شاعرِ مشرق،حکیم الامت علامہ محمداقبالؒ محض ایک شاعر نہیں تھے،بلکہ ایک فلسفیِ حریت فکرِ اورخودی کےمعمارتھے۔ان کے نزدیک آزادی، ایمان اورخودی ایسی ابدی قدریں ہیں جن پر کسی قوم کی زندگی اور موت کا دار و مدار ہے۔اقبالؒ کی نگاہ میں افغانستان اس امتِ مسلمہ کا دل تھا، جس کی بیداری پورے ایشیاء کی بیداری تھی۔دوسری طرف، اکیسویں صدی کے افغانستان میں ہونے والا دوحہ امن معاہدہ2020 استعمار کے خلاف طویل جدوجہد کا اختتام تھا۔ ایک ایسا واقعہ جو اقبالؒ کے امت مسلمہ سے جڑے خوابِ آزادی و خودی کا خلاصہ تھا، اقبالؒ کے خواب امت کی خودی اور افغانستان کے کردار کا تجزیہ اقبالؒ کے تصور امت کے تناظر میں کیا جائے تو یہ امر واضح الفاظ میں اجاگر ہوتا ہے کہ اقبالؒ کے نزدیک امتِ مسلمہ محض ایک مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک روحانی، تہذیبی اور سیاسی وحدت ہے، جو قرآن و سنت کے مرکز پر قائم ہے۔ان کے نزدیک مغربی استعمار نے اس امت کی خودی کو مضمحل کردیا اور اس کے افراد کےگلے میں غلامی کا طوق ڈال دیا۔اسی لئےاقبالؒ نے کہا:
نہ سمجھو گے تو مِٹ جائو گے اے ہندوستاں والو!
تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
یہ تنبیہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے نہیں تھی بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے تھی۔اقبالؒ کے نزدیک افغانستان وہ خطہ تھا جہاں اسلام کی حرارت، غیرت اور روحانی بیداری ابھی زندہ تھی۔انہوں نے ضربِ کلیم میں کہا۔
ایشیاء ایک پیکرِ آب و گل است
ملتِ افغان دراں پیکر دل است
ایشیا ایک جسم ہے، اور افغان قوم اس کا دل ہے۔اگر افغانستان میں فساد ہو، تو پورا ایشیاء بیمار ہو جاتا ہے۔اقبالؒ کا یہ تصور محض جغرافیائی نہیں، بلکہ روحانی اور تہذیبی ہے وہ افغانستان کو ایک ایسی سرزمین تصور کرتے تھے جہاں سے اسلامی تجدید، غیرت اور خودی کی روشنی پورے مشرق میں پھیل سکتی ہے۔1930ء کے بعد اقبالؒ نے واضح طور پر کہا کہ اسلامی دنیا کی نجات کا راستہ مشرق سے نکلے گا، مغرب سے نہیں۔اسی تصور کے تحت انہوں نے کہا
کعبہ سے بھی نزدیک تر ہے دل کا جہاں
لیکن دلِ مسلمان ابھی خودی سے دور ہے
اقبالؒ کو یقین تھا کہ جب افغان قوم اپنی روحانی خودی کو پہچان لے گی تو وہ صرف اپنی آزادی ہی نہیں بلکہ پوری امت کی آزادی کا پیش خیمہ بنے گی۔اگر ’’دوحہ امن معاہدہ کا بنظر غایت مطالعہ کیا جائےتویہ اقبالؒ کے’’خواب کاظہور‘‘ ہی ہے۔دوحہ امن معاہدہ (29فروری 2020) امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پایا۔یہ معاہدہ تقریباً دو دہائیوں کی مزاحمت کے بعد امریکی فوجوں کے انخلا اور افغان خودمختاری کے اعتراف کا عندیہ تھا۔سیاسی طور پر یہ واقعہ استعمار کے خلاف اسلامی دنیا کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ اقبالؒ کی فکر کے آئینے میں دوحہ معاہدہ اقبالؒ کا نظریہ خودی کا مظہر تھا، غلامی انسان کی خودی کو قتل کرتی ہے۔
افغان قوم نےعسکری اور فکری غلامی کے خلاف مزاحمت کر کے آزادی حاصل کی۔طالبان کی طویل مزاحمت، اپنی شناخت اورمقصد پر یقین،اقبالؒ کےخودی کےفلسفے کی عملی تعبیر ہے۔اقبالؒ کے نزدیک اسلام صرف مذہب نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات ہے۔دوحہ معاہدے نے افغانستان کو اسلامی بنیادوں پر نظم قائم کرنے کا موقع دیا۔اقبالؒ امت کو رنگ و نسل اور جغرافیہ سے بالاتر دیکھتے ہیں۔دوحہ معاہدے نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اتحادی جذبہ پیدا کیا۔
اقبالؒ مغرب کے مادی تمدن کے نقائص کو آشکارکرتے ہیں۔ دوحہ معاہدہ مغربی استعمار کے زوال اور مسلم مزاحمت کے عروج کی علامت ہے۔اگر اقبالؒ آج زندہ ہوتے، تو وہ طالبان کی فتح کو اسلامی خودی کی جزوی بحالی قرار دیتے،لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کرتے کہ صرف عسکری کامیابی کافی نہیں۔عدل، علم و عمل اور اخلاقی قوت کے بغیر آزادی برقرار نہیں رہ سکتی۔تاہم اقبالؒ کا خواب ابھی مکمل نہیں ہوا۔دوحہ معاہدہ اگرچہ استعمار کی خاتمےکی علامت ہے،لیکن اقبالؒ کے خواب کے مطابق ابھی اسلامی دنیا کو فکری اور اخلاقی بیداری درکار ہے۔افغانستان کو اب اقبالؒ کے بتائے ہوئے تین اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔
ایمان کی حرارت ،خودی کی بیداری،علم کی روشنی، مغرب کے علمی جبر سے چھٹکارا ،عدلِ اجتماعی،ایسا نظام جس میں فرد اورریاست دونوں اللہ کےحضورجواب دہ ہوں۔اقبالؒ کا خواب صرف ’’آزادی‘‘نہیں بلکہ ’’روحانی خودمختاری‘‘ہے اور یہی دوحہ معاہدے کے بعد افغانستان کا حقیقی امتحان ہے ،افغان قوم اگر اپنے ایمان کی حفاظت کرے،تو وہ پھر سے ملتِ اسلامیہ کا دل بن سکتی ہے اور جب دل زندہ ہوتا ہے، جسم خود بخود حرکت میں آجاتا ہے۔