(گزشتہ سے پیوستہ)
میں نے تعمیل ارشاد میں انہیں آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ آپ نے ان سے دریافت کیا کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم طائف کے باشندے ہیں ‘ حضرت فاروقؓ نے فرمایا کہ اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو اپنے کیے کی ضرور سزا پاتے ‘ تم حضور اقدس ﷺ کی مسجد مبارک میں اس طرح بلند آواز سے باتیں کر رہے ہو۔ میں نے تمہیں محض مسافر ہونے کی وجہ سے معاف کر دیا ہے۔
مسجد نبویؐ شریف میں جتنا وقت گزاریں ذکر و فکر ‘ عبادت ‘ ریاضت ‘ تلاوت اور صلوٰۃ و سلام میں مصروف رہیں‘ وہاں فرض نماز کے بعد افضل ترین عبادت سید الاتقیاء و الابرار ﷺ کی خدمت عالیہ میں ہدیہ صلوٰۃ و سلام پیش کرنا ہے‘ اس حاضری کو غنیمت سمجھیں وقت کی قدر کریں ‘ لغو اور بے ہودہ باتوں سے پرہیز کریں۔ نماز باجماعت کا سختی سے اہتمام کریں اور کوئی بدبودار چیز کھاکر یا لے کر مسجد نبویﷺ میں نہ جائیں۔
مسجد نبویؐ شریف کے غایت احترام کا تقاضا تو یہ ہے کہ جوتا بھی اندر لے کر نہ جائیں‘ بلکہ دروازوں کے باہر رکھی ہوئی الماریوں میں رکھیں۔ اس شاہی دربار کی تعظیم و توقیر میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے‘ فرض نماز صف اول میں ادا کرنے کی کوشش کریں اور نوافل حتی المقدور ریاض الجنہ میں پڑھیں۔ عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ سحری کے وقت جب دروازے کھلتے ہیں تو لوگ جگہ حاصل کرنے کے لئے خوب دوڑ لگاتے ہیں۔ حالانکہ یہ حرکت انتہائی نازیبا اور آداب مسجد کے بالکل خلاف ہے‘ اس سے گریز کریں ۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ مسجد نبوی کا اطلاق صرف اس حصہ پر نہیں ہوتا ‘جو رحمت کائناتﷺ نے تعمیر فرمائی تھی‘ بلکہ مسجد کی مستقل او ر عارضی تمام عمارت پر مسجد نبوی شریف کا اطلاق ہوتا ہے۔ فضائل و برکات اور اجرو ثواب کے اعتبار سے ساری مسجد یکساں ہے اگر ہجوم کی وجہ سے مسجد شریف کے اندر نماز پڑھنے کے لئے جگہ نہ مل سکے تو ایسی صورت میں باہر پڑھی جانے والی نمازیں بھی کامل اجرو ثواب کی حامل ہے‘ البتہ بلاعذر اور غفلت کی وجہ سے باہر نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا۔ میری اس مسجد کو اگر صنعاء (یمن) تک وسیع کر دیا جائے تو پھر بھی یہ میری ہی مسجد ہے۔
مسجد نبوی ؐکی پہلی تعمیر اور صحابہ کرامؓ کا ذوق و شوق: جب سرور کون ومکان ‘ سلطان زمین و زمان ﷺ سرزمین مدینہ میں قدم رنجہ فرما ہوئے تو سیدناابوایوب انصاریؓ کے مکان کو اپنے قیام سے رونق بخشی ‘ دعوت اسلام کی ہمہ وقتی مصروفیت ‘ وفود کی ملاقاتوں کا لامتناہی سلسلہ اور جاں نثار مسلمانوں کے بہت سے دوسرے حل طلب مسائل کے باوجود آپﷺ نے مسلمانوں کے لئے ایک مضبوط مرکز کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر تعمیر مسجد کا منصوبہ فوری طور پر بنالیا۔
مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد آپ کچھ دن مختلف مقامات پر نماز پڑھتے رہے۔ کبھی حضرت اسعد بن زرارہؓ کی مسجد میں اور کبھی کسی دوسری جگہ بھی پڑھ لیتے۔
یہ سنگ بنیاد کسی پر شکوہ اور فلک بوس عمارت کا نہیں ‘ بلکہ ایک انتہائی سادہ سی مسجد کا رکھاجارہا تھا۔ اگرچہ اس کی عمارت دینوی نقش و نگار سے مبرانہیں تھی۔ مگر اسلام کی شان و شوکت کی نشانی‘ معراج انسانی کا نقطہ ‘ عروج ‘ قضائے الٰہی کا مرکز اور حبیب کبریاﷺ کی خوشنودی کا مظہر جمیل تھا۔
بھلا اس سے زیادہ باعظمت عمارت‘ اس سے پاکیزہ تر تعمیر اور اس سے زیادہ مقدس جگہ کون سی ہو سکتی ہے ‘جسے محبوب کا ئناتﷺ کی سجدہ گاہ ہونے کا شرف نصیب ہوا‘ جسے تبلیغ و تعلیم کا مرکز ‘ دینی سطوت کا نشان اور اسلام کی سربلندی و سرفرازی کا سر چشمہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی کھجور کی بنی ہوئی بے نمود چھت پر شب و روز خدا کی کروڑوں رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اس میں سجدہ ریز بندگان خدا بھی سادگی کا مرقعہ ‘ خلوص کے پیکر‘ ایثار کے مجسمے ‘ شمع رسالت کے پروانے اور جاں نثار ان شمع رسالتﷺ کے دیوانے تھے۔ جن کے لئے تمام نعمت و سعادت صرف دیدار رسول مقبولﷺ تھا:
سیدنا انسؓ کی روایت میں ہے ’’ جب اونٹنی بیٹھ گئی تو فخر کون و مکان ‘ سرور زمین و زماںﷺ نے فرمایا ‘ ہماری آل میں سے کس کا مکان قریب ہے؟ حضرت ابوایوب انصاریؓ نے عرض کی کہ میرا مکان قریب تر ہے۔ یہ میرا مکان اور یہ اس کا دروازہ ہے‘‘۔
مسلم شریف کی روایت میں ہے ’’ جب لوگوں میں آپ کی میزبانی کے متعلق جھگڑا ہونے لگا۔ تو آپﷺ نے فرمایا میں بنو نجار کے ہاں اتروں گا‘ جو عبدالمطلب کے ماموں ہیں‘‘۔
اس جگہ مسلمان نماز پڑھتے تھے۔ اور وہ قطعہ اراضی سیدنا اسعد بن زارارہ ؓ کے زیر کفالت دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھا۔ جو وہاں کھجوریں خشک کرتے تھے۔ آپﷺ نے ان بچوں کو بلایا اور اس جگہ مسجد بنانے کے لئے اس کھلیان کی قیمت دریافت فرمائی‘ ان بچوں نے قیمت لینے سے انکار کیا اور بلامعاوضہ ہبہ کرنے کی پیش کش کی۔ مگر محسن انسانیت ﷺ نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اسے مسترد فرما دیا۔ جیسا کہ بخاری شریف کی اس روایت سے عیاں ہے۔
’’ آپ نے بلا قیمت قبول فرمانے سے انکار کیا۔ بالآخر ان سے قیمتاً خرید کر وہاں مسجد بنا دی‘‘۔
سید نا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں‘ فخر دو عالمﷺ نے قبیلہ بنو عمروبن عوف کے ہاں قباء میں چودہ دن قیام فرمایا‘ پھر قبیلہ بنو نجار کو طلب فرمایا۔ وہ لوگ ہتھیار سجا کر بڑی شان و شوکت کے ساتھ حاضر خدمت اقدس ہوئے۔ جب ہم چشم شعور سے دیکھتے ہیں تو اب بھی وہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگتا ہے۔
رحمت کائناتﷺ اونٹی پر سوار اور ابوبکر صدیقؓ آپ کے ہم رکاب تھے‘ اور بنو نجار آپ کو گھیرے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ آپﷺ نے اپنا سامان حضرت ابوایوب انصاریؓ کی رہائش گاہ کے سامنے اتار دیا۔
ابتدائی ایام میں جہاں نماز کا وقت ہوتا۔ وہیں نماز پڑھ لی جاتی‘ بعض اوقات بکریوں کے باڑہ میں بھی پڑھ لیتے‘ پھر آپﷺ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ آپﷺ نے بنو نجار کے سر کردہ افراد کو طلب کیا اور ان سے کہا کہ تم اپنا یہ باغ میرے ہاتھوں فروخت کر دو۔ انہوں نے جواباً عرض کیا ‘ نہیں: خدا کی قسم! ہم اس کا معاوضہ اللہ تعالیٰ سے لیں گے۔(جاری ہے)