Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

شیخ الحدیث ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کی تلاش؟

10 اکتوبر 2025ء کو مولانا عادل خان کی شہادت کو پانچ برس بیت گئے، سوال یہ ہے کہ اتنی عظیم علمی شخصیت کے قاتل ابھی تک گرفتار کیوں نہ ہو سکے؟ کراچی کے مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب پچھلے چند ہفتوں سے لال مسجد آپریشن کے دوران شہید اور زخمی ہوئے والی بچیوں کی تلاش میں خجل خوار ہو رہے ہیں، میری ان سے گزارش ہے کہ وہ رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بدترین ظلم کا نشانہ بن کر جنت مکیں ہو جانے والی شہید بیٹیوں کے ناموں کو جاننے کی ضد چھوڑ کر ذرا اپنی کمپنی کے’’صاحبوں‘‘سے پوچھ کر قوم کو بتائیں کہ پانچ سال قبل شہید کئے جانے والے مرد قلندر ڈاکٹر عادل خان کے قاتل کہاں ہیں؟جامعہ حفصہ کی شہید طالبات کو تو آپ نہیں جانتے،لیکن ڈاکٹر عادل خان کو تو آپ خوب اچھی طرح سے جانتے ہیں، صرف ایک شخص کا نقصان نہیں، بلکہ ایک عہد کی محرومی ہے۔ ہر سال10اکتوبر کی تاریخ اہلِ علم و دین کے لئے درد و غم کی یاد لے کر آتی ہے۔ اسی دن مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید ؒ کو شہادت کا بلند مقام نصیب ہوا۔ یہ وہ المناک دن تھا جب علم و عمل، گفتار و کردار، اور جرات و حق گوئی کا درخشاں ستارہ امت کی آنکھوں سے اوجھل ہوا۔
ڈاکٹر عادل خان شہید ؒ نہ صرف ایک نامور عالم دین تھے بلکہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے دین و ملت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مردِ مومن اپنی جان تو دے سکتا ہے مگر حق کی آواز کو کبھی دبنے نہیں دیتا۔ علم و فضل، جرات و بصیرت، خدمت و قیادت یہ سب اوصاف ایک ہی شخصیت میں جمع تھے۔ ان کی پوری زندگی امتِ مسلمہ کی رہنمائی، اصلاحِ معاشرہ اور دفاعِ صحابہ میں گزری۔آپ بہترین منتظم، منجھے ہوئے مدرس اور باکمال مہتمم تھے، آپ عربی، فارسی، اردو،انگلش اور پشتو زبان پہ قدرت رکھتے تھے۔ مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی عمر 63سال تھی۔آپ معروف علمی اور روحانی شخصیت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کے بڑے صاحبزادے تھے۔ 1973ء میں جامعہ فاروقیہ سے سند فراغت حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے1976 ء بی اے ہیومن سائنس، 1978ء میں ایم اے عرابک اور 1992ء میں اسلامک کلچرمیں پی ایچ ڈی کی۔ 1980ء میں اردو انگلش اور عربی میں چھپنے والے رسالے الفاروق کے آخری سانسوں تک ایڈیٹر رہے۔ تحریک سواد اعظم میں اپنے سر بلند بابا مولانا سلیم اللہ خان کے ہمرکاب رہے،آپ کچھ عرصہ امریکا میں مقیم رہے۔جہاں ایک بڑا اسلامی سینٹرقائم کیا۔ 2018ء میں ریسرچ وتصنیف وتحقیق میں ملائیشیاہائیر ایجوکیشن کی جانب سے فائف اسٹار رینکنگ ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ ایوارڈآپ کو ملیشیاء کے صدر کے ہاتھوں دیا گیا۔
وفاق المدارس المدارس العربیہ کے مرکزی کمیٹی کے سینئر رکن اور وفاق المدارس کی مالیات نصابی اور دستوری کمیٹی جیسی بہت سی اہم کمیٹیوں کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں ۔ علوم القرآن، علوم الحدیث، تعارف اسلام، اسلامی دنیا، اسلامی معاشیات، اخلاقیات، فقہی مسائل آیات احکام القرآن اور احکام فی الاحادیث، مقاصد شریعہ، تاریخ اسلام، بالخصوص تاریخ پاکستان اور اردو اور عربی ادب جیسے موضوعات کا زبردست ماہر ’’شہر نا پرساں‘‘کراچی کی سڑک پر گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا،صرف یہی نہیں اسی شہر کراچی میں مفتی نظام الدین شامزئی ،ولی کامل مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو بھی خاک و خون میں تڑپایا گیا، اقرا روضہ الاالطفال کے بانی ٹرسٹی معروف علمی و روحانی شخصیت مفتی محمد جمیل خان شہید تو وہ تھے کہ مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب نے جن سے بار بار اصرار کر کے افغان طالبان کے حق میں کتاب بھی لکھوائی تھی،اس کتاب کا قیمتی نسخہ آج بھی میری چھوٹی سی ذاتی لائبریری کا جزو ہے،مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب کے بقول ان کے جنرل باجوہ سے دو سو زائد ملاقاتیں ہوئیں اور جنرل حافظ سید عاصم منیر سے بقول ان کے نو سالہ پرانی دوستی ہے،تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اپنے ان قریبی ترین شہید علماء کے قاتلوں کی گرفتاریوں اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ تو کرتے،کیا کراچی کی سڑکوں پر دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے والے اکابر علماء لاوارث تھے؟کہ ان درجنوں شہید علما کے قاتل آج تک گرفتار نہیں کئے گے؟ بہرحال مولانا ڈاکٹر عادل خان 2017ء میں اپنے بابا مولانا سلیم اللہ خان ؒ کے انتقال کے بعد ملائیشیاء سے پاکستان واپس آئے اور جامعہ فاروقیہ کی دونوں شاخوں کا نظم ونسخ سنبھالا اور شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز ہوئے۔
بعدازاں جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی اپنے بھائی مولانا عبیداللہ خالد کے حوالے کرکے اپنی تمام تر توجہ جامعہ فاروقیہ حب چوکی پر مرکوز کی، جس کو وہ ایک جدید خالص عربی پر مبنی تعلیمی ادارہ اور یونیورسٹی بنانا چاہتے تھے۔ ان کے قریبی رفقاء بتاتے ہیں کہ آخری دنوں میں وہ بار بار اپنی شہادت کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔ وہ ختم نبوت ، ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ ناموس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سچے جانباز تھے، وطن عزیز پاکستان میں مقدس ترین ہستیوں کی بڑھتی ہوئی گستاخیوں سے سخت پریشان رہتے تھے اور شہادت سے قبل ان کی کوشش رہی کہ تمام دینی مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اتحاد و اتفاق کی صورت قائم ہو، تاکہ سوشل میڈیا ، پرنٹ الیکٹرانک میڈیا یا تحریر و تقریر کے ذریعے گستاخیاں کرنے والے ناپاک عناصر کو قانون کے شکنجے میں کسا جا سکے،ان کی بہادری اور شجاعت آج کے علما ء کے لئے مشعل راہ ہے،آج کل تو سبقت لسانی کے مریض یو ٹیوبرز نے بھی اپنی حفاظت کے لئے مسلح لشکر پال رکھے ہیں ،مگر انٹرنیشنل علمی وعملی اور روحانی شخصیت مولانا ڈاکٹر عادل خان نے مظلومانہ شہادت کا جام نوش کر نا گوارا کر لیا ،لیکن مسلح لشکروں کے کڑے پہرے سے دور رہے،انہوں نے ناموس صحابہ و اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تحفظ کو اپنے اعلیٰ ترین مقاصد میں شامل رکھا اور آخری سانسوں تک دشمنان صحابہؓ و اہلبیتؓ کے خلاف ڈٹے رہے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

یہ بھی پڑھیں