Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

پاک افغان جنگ طاغوت کی سازش یا … ؟

افغانستان کی سرزمین گزشتہ نصف صدی سے آتش و آہن کے خونی کھیل میں مصروف ہے۔جسے جہاد کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے جو کبھی کفر و اسلام کی مبارزت گردانی جاتی ہے کبھی دہشت گردی کے خلاف صف آرائی، اور کبھی خطے کی سلامتی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ۔ مگر اصل سوال آج تک منت کش جواب ہے کہ یہ سارا عمل امتِ مسلمہ کی بقاء کا ہے یا طاغوتی قوتوں کی سازش جنہوں نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابل برسرپیکار رکھا ہوا ہے۔
سوویت یونین کے خلاف 80 کی دہائی کاافغان جہاد ہو یا 9/11 کے بعد وار آن ٹیرر دونوں میں پاکستان کلیدی کردار کے طور پر ابھرا ، مگر کیا پاکستان ایک رضاکار تھا یا مجبور ریاست جو بین الاقوامی دبائو، مالی امداد اور جغرافیائی بقا ء کی چکی کے پاٹوں کے بیچ پستی رہی؟ یہ دو متوازی چلتی ہوئی سچائیوں جہاد ،اور طاغوت کی سازش کے بیانیئے تھے۔جن کے مطابق افغان جنگ ایک مقدس معرکہ تھی جس میں اسلام کے غلبے کے لیے دنیا بھر کے مسلمان متحد ہوئے۔!مجاہدین نے سامراجی طاقتوں کو شکست دی۔پاکستان نے امت کی دفاعی قوت کا کردار ادا کیا۔یہ جنگ ایمان، غیرت اور حریت کی علامت تھی یا امریکی بلاک (طاغوت) کی سوچی ،سمجھی سازش کا بیانیہ! جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر اثر پکڑتی سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے منصوبہ بندی، جس میں اسلامی جذبہ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
مدارس، جہادی تنظیموں اور نظریاتی بیانیئے، سی آئی اے اور ایک امیر عرب ملک کی مالی امداد سے اس کی تشکیل کی بنیاد رکھی گئی۔جس کے نتیجے میں مسلم ریاستیں ناتواں ہوئیں اور مسلمان دہشت گرد کہلائے۔پاکستان لاکھوں افغان مجاہدین کی پناہ گاہ بنا جس کی وجہ سے خود کش حملوں اور اندرونی اضطراب و بے چینی کی فضا پیدا ہوئی۔سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اس ساری صورتحال میں اسلام کے دفاع کی ذمہ داری نبھائی یا طاغوتی سازش پر اپنی سلامتی کا سودا کیا ؟ اور یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تاحال تلاش کرنے میں تاریخ بے نیل و مرام نظر آتی ہے۔پاکستان نے ایک طرف لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، دوسری طرف خود دہشت گردی، خودکش حملوں اور اندرونی خلفشار کا شکار ہوا۔کیا ہم نے اسلام کے دفاع میں کردار ادا کیا یا طاغوت کے کھیل میں اپنی سلامتی دائو پر لگا دی؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تاریخ اب بھی تلاش کر رہی ہے۔
عالم اسلام کا ضمیر آج بھی اس مخمصے میں مبتلا ہے کہ یہ معرکہ آرائی مذہب نظریئے یاحریت کے نام پر ہوئی تو اس کے دھاگے طاغوت کی انگلیوں سے بندھے کیوں دکھائی دیتے رہے ؟اسے کبھی ’’جہاد افغانستان‘‘ کبھی دہشت گردی کے خلاف پنجہ آزمائی اور کبھی علاقائی امن کے ساتھ کیوں جوڑا گیا ؟
1979 ء میں سوویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی نے عالمی منظر نامہ یکسر تبدیل کردیا۔ افغانستان پر تھونپی گئی اس قہرناک کارروائی کے جواب میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جہاد کی صدا لگائی اور پاکستان کو خطے کے مرکز میں دھکیل دیا گیا۔ مدارس کے طلبا کو عسکری (واللہ اعلم) تربیت دی گئی اسلامی ریاستوں کی فنڈنگ اور امریکی اسلحہ خانوں سے اسلحے کی کمک نکلی ،یوں افغانستان میدان کارزار بن گیا۔ سوویت یونین کو شکست فاش ہوئی اور وہ اپنے اندر ٹکڑے ہوگیا ۔
کال مارکس اور لینن کے الحادی نظام کا جنازہ بڑی دھوم سے نکلا اور یہ تصور کرلیا گیا کہ اسلام کے غلبے کا وقت آن پہنچا ہے۔مگراصل میں یہ طاغوت کی پہلی سازش تھی۔امریکی اور مغربی میڈیا نے ہی نہیں مسلم ممالک کے میڈیا نے بھی امت مسلمہ کی عسکری اور نظریاتی قوت کو آسمان کی رفعتوں تک پہنچا دیا ۔پھر یوں ہی 11/9 کا واقعہ رونما ہوا (یہ بھی طاغوتی کی سازش تھی) اور وہی مجاہدین جو کل تک ہیرو گردانے جاتے تھی ان پر دہشت گردی کی مہر لگادی گئی۔افغان مجاہدین جو روس کے ساتھ لڑی گئی جنگ کو کفر و ایمان کا معرکہ تصور کرتے تھے،جو یہ خیال کرتے تھے کہ روسی افواج نے ایک آزاد اسلامی ملک پر قبضہ کرکے اس کے لوگوں کو مشق ستم بنایا اور پاکستان بھی اسی بیانیئے پر ایمان کامل رکھتا تھا اور ہزاروں پاکستانی نوجوانوں نے اس معرکے میں جام شہادت نوش کئے ،لاکھوں افغانوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی اور پوری پاکستانی قوم نے ان کی عزت و تکریم کی۔
یہ امر اپنی جگہ بجا ہے کہ روسی قبضے کے خلاف مزاحمت نہ جاگتی تو ممکن ہے وسطی ایشیا کی مسلم ریاستیں سیکولر بلاک کا حصہ بن جاتیں یہ افغان مجاہدین اور پاکستانی دیندار گھرانوں کے نوجوان تھے جن کی جدو جہد رنگ لائی اورسویت یونین لخت لخت ہو گیا۔تاہم یہ بات بھی شکوک شبہات سے بالاتر ہے کہ امریکہ نے جذبہ اسلام سے لیس نوجوان طبقے کو زبردستی جنگ کا ایندھن بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیااور جونہی اپنے روبرو کھڑی سپر پاور کو منہدم ہوتے دیکھامجاہدین کی طرف سے آنکھیں پھیر لیں ۔یوں سی آئی اے اورموساد نے امت مسلمہ کو ایک طویل جنگ میں جھونک دیا۔جبکہ اس سارے کھیل کا اصل ہدف پاکستان کو بنا دیا اور فقط امریکہ ہی نہیں سارا طاغوت پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سر حدوں کو کمزور کرنے میں لگ گیا۔آج جبکہ کل کی دو ایک نظریہ حیات پر مر مٹنے والی قومیںطاغوت کی سازش کے نتیجے میں ایک دوسرے کو مٹانے کی تگ و دو کے راستے پر عمل پیرا ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسلام کے نام پر برپا ہونے والے گزری نصف صدی کے معرکے اسلامی نہیں بلکہ اسلام دشمن قوتوں کی مطلب براری کی وہ کوششیں تھیں جن کی نیت تازہ پاک افغان جنگ نے طشت ازبام کردی ۔ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے نام پر لڑی جانے والی جنگ اسلامی نہیں کہلا سکتی ،جب تک اس کی نیت اور انجام اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا سے وابستہ نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں