Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پر فتن دور اور سوشل میڈیا فتنہ ہی فتنہ

نئی صدی کے اس دورِ فتن میں، جب علم و عقل کے نام پر گمراہی کو نظریہ اور بے دینی کو روشن خیالی کا جامہ پہنا دیا گیا ہے، مسلمان نوجوان شدید فکری یلغار کی زد میں ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کی دنیا بدل دی، وہیں عقیدے اور ایمان کے تصورات کو بھی کمزور کر دیا۔ آج مسلم معاشروں کے نوجوان علمی مباحث اور فکری سوالات کے بہانے الحاد، دہریت اور تشکیک کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر الحاد و دہریت کو باقاعدہ اور منظم طریقے سے پھیلایا جاتاہے اور اس کا ٹارگٹ مسلم نوجوان ہوتے ہی ، جب مذہبی طبقے خاص کر مدارس سے نکلنے والے نوجوان طلبا ء و علماء کی سوشل میڈیا تک رسائی ہوئی اور براہ راست ان کا واسطہ ایک تشکیکی ذہن اور مغربی فکر سے پڑا مگر ملحدوں سے مباحثہ کرتے کرتے وہ خود تشکیک کا شکار ہونے لگے۔یہ دنیا ہمارے نوجون علماء کے لئے ایک نئی دنیا تھی، مدرسے کی بند دیواروں سے نکل کر اچانک آپ کے سامنے دولت و شہرت کے دروازے کھول دئیے جائیں تو آپ پر اس کیا کیا نہیں اثر ہوگا!سوشل میڈیا پر نوجوان علماء کو باقاعدہ ٹارگٹ کیا گیا، خاص کر ادب کی آڑ میں کہیں پر سیمینارز ہوئے کہیں کانفرنسوں کی ترتیب بنی، شہرت کے ساتھ ساتھ مخلوط محافل صنف مخالف سے تعلق بننے کی اشتہا و ترغیب ایک گروہ نے باقاعدہ با صلاحیت نوجوان علما سے دوستیاں لگائیں ،ان کے ساتھ بیٹھکیں ہوئیں کہیں چائے کے ہوٹلوں پر تو کہیں یونیورسٹیوں کی غلام گردشوں میں، این جی اوز کے خرکاروں نے کہیں پر ان نئے نویلے مولویوں کو ملکی و بیرونی ٹوورز کروائے ، تدریجا اس محنت کو آگے بڑھایا گیا اور آہستہ آہستہ ذہن سازی کرکے دیندار گھرانوں اور دینی اداروں میں نقب لگائی گئی۔ سوشل میڈیا پر دو بڑے فتنے ہیں، پہلا شہرت کا ہیضہ ،اور دوسرا اظہار کی بے راہ رو آزادی۔آپ کی دوستی فہرست میں گھر بیٹھے اچانک پانچ ہزار لوگوں کے شامل ہونے کی گنجائش بن جائے ، بہت سے لوگ آپ کو فالو کرنے والے ہوں ، کوئی آپ کو شیخ بنائے کوئی مرشد بنائے تعریف کی بے جا افراط، کسی بھی انسان کو پٹٹری سے اتارنے کے لیے کافی ہوا کرتی ہے، پھر مختلف چھوٹے اخباروں اور ویب سائٹوں تک رسائی ملی، اس کے بعد بتدریج ٹک ٹاک آیا یوٹیوبر بننے کا خبط سوار ہوا تو کون تھا کہ اپنا دامن اس جلتی ہوئی آگ سے بچا پاتا۔دوسرا فتنہ تھا اظہار کی بے راہ رو آزادی جو چاہو بولو،جیسے چاہو بولو، جس کو چاہو بولو،جہاں چاہو بولو،جب چاہو بولو،ایسے میں سب سے پہلے ادب گیا،ابتدائی درجے میں اکابرین کا ادب گیا،پھر تاریخی شخصیات کا ادب گیا،پھر دینی تعبیرات اور شعائر کا ادب گیا،پھر مذہبی شعائر کا ادب گیا،پھر اسلام کے بنیادی مصادر کا ادب گیا،آہ بات یہیں تک محدود نہ رہی۔’’سوشل میڈیا ئی‘‘نسل بد نے آقا مولا ﷺاور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بھی گستا خیاں شروع ہو گئیں ،یہودی ملکیت کا حامل سوشل میڈیا اس وقت مقدس ترین شخصیات کی گستاخیوں کا بین الاقوامی اڈہ بن چکا ہے۔ مرکزی دینی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کے جس متحرک کردار کی ضرورت تھی،بد قسمتی سے وہ متحرک کردار ابھی تک نظر نہیں آیا،چند درجن نوجوان جن میں بعض درد دل رکھنے والے علما اور وکلا بھی شامل ہیں،کی انتھک اور مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اب تک چار سو پچھتر ایسے ملعون مجرم ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں کہ جو سوشل میڈیا پر جاری گستاخانہ فتنے کے رنگروٹ تھے۔
اللہ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ تحریک تحفظ ناموس رسالتﷺ پاکستان کے بانی صدر طارق اسد ایڈووکیٹ نور اللہ مرقدہ کی تربت پر، کہ جنہوں نے سوشل میڈیا کی ’’صیہونیت زدگی‘‘کا بروقت ادراک کر کے اپنی ٹیم کے ساتھ سب سے پہلے پر چم جہاد بلند کر کے ملعون گستاخوں کے خلاف جو قانونی جنگ شروع کی تھی،وہ آج تک جاری و ساری ہے۔ خوفناک صورت حال یہ کہ اسلام آباد میں ’’میڈیائی چھتری‘‘ کے نیچے بعض ’’مولوی زادے‘‘ کہ جو خود بھی مدارس بھگوڑے ہیں نے ’’صاحبزادگان‘‘کو گمراہ کرنے کی غامدی مارکہ لانڈری لگا رکھی ہے، جن کے دلوں پہ ’’الحاد‘‘کی مہر لگ چکی ہے،ان پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے،اسی طرح مدرسے سے متنفر نوجوانوں کی ایک پود سامنے لائی گئی کہ جو ابتدا میں گمنام آئی ڈیز سے یا قلمی ناموں سے مدارس ، علما اور اساتذہ کا مذاق اڑاتے اڑاتے پھر دین اسلام کے احکامات کا مذاق اڑانے پر تل گئی ، یہ بدترین قسم کے گستاخ بن کر ابھرے ،کسی کی عزت کسی کا احترام کسی کی وقعت ان کے سامنے کچھ نہ تھی،ایسے آوارہ گردوں کو ملحدوں کے ہرکاروں نے گھیرا ، ان کے ساتھ دوستیاں لگائیں ، ان سے ملاقاتیں کیں ، انہیں دلاسے دئیے اور ایک عجیب طوفان بدتمیزی کھڑا ہوگیا۔لیکن یہ ایک عبوری دور تھا اس کے بعد یہ کمینے ملعون کھل کر سامنے آنے لگے، انہیں اس بات کی فکر نہ رہی کہ کوئی انہیں پہچان لے گا، آہستہ آہستہ لباس بدلے ڈاڑھیاں صاف ہوئیں پھر افکار بدلے، اطور بدلے اور آخر کار دلوں پہ نحوست بھرا خناس قابض ہو گیا،ایک طبقہ کہ جو کچھ سنجیدہ تھا اسے ظاہری علمیت کے جھانسے میں کچھ ’’فلسفہ زادوں‘‘نے متاثر کیا اور فلسفیانہ اوہام و افکار ان پر کچھ اس طرح مسلط ہوئے کہ معتزلہ جدید کی ایک پوری جماعت ابھر کر سامنے آگئی۔یہ داستان بہت طویل ہے اور اس کا بیان انتہائی دلدوز اور غم انگیز ہے تو اب کیا ، کیا جائے ؟اپنی اصل کی جانب پلٹنے کی تحریک چلائی جائے ہم کون ہیں ، ہم کس لیے دین کا علم حاصل کررہے ہیں ، ہمیں کیا کرنا ہے!سوشل میڈیا ہمارا گھر نہیں ہے ، یہ دوستیاں لگانے کی جگہ نہیں ہے ، یہ دعوت کا میدان ہے ، اظہار کی حدود متعین کیجیے ، اپنے نفس کو تنبیہ کیجیے اور اس میدان سے باہر کسی دینی جماعت اور اہل اللہ سے ربط قائم رکھیں، اپنے عقیدے ، اپنے علوم اور اپنے روایتی ورثے کی اہمیت کا ادراک کریں اس میں مہارت حاصل کریں اور خاص طور پر سوشل میڈیا کی آوارہ محافل سے دور رہیں ۔وما توفیقی الا باللہ

یہ بھی پڑھیں