Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

برطانیہ میں ‘یونائیٹ دی کنگڈم مارچ

برطانیہ جو دنیا بھر میں کثیر الثقافتی معاشرے کی ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے، آج کل شدید بے چینی کا شکار ہے۔ یہ ملک جو دنیا بھر سے آنے والے تارکین وطن کی بدولت اپنی معیشت اور ثقافت کو رنگارنگ بناتا رہا ہے، اب ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی لچک اور ہم آہنگی کی بنیادوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ 13 ستمبر 2025 کو لندن میں ہونے والا “یونائیٹ دی کنگڈم” ملین مارچ اسی اضطراب کی ایک واضح علامت ہے۔ یہ مارچ کوئی عام احتجاج نہیں، بلکہ ریفارم پارٹی اور دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے ایک منظم تحریک ہے، جو امیگریشن، حکومتی پالیسیوں اور برطانوی ثقافتی شناخت کے خلاف عوامی بغاوت کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔ نائجل فریج اور ٹومی رابنسن جیسے دائیں بازو کے رہنما اسے “ملک واپس لینے” کی تحریک کا نام دے رہے ہیں، جہاں امیگرنٹس کو برطانیہ کی معیشت، سلامتی اور ثقافت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مارچ کے راہنماوں کا مؤقف ہے کہ برطانیہ میں امیگرنٹس کی کثیر تعداد وسائل پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی ثقافت آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔ ان کے مطالبات میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی امیگرنٹس کی ملک بدری، یورپی انسانی حقوق کنونشن سے مکمل علیحدگی اور مقامی شہریوں کو روزگار، رہائش اور دیگر سہولیات میں ترجیح دینا شامل ہے۔ حکومت پر الزام ہے کہ وہ اپنے وعدوں کے باوجود سرحدوں کو محفوظ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس)، تعلیم اور رہائش جیسے شعبے شدید دباؤ کا شکار ہیں جبکہ جرائم کی شرح، خاص طور پر چاقو حملوں اور گینگ وائلنس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ریفارم پارٹی کے مطابق، برطانیہ میں ہر سال لاکھوں مہاجرین کی آمد سے مقامی شہریوں کی ملازمتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ تحریک حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے کہ امیگریشن کے دروازے بند کیے جائیں، روزانہ ڈیپورٹیشن فلائٹس شروع ہوں اور ریاست صرف برطانوی شہریوں کے مفادات کو ترجیح دے۔
اس تناظر میں، برطانیہ میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی، جو سب سے بڑی اقلیت ہے، کو خصوصی طور پر احتیاط برتنی ہوگی۔ لاکھوں پاکستانی نژاد شہری یہاں کاروبار، سیاست، تعلیم اور طب کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ برطانیہ کی معیشت میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈال رہے ہیں، ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور اپنی محنت سے اس ملک کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ لیکن اس نئی سیاسی فضا میں، جہاں میڈیا اور دائیں بازو کے رہنما جرائم، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے اکا دکا واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، پاکستانی کمیونٹی کی ساکھ ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ چند افراد کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر پوری کمیونٹی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ تارکین وطن خصوصا مسلمان اپنی اصل پہچان کو اجاگر کریں کہ وہ قانون کی پاسداری کرنے والے اور محنتی شہری ہیں، جو برطانیہ کیلئے ایک اثاثہ ہیں۔
یہ احتجاج ایک واضح وارننگ ہے کہ اب صرف خاموش رہنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ یہاں باہر سے آکر بسنے والوں کو اپنے رویوں میں عملی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ انگریزی زبان سیکھنا، مقامی کلچر کو سمجھنا اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے، علیحدگی کے بجائے معاشرتی ہم آہنگی کو اپنانا ہوگا۔ جرائم کا ارتکاب یا قانون شکنی نہ صرف انفرادی سطح پر نقصان دہ ہے، بلکہ پوری کمیونٹی کی ساکھ کو بھی داغدار کرتی ہے۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی سے مکمل دوری اختیار کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ، تعلیم، کاروبار اور ٹیکس ادائیگی کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ امیگرنٹس برطانیہ کی ترقی میں حصہ دار ہیں۔ کمیونٹی ورک، ووٹنگ اور مثبت سماجی سرگرمیوں میں فعال شرکت سے یہ تاثر ختم کیا جا سکتا ہے کہ تارکین وطن ایک بوجھ ہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک کے تارکین وطن کو سیاسی نمائندگی کو مضبوط بنانا ہوگا، نوجوان نسل کو تعلیم اور میڈیا کے ذریعے مثبت کردار کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ تمام ذمہ داری صرف مہاجرین پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ برطانوی حکومت اور معاشرہ بھی اس بحران کے ذمہ دار ہیں۔ اگر ریاست زبان سیکھنے کے کورسز اور مساوی مواقع فراہم کرے، تو مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ نسل پرستی اور تعصب کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایک منصفانہ اور ہم آہنگ معاشرہ قائم رہے۔ اگر عوامی دباؤ بڑھتا گیا تو، بڑے پیمانے پر ملک بدری، انسانی حقوق کی معطلی اور سخت قوانین کا نفاذ ممکن ہے۔ یہ وقتی طور پر مقامی شہریوں کو مطمئن کر سکتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ معاشرتی انتشار اور تقسیم کو مزید بڑھا دے گا۔ اس کے برعکس، اگر حکومت مسائل کے حل کی طرف توجہ دے جیسے معاشی بحران، عوامی خدمات پر دباؤ اور عدم مساوات کا خاتمہ تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ مہاجرین کو ذمہ دار شہری بنانے کے پروگرامز معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
پاکستانی حکومت کو بھی اس معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ اپنی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کی آواز سنی جائے۔ اگر برطانیہ میں نفرت کی سیاست کو نہ روکا گیا تو یہ نہ صرف تارکین وطن بلکہ خود برطانیہ کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوگا۔ برطانیہ کی کامیابی ہمیشہ اس کی انصاف پر مبنی پالیسیوں اور باہمی ہم آہنگی میں رہی ہے؛ اگر ‘ہم اور وہ‘کی یہ تقسیم ختم نہ ہوئی، تو انتشار اس ملک کا مقدر بن سکتا ہے۔
پاکستانی کمیونٹی کے لیے پیغام بالکل واضح ہے کہ قانون کی پاسداری اور مثبت کردار اپنانا ہوگا۔ اس سے نہ صرف کمیونٹی کا مستقبل محفوظ ہوگا، بلکہ برطانیہ بھی اپنی انصاف پر مبنی پالیسیوں اور ہم آہنگی کو قائم رکھ سکے گا۔ ورنہ، تقسیم اور انتشار کا راستہ اس ملک کے خوابوں کو بکھیر سکتا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ برطانیہ کو اپنا گھر سمجھیں اور اس کی ترقی میں اپنا مکمل حصہ ڈالیں۔ صرف اسی صورت میں بائیں بازو کے راہنماؤں کی طرف سے چلائی جانے والی تحریک ان کے لیے ایک مثبت موقع بن سکتی ہے نہ کہ مستقبل کیلئے کوئی خطرہ۔

یہ بھی پڑھیں