جنوبی ایشیا کا خطہ، جو کبھی اپنی تہذیبوں کی رنگینی، ثقافت کی گہرائی، اور انسانی جذبوں کی گرمی سے جگمگاتا تھا، آج ایک بار پھر جارحیت کے گہرے سائے تلے دب رہا ہے۔ بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت کے جنگی نعرے اس خطے کے امن کے خواب کو مسلسل دھندلا رہے ہیں۔ یہ محض زبانی دعوے نہیں، بلکہ وہ چنگاریاں ہیں جو برصغیر کے سکون کو آگ کے شعلوں میں بدل سکتی ہیں۔ کشمیر، وہ دل جو تقسیم کے وقت سے دھڑک رہا ہے، اس تناؤ کی جڑ ہے۔ جب تک یہ زخم ہرا رہے گا، امن ایک سراب ہی رہے گا، جو ہاتھ بڑھانے پر بھی ہاتھ نہیں آتا۔ یہ خطہ، جو کبھی محبتوں اور داستانوں کی سرزمین تھا، اب جارحیت کی دھمکیوں اور ہتھیاروں کی جھنکار سے گونج رہا ہے۔1947 کی تقسیم نے برصغیر کو دو حصوں میں بانٹ دیا، لیکن کشمیر کا زخم آج بھی ناسور بنا ہوا ہے۔ یہ تنازع تین جنگوں کا سبب بن چکا، اور حالیہ برسوں میں 27 فروری 2019 اور 6 سے 10 مئی 2025 کے واقعات نے اس کی تلخی کو دوبارہ عیاں کیا۔ بھارت کی طرف سے “پاکستان کو سبق سکھانے”، “سرجیکل اسٹرائیک” اور “کئی ٹکڑوں میں تقسیم” جیسی گیڈر بھبکیاں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی پرانا راگ ہے، جو ہر بار داخلی ناکامیوں بے روزگاری کی لعنت، کسانوں کی چیخیں، اقلیتوں پر ظلم، اور معاشی بحران—سے توجہ ہٹانے کے لیے الاپا جاتا ہے۔ لیکن یہ نعرے محض سیاسی تماشا نہیں، یہ خطے کی تقدیر سے کھیلنے کی کوشش ہیں۔ بھارتی قیادت شاید یہ بھول جاتی ہے کہ پاکستان کوئی کمزور ہدف نہیں، بلکہ ایک ایٹمی طاقت ہے، جس کی پیشہ ور افواج نے بارہا بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ ہر جارحیت کا جواب نہ صرف دیا گیا، بلکہ بھارت کو ذلت کے گڑھے میں دھکیلا گیا۔ پھر بھی، جنون کی عینک اتنی گہری ہے کہ وہ پاکستان کو شاید کوئی کمزور خطہ سمجھ بیٹھے ہیں۔بھارت کا یہ جنگی جنون خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو نہ صرف سرحدیں جلا سکتی ہے، بلکہ کروڑوں انسانوں کے خوابوں کو بھی راکھ کر دے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں ناجائز قبضہ، آبادیاتی تبدیلیاں، اور اقلیتوں پر مظالم ایک بڑے المیے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ کشمیری عوام، جو برسوں سے اپنی آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں، بھارت کے غاصبانہ قبضے کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ بھارتی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جبر کی یہ پالیسی نہ صرف کشمیریوں کے لیے، بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہے۔ جتنی جلدی وہ اس حقیقت کو قبول کر لیں، اتنا ہی بھارت کے عوام اور اس خطے کے مستقبل کے لیے بہتر ہوگا۔ لیکن بدقسمتی سے، بھارتی قیادت کے ذہنوں پر ایک خبط سوار ہے، جو انہیں پاکستان کو فلسطین سمجھنے پر مجبور کر رہا ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسی قوت ہے جو اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ کمزوری دکھائے گا۔ پاکستانی قیادت نے بھارتی دھمکیوں کا دوٹوک اور مضبوط جواب دیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا: “ہمارے محافظ اللہ کے سپاہی ہیں، اور اس بار بھارت اپنے طیاروں کے ملبے تلے دب جائے گا۔” یہ محض ایک بیان نہیں، بلکہ ایک قوم کے عزم کا آئینہ ہے۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی واضح کیا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی، تو نہ صرف حساب برابر کیا جائے گا، بلکہ اس کی دور دراز ریاستوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، تاکہ آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں۔ یہ الفاظ کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک ایسی طاقت کا اعلان ہیں جو اپنے دفاع میں کسی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
پاکستان نے 6 سے 10 مئی کے واقعات میں ایک نیا معیار قائم کیا، اور اگر بھارت نے دوبارہ ایسی حماقت کی تو اسے اس سے بھی بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔یہ جنگی جنون صرف سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے خطے کی خوشحالی اور ترقی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ بھارت کی جارحانہ سوچ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، اور مسلسل دھمکیاں ایک ایسی تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں جو ایٹمی جنگ کی دہلیز تک جا سکتی ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اگر وقت پر کردار ادا نہ کیا گیا تو یہ خطہ ایک ایسی آگ میں جھلس جائے گا، جس کا افسوس بھی فائدہ نہیں دے گا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اور مضبوط کرے، سفارتی محاذ پر کشمیر کا مقدمہ جارحانہ انداز میں پیش کرے، اور بھارتی پروپیگنڈے کا حقائق سے مقابلہ کرے۔ قومی یکجہتی اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ یہ لڑائی صرف سرحدوں کی نہیں، بلکہ اس خطے کے مستقبل کی ہے۔امن کی خواہش کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو انسانیت کی فلاح چاہتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی، لیکن جب بات عزت اور خودمختاری پر آتی ہے تو اس کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ کبھی جھکا نہیں۔ بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھیں۔ کشمیر کا منصفانہ حل، باہمی احترام، اور مساوات کی بنیاد پر تعلقات ہی اس خطے کو تباہی سے بچا سکتے ہیں۔ یہ خطہ، جو کبھی گنگا اور سندھ کے پانیوں سے سیراب ہوتا تھا، آج امن کی ایک نئی صبح کا منتظر ہے۔ لیکن یہ صبح اسی وقت طلوع ہوگی جب مودی اور سنگھ پریوار کو انسانیت کا درس دیا جاسکے گا ، جب ان درندوں لو پٹہ ڈالا جا سکے گا ، اس کے بغیر ممکن نہیں ۔ جنوبی ایشیا ءمیں امن کے لئے کشمیر کی آواز کو سننا ہوگا، جارحیت کے بادل چھٹنے ہوں گے، اور ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہوگا۔ایک ایسا دور جو انصاف، مساوات، اور انسانیت کی بنیاد پر استوار ہو۔ ورنہ، یہ جنگی جنون صرف خاک اور افسوس چھوڑے گا، اور برصغیر کا یہ خوبصورت خطہ اپنی رنگینیوں سمیت راکھ کے ڈھیر میں بدل جائے گا۔