آج کے دورِ جدید میں جہاں دنیاوی مصروفیات، خود غرضی اور مادہ پرستی نے انسانی رشتوں کی بنیادیں کمزور کر دی ہیں، وہاں ایک نہایت افسوس ناک رجحان یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی، گستاخی، بلکہ بعض اوقات ظلم تک کرنے لگی ہے۔ آئے دن یہ دل دہلا دینے والے واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ بیٹے نے باپ پر ہاتھ اٹھایا یا والدہ کو اذیت دی۔ یہاں تک کہ باپ کے ہاتھوں بیٹے کے قتل جیسے لرزہ خیز واقعات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔یہ صرف اخلاقی زوال نہیں بلکہ انسانی اقدار پر کاری ضرب ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو گیا ہے جو والدین کی نافرمانی کو آزادی نسواں یا خود مختاری کے نام پر درست قرار دیتا ہے۔ میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے جب پدر شاہی سے بغاوت کے عنوان کے ساتھ لگائے جاتے ہیں تو زمین و آسمان کانپ اٹھتے ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں اور اسلام نے والدین کی عزت و خدمت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر بے شمار احسان فرمائے ہیں، لیکن والدین وہ نعمت ہیں جن کا کوئی بدل نہیں.اس سے بڑا انسانیت پہ ظلم کیا ہو گا کہ پاکستان میں ایک ایسا گروہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو والدین سے بغاوت کو عورتوں کا حق قرار دیتا ہے،میرا جسم میری مرضی کے خرکار جب پدر شاہی سے آزادی کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں تو ان نعروں کو سن کر زمین بھی کانپ جاتی ہو گی،ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں،آئیے دیکھتے ہیں کہ دین اسلام والدین کی عزت و حرمت اور حقوق کے حوالے سے کیا احکامات دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا، اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور ایجاد ہے جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں ا س لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم کا حکم دیا، پھر اس کے ساتھ ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم دیا۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ تم اپنے والدین کے ساتھ انتہائی اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو کیونکہ جس طرح والدین کا تم پر احسان بہت عظیم ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اسی طرح نیک سلوک کرو۔(تفسیرکبیر، الاسراء، تحت الآی: 323,23 7/321,)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہﷺ سب سے زیادہ حسن صحبت (یعنی احسان)کا مستحق کون ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’تمہاری ماں(یعنی ماں کا حق سب سے زیادہ ہے)‘‘ انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ ارشاد فرمایا ’’تمہاری ماں۔ انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ حضور اقدس ﷺ نے پھر ماں کو بتایا۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ پھر کون؟ ارشاد فرمایا: تمہارا والد(بخاری، کتاب الادب، باب من احق الناس بحسن الصحب، 4/93، الحدیث : 5971 ) ام المومنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ تو نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر کا پھر میں عرض کی یا رسول اللہﷺ اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی ماں کا(المستدرک۔ کتاب البر والصل۔ باب بر امک ثم اباک ثم الاقرب فالاقرب۔ الحدیث 7326۔ ج 5۔ ص 208 )
ماں کی محبت کی انوکھی بات یہ ہے کہ اس محبت میں کسی قسم کی غرض،کوئی مقصد یا فائدہ ذہن میں نہیں ہوتا بلکہ بے غرض اور بے لوث محبت ہوتی ہے، انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ پیار و محبت کرنے والی ہستی ماں کی ہے۔ ماں خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں افضل ترین نعمت ہے،ماں شفقت، خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے، ماں دنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی سکون کا اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھائوں کی طرح ہے، تیز دھوپ میں بھی ماں کا شفقت بھرا ہاتھ سا یہ دار درخت کی مانند سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے، اس کی گرم گود سردی کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہے، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہے اور دنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے۔ ماں دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جس کی محبت کے سامنے ہر انسان کی محبت کم ترہے،ماں جیسی محبت،خلوص اور ایثارکوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ ماں اپنا وجودکاٹ کر،اپنے حصے کی خوشیاں چھوڑ کراپنی اولاد کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں اوربڑے بڑے ارادوں میں ان کی مددگار ہوتی ہے، ماں ہی ایسی ہستی ہے جس پرانسان ہرطرح کا اعتماد کرسکتاہے۔ اسے اپنے دکھ سکھ میں شریک کرسکتا ہے کیوں کہ اس سے زیادہ قابل اعتباراور ہم راز کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا، لیکن اس کے باوجودبعض اوقات دیکھنے میں یہ آتاہے کہ اس عظیم ہستی کے ساتھ اس کی اولاد ناروا سلوک کرجاتی ہے، اللہ پاک نے قران مجید میں والدین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اس کے علاوہ حضورﷺ کی کئی احادیث طیبہ والدین کی فرمانبرداری کے بارے میں بھی آئی ہیں اور ان کے علاوہ نبی کریمﷺ کے کئی فرامین والدین کے نافرمان کی وعیدوں پر مشتمل ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہوں(اف تک) نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔(پ 15، بنی اسرائیل: 23) حضرت اسما رضی اللہ عنہافرماتی ہیں ‘جس زمانہ میں قریش نے نبی کریم ﷺ سے معاہدہ کیا تھا، میری ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس آئی، میں نے عرض کی، یا رسول اللہﷺ میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام کی طرف راغب ہے یا وہ اسلام سے اعراض کئے ہوئے ہے، کیا میں اس کے ساتھ سلوک کروں؟ ارشاد فرمایا: ’’اس کے ساتھ سلوک کرو۔ ان احادیث طیبہ اور آیت مبارکہ سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے اگر ہم آیت پاک اور حدیث پاک پر عمل کریں گے تو دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔