے کے واقعات، جن کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی جاتی، پاکستان کے لیے غیر متوقع سیلابوں کا باعث بنتے ہیں۔ ان سیلابوں سے نہ صرف فصلیں تباہ ہوتی ہیں بلکہ دیہات اجڑتے ہیں، لوگ بے گھر ہوتے ہیں اور معاشی نقصانات اربوں روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔سندھ طاس معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے، لیکن اس کی پاسداری کے لیے کوئی موثر عالمی میکینزم موجود نہیں۔ بھارت اس معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نہ صرف اپنے ڈیموں سے پانی چھوڑتا ہے بلکہ کشمیر میں نئے ڈیموں کی تعمیر کے ذریعے پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ یہ نہ صرف معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ایسی آبی دہشت گردی ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے ۔ بھارت کا نیا حربہ یہ ہے کہ وہ اپنی آبی دہشت گردی کو ماحولیاتی تبدیلی کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے بھارت عالمی تنقید سے بچتا ہے اور اپنے اقدامات کو جواز فراہم کرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پانی کے بہائو کو کنٹرول کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے، جس کا مقصد پاکستان کے زرعی اور معاشی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔پنجاب اور سندھ کے کسان، جو اپنی روزی روٹی کے لیے ان دریائوں پر انحصار کرتے ہیں، اس آبی دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ اچانک آنے والے سیلاب ان کے کھیتوں کو تباہ کر دیتے ہیں، ان کی فصلوں کو برباد کر دیتے ہیں اور انہیں معاشی بدحالی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ یہ صرف زرعی نقصانات کی بات نہیں، بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع، دیہاتوں کی تباہی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان بھی اس کا حصہ ہے۔بھارت کی آبی دہشت گردی کے اثرات صرف زرعی یا معاشی نقصانات تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو پاکستان کی قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔ جب کسان اپنی فصلیں کھو دیتے ہیں، جب دیہات زیر آب آتے ہیں اور جب لوگ بے گھر ہوتے ہیں، تو اس سے معاشرتی عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ یہ عدم استحکام پاکستان کے اندر بدامنی اور سیاسی انتشار کو ہوا دے سکتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اور پانی جیسے حساس معاملے کو ہتھیار بنانا ان تعلقات کو مزید خراب کرتا ہے۔ اگر اس صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ خطے میں ایک بڑے تصادم کا باعث بن سکتی ہے، جس کے نتائج ناقابل تلافی ہوں گے۔عالمی برادری کی ذمہ داریاس آبی دہشت گردی کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک موثر اور شفاف میکینزم کی ضرورت ہے۔ پانی کے بہائو کی آزادانہ نگرانی، ڈیموں سے پانی چھوڑنے سے قبل پیشگی اطلاع اور معاہدے کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی کا نظام ناگزیر ہے۔ عالمی اداروں، جیسے کہ اقوام متحدہ اور عالمی بینک، کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روش کو روکا جا سکے۔مشترکہ آبی انتظامات کے ذریعے ہی پانی کو تباہی کے ہتھیار سے امن کی علامت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا، اور اس کے لیے عالمی دبائو ضروری ہے۔ اگر بھارت اپنی آبی دہشت گردی کی پالیسی پر قائم رہتا ہے تو خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔آگے کا راستہ پاکستان کو اس آبی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، پاکستان کو عالمی فورمز پر اس معاملے کو زوروشور سے اٹھانا چاہیے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہوگا۔ دوم، پاکستان کو اپنے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے اندرونی طور پر مضبوط اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے کہ واٹر مینجمنٹ سسٹم کو بہتر کرنا، نئے واٹر ریزروائرز کی تعمیر اور سیلاب سے بچائو کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا۔اس کے علاوہ، پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا تاکہ عالمی برادری بھارت پر دبائو ڈالے کہ وہ اپنی آبی دہشت گردی کی پالیسی کو ترک کرے۔ پانی کو ہتھیار بنانے کے بجائے دونوں ممالک کو اسے امن اور ترقی کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، لیکن بھارت کی آبی دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی زرعی معیشت اور انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی دائو پر لگاتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کی آڑ میں بھارت کی جانب سے ڈیموں سے اچانک پانی چھوڑنا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو سفارتی، قانونی اور اندرونی سطح پر مضبوط اقدامات کرنے ہوں گے۔ عالمی برادری کو بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی تاکہ پانی کو ہتھیار کے بجائے امن کی علامت بنایا جا سکے۔ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں