اللہ تعالیٰ نے ا خلاق حسنہ کی دولت سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو عطا فرمائی اورحضرت آدم علیہ السلام سے انبیاء اور رسولو ں نے تر کہ میں پائی ہے یہاں تک کہ حضرت سیدعالم ﷺتک پہنچااور آپ سے آپ کی امت کو ملا ہے۔ اسی طرح تمام برے اخلاق تقسیم کے وقت شیطان کو دئیے گئے اوراس سے متکبروں اورنافر مانی کرنے والوں تک پہنچے اور یہی شیطان کے پیروکار کہلائے تو جو کوئی شریعت کی پیروی میں زیادہ مضبوط ہو گا اس کی خصلت بھی اچھی ہو گی ۔ جو شخص آپ ﷺ کی پیروی کرتا ہے اس کو لازم ہے کہ اس طرح زندگی بسر کرے جیسی حضور اکرم ﷺ نے کرنے کا حکم دیا۔ لوگوں کے ساتھ بد مزاجی سے پیش نہ آئے تاکہ مروت مٹ نہ جائے اور بد خصلتی نہ کرئے تاکہ خوش دلی میں فرق نہ آنے پائے ۔ ہر وقت ہنس مکھ اور کم بولنے والارہے جس سے ملے پہلے خود سلام کرے ۔کیونکہ حضرت محمد مصطفےﷺ کی ملاقات اصحاب کے ساتھ اگر ایک دن میں سو مرتبہ بھی ہوتی تو آپ ﷺ ہر بار اپنے ملنے والے کو سلام میں پہل کرتے تھے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ کی عمر میں کبھی اس کا موقعہ نہ آیا کہ رات تک آپ ﷺ کے پاس ایک درہم یا ایک دینار باقی بچا ہو۔ اگر اتفاق سے کچھ رہ جاتا تو جب تک کسی کو دے نہ دیتے آپ ﷺ حجرے میں تشریف نہ لے جاتے۔ کسی کی غیبت ،گالی اور جھوٹ زبان سے نہ نکالے اور اپنے کاموں میں زیادہ تکلف اور بڑھائو چڑھائو کرنے سے پرہیز کرے ۔کیونکہ اچھے اخلاق کی صفت بے تکلفی اور سادگی ہے ۔
اپنے احوال واعمال اور گفتگو میں سچائی کے دامن کو نہ چھوڑے اور شریعت کی اتباع میں کھانا ،سونا ، پہننا اور بولنا کم کر دے اور ہر حال میں ہمت بلند رکھے اور کسی لالچ کے ساتھ اپنے کو آلودہ نہ کرے اور شک و شبہ اور برباد کردینے والے خیالات سے کنارہ کشی اختیار کرے اور اس کی کوشش کرتا رہے کہ ہر حال میں حضرت محمد مصطفے ﷺ کے اخلاق کی پیروی ہو ۔جہاں تک ہو سکے برے اخلاق سے پرہیز کرے ۔بلکہ اسے اپنے پاس بھی نہ آنے دے تاکہ اس کی نسبت شیطان سے نہ ملنے پائے اور کسی وقت شیطان کی طرح بد کر دار اور بد زبان نہ ہو ۔حضور اکرم ﷺ سے نقل ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو تجھ سے کٹ جانا چاہے اس سے مل اور جو تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کر دے اور جو تجھ کو کچھ نہ دے تو اس کو دے‘‘۔ حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا کہ لوگوں کو اللہ کی راہ پر لانے کے لئے حکمت کے ساتھ نرم الفاظ میں نصیحت فرمائیں ، جب موسیٰ علیہ السلام کو ہارون علیہ السلام کے ساتھ فرعون کی تبلیغ کے لئے بھیجا گیا تو ان سے کہا گیا ۔(اس سے نرم گفتگو میں باتیں کرنا) ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے دس برس تک حضرت سرورِ عالم ﷺ کی خدمت کی ۔ اتنے دنوں میں کسی کام پر مجھ کو نہیں کہا کہ تونے کیوں کیا؟ یا برا کیا۔جب میں اچھا کام کرتا تو آپﷺ دعا دیتے تھے اور جب کوئی کام خراب ہو جاتا تھا تو فرماتے تھے ۔(اللہ کا حکم اس کی قدرت میں پوشیدہ تھا) وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے گھوڑے کا دانہ گھاس خود دیتے ۔اپنے ہاتھ سے کپڑے سیتے اور پیوند لگاتے ،گھر کے کاموں میں خادموں کے ساتھ شریک ہو جاتے ،جوتوں کے بند ٹوٹ جاتے تو اپنے دستِ مبارک سے ٹانکتے ،خود جھاڑو دیتے اور چراغ جلاتے تھے ۔اگر کسی کو آپ ﷺ کوئی کام کرنے کے لئے کہتے اور وہ اپنی حماقت اور نادانی کی وجہ سے نہ کرتا اور دوسرے لوگ اس پر لعن طعن کرتے اور تکلیف پہنچاتے تو آپ گوارانہ فرماتے اور اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ حضور اکرم ﷺ کی تمام عمر گالی گلوچ، طعنہ و تشنیع کے الفاظ زبان پر نہیں آئے ۔ آپ کا چہرہ مبارک ہمیشہ ہنستا ہوا ہوتا اور اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ کے پاس پہنچ جاتا تو آپ ہی سلام کے لئے سبقت فرماتے اور اصحابؓ کے ساتھ اس طرح گھل مل کر بیٹھتے تھے کہ کوئی امتیاز نہ ہوتا تھا ۔یہاں تک کہ اجنبی کو پہچاننے میں شبہ ہوتا تھا کہ حضور اکرم ﷺ کون ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزت و تکریم کی وجہ سے ان کے نام نہ لیتے بلکہ ان کی کنیت وغیرہ سے پکارتے تھے ۔اگر کسی کی کنیت نہ ہوتی تو اس کی ایک کنیت آپ خود رکھ دیتے اور اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے یا کوئی دوسرا شخص آپ کو پکارتا تو لبیک فرمایا کرتے تھے ۔ اگر بچوں کی منڈلی کی طرف سے گزرتے تو ان کو سلام کرتے اور مسلمانوں کا عیب ہمیشہ چھپایا کرتے تھے ۔ جیسا کہ ایک چور کو آپ ﷺ نے فرمایا ۔اسرقت قل لا ۔ (تو نے چوری کی ؟ کہہ دے نہیں) بال بچوں اور غلاموں کا حق برابری کے ساتھ جس طرح شریعت میں ہے لحاظ رکھتے اور دین کی تبلیغ کرنے میں کفار کی گالیاں ،لعن طعن اور مارتک برداشت کرتے ،کبھی کسی سائل کو محروم واپس نہ کرتے ۔اگر کچھ موجود ہوتا تو دیتے ورنہ فرماتے اگر خدا نے چاہا تو ہم دیں گے ۔اپنے کام کے لئے آپ کسی پر غصہ نہ کرتے اور دین حق کے اعلان میں خوف سستی اور تغافل نہ فرماتے ۔ پریشانی اور بیماری کی حالت میں اپنے دوستوں کی مدد کرتے ۔اگر کسی وقت ان کو نہ دیکھتے تو ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔ اگر آپ ﷺ کا غلام بیمار پڑجاتا تو اس کی جگہ آپ خود اس کا کام انجام دیتے تھے ۔ بازار سے سودا لادیتے تھے ۔آزاد اور غلاموں کی دعوت قبول فرماتے اور تحفہ لے لیتے تھے ،اگر چہ ایک گھونٹ دودھ ہی کیوں نہ ہوتا۔ آپ کے یار دوست جو کھانا بھی ،اگر جائز ہوتا جیسے خرگوش وغیرہ پیش کرتے تو شوق سے کھالیتے ۔کبھی کھانے میں عیب نہ نکالتے اور جو کپڑا جن کا پہننا مباح ہے جب کبھی مل جاتا تھا پہن لیتے تھے ۔کبھی کمبل ،کبھی یمن کی چادر، کبھی کھدر اور کبھی سفید کپڑا پہنا کرتے تھے اور جو سواری مل جاتی تھی اس پر سوار ہوتے تھے ۔کبھی گھوڑا ،کبھی اونٹ ،کبھی گدھا ،کبھی پیدل، کبھی ننگے پائوں، کبھی بغیر کسی چادر کے اور کبھی بغیر پگڑی اور ٹوپی کے راستہ چلتے تھے ۔جیسا موقع ہوتااور اس چٹائی پرجس پر کوئی بستر نہ ہوتا آرام فرماتے تھے ۔ کوئی شخص آزاد یا غلام یا لونڈی باندیوں میں سے اپنی ضرورت کے لئے آپ کو بلاتا تو کبھی ایسا نہ ہوا کہ حضور اکرم ﷺ نے ان کے کاموں کو قبول نہ کیا ہو ۔اگر کوئی شخص کسی ضرورت سے آپ کے پاس آتا اور آپ نماز میں مشغول ہوتے تو آہستگی کے ساتھ جلد نماز پوری کر کے اس کی طرف متوجہ ہو جاتے اور اس کی ضرورت پوری کر کے پھر نماز پڑھنے لگتے ۔جو کوئی آپ ﷺ کے پاس آتا تھا اس کی تعظیم فرماتے تھے اور اس کے بیٹھے کو اپنی چادرِ مبارک بچھا دیتے تھے اور اپنا تکیہ اس کو دے دیتے تھے۔