’’وفاق المدارس العربیہ‘‘کو ابھی تک پاکستانی قوم اپنی آن، بان اور شان سمجھتی ہے،قوم کے چالیس لاکھ کے لگ بھگ طلباء وطالبات کی تعلیمی و تربیتی ،اخلاقی اعمالی ضروریات کو پوری کرنے کی کوششوں میں مصروف اس ’’وفاق‘‘کو یہ خاکسار ملک وقوم کے لئے باعث رحمت اس لئے سمجھتا ہے کیونکہ یہ آسمانی علوم سے بہرہ مند کرکے قوم کے بچوں کو مخلص پاکستانی بنا رہا ہے،صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ وفاق المدارس کے ڈگری ہولڈر دنیا کے جس ملک میں بھی گئے وہاں انہوں نے نہ صرف یہ کہ علوم نبوت کو پھیلایا، بلکہ اسلام کے پیغام امن کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے بہترین اور مفت سفارت کاری کا فریضہ بھی سر انجام دیا،جب میں یہ سوچتا ہوں کہ وفاق المدارس کے اکابرین لمحہ موجود میں بھی نائین الیون کے ایجنڈے کے خلاف برسر پیکار ہیں تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ،گو کہ نائین الیون کی صہیونی کوکھ نے کچھ ’’ٹائوٹ ملاں‘‘ اور سو کالڈ ٹائوٹ مفتی بھی اگلے ہیںاور وہ سوشل میڈیا کے ذریعے مردے گڑھے اکھاڑ کر’’گھڑمس‘‘پیدا کر کے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن وفاق المدارس کی برکت سے ’’ٹائوٹ ملاں‘‘کی ’’لنکا‘‘ میں جب زلزلہ برپا ہوا تو سوشل میڈیا ، ٹیوٹر،اور یو ٹیوب کچھ بھی اسے بچا نہ پائے گا، وفاق المدارس کے اکابرین بالخصوص مجلس عاملہ کی خدمت میں اس خاکسار کی یہ درد مندانہ اپیل ہے کہ نائن الیون کا وہ ایجنڈا جو امریکہ نے رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو تفویض کیا تھا اج تک جاری و ساری ہے اور دینی مدارس کا وہ اندرونی نظام کہ جس کو تقویٰ للہیت، خوف خدا، حب رسول ﷺحب صحابہؓ و اہل بیتؓ ، تابعین، تبع تابعین اور اولیاء کرام کی محبت ،اساتذہ کرام کے بے حد احترام کی مضبوط فصیلوں نے گھیر رکھا تھا۔
صیہونی ،صلیبی طاقتوں اور ان کے دستر خوان کے مقامی راتب خوروں کی مسلسل کوششوں اور سازشوں کی وجہ سے وہ کافی حد تک متاثر نظر آ رہا ہے، پاکستان کی مسلم نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے لئے صرف کالجز اور یونیورسٹیز میں ہی نہیں ،بلکہ ہائی اسکولوں کی سطح پر بھی الحاد ازم کے گند کو پھیلایا جا رہا ہے’’الحاد ازم‘‘کے اسی گند کو مدارس میں گھسانے کے لئے باطل پرست ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ،ان صہیونی صلیبی سازشوں سے تمام دینی مدارس کے اساتذہ کرام ،مہتمین اور طلباء وطالبات کو آگاہی دینا لازم ہے’’معیشت‘‘کے نام پر دینی مدارس والوں کو لالچ ،خود غرضی اور دنیا کا مریض بنانے کی کوششیں کرنے والے ٹائوٹ ملاں مافیا کے حوالے سے طلبا وطالبات اور اساتذہ کرام کو بتانا پڑے گا کہ یہ کم ظرف تو خود امریکہ اور یورپ کے ’’منگتے‘‘ہیں،اور کفریہ طاقتوں کے یہ منگتے تمہاری معیشت درست کیسے کریں گے ؟ اس لئے وفاق کے اکابرین سمیت پوری قوم کو اس حوالے سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،اب بڑھتے ہیں وفاق المدارس کے اجلاس کی روئیداد کی طرف ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس جامعہ دارالعلوم کراچی میں صدر وفاق مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی صدارت میں ہوا۔مولانافضل الرحمن سرپرست وفاق المدارس، مولانا انوار الحق سینئر نائب صدر،مولانا مفتی مختار الدین شاہ سرپرست وفاق المدارس سمیت ملک بھرکے ممتاز علماء کرام، دینی مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اس موقع پر مدارس کو درپیش مختلف مسائل زیر بحث آئے۔ خاص طور پر مدارس کو عسکری تحریکوں یا دہشت گردی کے واقعات سے نتھی کرنے اور مختلف علاقوں میں ہونے والی شورش کے بہانے سے مدارس کو پریشان کرنے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیااور اس بات کا واضح اعلان کیا گیا کہ دینی مدارس کا کسی قسم کی عسکری کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں۔
وفاق المدارس کے قائدین نے 2010 ء میں پاکستان کے ممتاز علماء کرام کی طرف سے جامعہ اشرفیہ لاہور میں ہونے والے تاریخی اجتماع میں جاری ہونے والے اعلامیہ میں اپنائے گئے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان کے تمام علما کرام نے ہمیشہ پاکستان میں کام کرنے والی مسلح تنظیموں کی واضح طور پر مخالفت کی ہے اور قرار دیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کا واحد راستہ پرامن جدوجہد ہے اور اس مقصد کے لیے اسلحہ اٹھانا بالکل غلط ہے۔وفاق المدارس کے قائدین نے تمام مدارس کے ذمہ داران کو تاکید کی کہ وہ اس بے بنیاد پروپیگنڈہ کی قولی اور عملی تردید کریں۔وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے اتحاد تنظیمات مدارس کے موقف کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی قانون سازی کا خیر مقدم کرتے ہوئے دینی مدارس کو فوری طور پر رجسٹریشن کروانے کا حکم دیا اورتمام صوبائی ناظمین کو ہدایت دی کہ وہ صوبائی اسمبلیوں سے قانون سازی کے لیے اراکین اسمبلی سے رابطے کریں اور صوبائی سطح پر بھی قانون سازی کروائیں۔اس موقع پراس بات کا واضح طور پر اعلان کیا گیا کہ اب رجسٹریشن میں کسی قسم کے تاخیری حربے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔وفاق المدارس کے قائدین نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے سودی نظام کے خاتمے اور بینکنگ سسٹم کو اسلامائز کرنے کی کوششوں کو خوش آئند قرار دیا اور فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میں منتخب اداروں اور شخصیات کی طرف سے ہرممکن رہنمائی اور معاونت مہیا کی جائے گی۔
مولانا محمد حنیف جالندھری نے وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران ہونے والے انتظامی فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاق المدارس کے نظام امتحانات کے معیار کو مزید بلند کرنے کے لئے آئندہ کے لیے وفاق المدارس کے شعبہ کتب کے امتحانات دو مراحل میں ہوں گے،دراسات دینیہ، تجوید، عامہ اور خاصہ کے امتحانات رجب کے آخری ہفتے میں ہوں گے،فوقانی درجات کے امتحانات شعبان کے پہلے ہفتے میں ہوں گے۔مولانا جالندھری نے بتایا کہ ضمنی امتحانات کے پیپرز آئندہ تین دن کے بجائے چھے دن ہوں گے۔مولانا جالندھری نے بتایا کہ مدارس کا متوسطہ سوم(مڈل)کا نصاب رائج بھی کیا جائے گا اور باقاعدہ سرکاری طور پر منظور بھی کروایا جائے گااور اگلے مرحلے میں پرائمری،چھٹی ساتویں اور میٹرک کا نصاب تیار کروایا جائے گا۔