کاش کہ ہماری صحافتی تنظیمیں اور صحافتی لیڈران صیہونی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے غزہ کے شہید صحافیوں کے لئے بھی آواز حق بلند کرتے ،کاش،اے کاش! پاکستانی پریس کلبوں میں بھی غزہ کے شہید صحافیوں کی یاد میں کانفرنسیں اور سیمینارز رکھے جاتے‘ ہم نے دیکھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اہلِ قلم نے غزہ کے شہید صحافیوں کے لیے خاموشی توڑی، احتجاج کیا، شمعیں جلائیں، مگر ہمارے یہاں سناٹا ہے۔ شاید اس لیے کہ یہاں قلم اب ضمیر سے زیادہ مفاد کے تابع ہو گیا ہے۔
غزہ کے وہ رپورٹر جو کیمرے کے ساتھ ملبے تلے دفن ہوئے، جنہوں نے اپنی آخری سانس تک یہ میرا وطن ہے کہہ کر رپورٹنگ کی وہ صرف فلسطین کے نہیں، پوری صحافت کے ہیرو ہیں۔ ان کا خون ہم سب کے ضمیر پر قرض ہے۔
کاش کہ ہمارے صحافتی ایوانوں میں اتنی جرات ہوتی کہ وہ اپنے شہید ہم پیشہ بھائیوں کے لیے ایک لمحے کو ہی سہی، خاموشی اختیار کر لیتے، ان کے نام پر کوئی سچائی کا لمحہ مناتے۔ کاش، اے کاش!
دنیا کے نقشے پر ایک ننھا سا ٹکڑا ہے غزہ۔ مگر اس کی مٹی میں اتنی کہانیاں دفن ہیں کہ تاریخ کے اوراق بھی کانپ اٹھیں۔ یہاں لفظ زندہ ہیں، کیمرے جاں بلب، اور سچ خون میں نہایا ہوا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں خبر لکھی نہیں جاتی، شہیدوں کے لہو سے جنم لیتی ہے۔غزہ کی مٹی آج صرف خون سے نہیں، سچ کے قلم سے بھی تر ہے۔ یہ داستان ان صحافیوں کی ہے جنہوں نے قلم اور کیمرہ تھاما تو جیسے ایمان تھام لیا اور جن کے الفاظ نے موت کو بھی شکست دی۔جنگیں ہمیشہ زمینیں جلاتی ہیں، مگر غزہ کی جنگ نے قلموں کو بھی جلا ڈالا۔ یہاں ہر صحافی نے اپنی رپورٹ نہیں، اپنی جان جمع کرائی۔ مگر سچ اب بھی زندہ ہے اور یہی ان کی فتح ہے۔
غزہ کی مٹی پر اس وقت تاریخ ایک نیا باب رقم کر رہی ہے اور اس باب کا عنوان ہے: قلم کی شہادت۔ دنیا نے کئی جنگیں دیکھی ہیں، مگر ایسی جنگ کبھی نہیں دیکھی جہاں خبر نگار خود خبر بن گئے ہوں، جہاں مائیک اور کیمرہ اپنے مالک کے خون میں تر ہو گئے ہوں اور جہاں لفظوں کی خوشبو بارود کی بو میں بھی زندہ رہی ہو۔
غزہ پر اسرائیلی جنگ اب اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں شہید صحافیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ مگر ان سب میں سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ دیکھ رہے تھے اور دنیا کو دکھا رہے تھے۔
امریکی یونیورسٹی برائون کے تحقیقی منصوبے “Costs of War” کے مطابق غزہ کی جنگ اہل صحافت کے لیے انسانی تاریخ کی سب سے خونریز جنگ بن چکی ہے۔ اتنے صحافی اس جنگ میں شہید ہوئے ہیں کہ ان کی مجموعی تعداد امریکی خانہ جنگی، پہلی و دوسری عالمی جنگ، کوریا، ویتنام، یوگوسلاویہ اور افغانستان وعراق کی تمام جنگوں میں مارے گئے صحافیوں کے مجموعے سے بھی زیادہ ہے۔اب تک 254 فلسطینی صحافی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ وہ نہ ہتھیار بند تھے، نہ کسی محاذ کے سپاہی، مگر ان کا جرم یہ تھا کہ وہ سچ کے محافظ تھے۔ وہ ان معصوم بچوں کے چہرے دکھا رہے تھے جنہیں دنیا نہیں دیکھنا چاہتی، وہ ان چیخوں کو سنوا رہے تھے جنہیں طاقتور کان سننے سے انکاری ہیں۔
پہلے تین مہینوں میں 114، پھر اگلے ادوار میں درجنوں دیگر۔ کوئی اپنے کیمرے کے ساتھ ملبے میں دفن ہوا، کوئی نشر کے دوران حملے کی زد میں آیا۔ مگر ان کے آخری الفاظ وہی تھے جو ان کے پیشے کی روح ہیں یہ میرا وطن ہے اور میں یہاں سے نہیں جائوں گا۔یہ وہ لوگ تھے، جنہوں نے بموں کے نیچے خبریں لکھی اور موت کے دہانے پر سچ بولنے کا حوصلہ دکھایا۔ ان میں سے بعض نے آخری لمحے تک براہِ راست رپورٹنگ کی۔ ایک صحافی نے اپنے خون آلود کیمرے کے ساتھ زمین پر گرنے سے پہلے کہا: میرے بچوں سے کہہ دینا، ابا نے جھوٹ نہیں بولا تھا۔
ان کی قربانی اس دور کے ہر قلم کار کے لیے پیغام ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ صحافت صرف پیشہ نہیں، ضمیر کا جہاد ہے۔ انہوں نے دکھا دیا کہ کیمرہ بھی بندوق بن سکتا ہے اگر دل میں ایمان ہو۔غزہ کا وہ ننھا سا خطہ صرف 41 کلومیٹر لمبا اور 10 کلومیٹر چوڑا اب پوری دنیا کی صحافتی غیرت کا مقتل بن چکا ہے۔ اسرائیل نے یہاں دو لاکھ ٹن بارود برسایا، جو ہیروشیما پر گرائے گئے 13 ایٹم بموں کے برابر ہے۔ مگر ان بموں سے نہ سچ مرا، نہ آوازیں خاموش ہوئیں۔
یہ قربانیاں اس حقیقت کو زندہ کرتی ہیں کہ جب تک ایک کیمرہ باقی ہے، جب تک ایک قلم چلتا ہے، ظلم کو پردہ نصیب نہیں۔ غزہ کے یہ شہدا ہمیں بتاتے ہیں کہ کبھی کبھی لفظ اپنی جان دے کر زندہ رہتے ہیں۔دنیا انہیں شاید اعداد میں یاد رکھے، مگر تاریخ انہیں حقیقت کے مجاہد کے طور پر محفوظ کرے گی۔ ان کے نام زمین پر مٹ سکتے ہیں، مگر ان کی روشنی آسمانوں تک جائے گی۔ کیونکہ وہ لکھتے رہے ’’جنوں کی حکایات خوں چکاں‘‘ اور جب ہاتھ کٹ گئے تو خون نے خود لکھنا شروع کر دیا ایسی داستان جسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ بھلا ہم کفن پہن کر گور میں تو اتریں گے، مگر انس شریف کو کیسے بھولیں گے؟
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
غزہ کے یہ شہید صحافی ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ سچ کبھی مر نہیں سکتا۔ ان کے قلم ٹوٹے ضرور، مگر تحریر زندہ ہے۔ جب تک ایک کیمرہ آن ہے، ایک دل دھڑک رہا ہے، اور ایک ضمیر جاگ رہا ہے، ظلم کا پردہ کبھی سلامت نہیں رہ سکتا۔ یہی ان کی جاویدان کامیابی ہے، یہی انسانیت کا روشن چراغ۔