Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

مناظروں کی تاریخی روایت اور موجودہ صورتحال

اسلامی تہذیب کی فکری روایت میں ’’مکالمہ‘‘ اور ’’مناظرہ‘‘ دو ایسے الفاظ ہیں جن میں امتِ مسلمہ کی علمی روح، استدلالی قوت اور فکری جستجو کا عظیم خزانہ وافر حالت میں ملتا ہے۔ ابتدا ئے اسلام ہی سے یہ امت محض عقیدے کی حامل قوم نہیں رہی، بلکہ دلیل، منطق، اور مکالمے کی بنیاد پر اپنے ایمان کی توضیح کرتی آئی ہے۔ قرآنِ مجید نے جہاں ایمان بالغیب کا درس دیا، وہیں یہ عندیہ بھی عطا فرمایا: ’’قل ھاتوا برھانکم اِن کنتم صادِقِین‘‘ یعنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو۔ یہی وہ آیت تھی جس نے تمدن اسلامی میں استدلال، سوال، اور مکالمے کی بنا ڈالی ۔عہدِ نبوی ﷺ سے لے کر خلافت راشدہ تک، اہلِ اسلام کے مناظرے ، اخلاق، علم اور حق گوئی کی بنیادوں پر استوار تھے۔ اختلاف کو تعصب کا پیش خیمہ تصور نہیں کیاجاتا تھا، بلکہ فہم و تدبر کا ایک زینہ سمجھا جاتا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے مناظرے اہلِ کتاب سے ہوئے، صحابہ کرام ؓکے مکالمے مرتدین عقلیت مشرکین سے، اور بعد میں علما نے فلسفیانہ و عقلی اعتراضات کا ایسا علمی دفاع پیش کیا جس نے اسلامی فکر کو منطق و برہان کی بنیاد عطا کی۔عباسی خلافت کے دور میں جب اسلام نے فلسفہ، سائنس، اور منطق کے دروازے کھولے، تو ’’مناظرہ‘‘ایک باقاعدہ علمی فن کی صورت ابھرا، معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ، اور اہلِ حدیث جیسے مکاتبِ فکر نے اختلاف کے باوجود استدلالی مباحثے کی وہ روایت قائم کی جس نے علمِ کلام، منطق اور مناظرہ کو باقاعدہ علمی علوم کی حیثیت دے دی۔ بغداد، نیشاپور، قرطبہ، اور دمشق کے علمی مراکز میں مناظرے صرف نظریات کی آرائش کا ذریعہ نہیں بلکہ ذہنوں کی تربیت کا وسیلہ بنے۔تاہم مرور زمانہ کے ساتھ یہ علمی روایت بتدریج اپنی روح کی قدر کھوتی چلی گئی۔
مناظرے حق کی تلاش کی بجائے فتحِ زبانی اور فرقہ وارانہ برتری کے ہتھیار بن گئے۔ برصغیر کے مناظروں کے کلچر میں استدلال کی جگہ تحقیر نے لے لی، اور علمی سنجیدگی کی جگہ خطابت دکھانے کے جذبے نے جا پائی۔ علم کی جگہ نعرہ اور اخلاق کی جگہ تعصب در آیا۔آج جب امت فکری تقسیم، سوشل میڈیا کے شور، اور مذہبی شدت کے عہد میں سانس لے رہی ہے ’’مناظرہ‘‘ ایک نیا روپ دھار چکا ہے۔ ٹی وی اسکرینز، یوٹیوب چینلز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والی بحثیں عموماً علمی مکالمہ نہیں بلکہ جذباتی تصادم کے مناظر پیش کرتی ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مناظرہ کی اس اصل روح کو سمجھیں‘ جو احترامِ اختلاف، قوتِ استدلال، اور نیتِ اصلاح پر قائم تھی۔مناظرہ اگر ’’حق کی تلاش‘‘ بن جائے تو علم جنم لیتا ہے،اور اگر ’’حق کی نمائش‘‘بن جائے تو صرف ضد اور تعصبات باقی رہ جاتے ہیں۔اسی امر کی نشاندہی کے لئے آج کا اظہاریہ تحریر کرنے کی ضرورت پڑی ہے ۔باردیگر اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہ دین اسلام کی علمی روایت میں ’’مناظرہ‘‘سے مراد اختلاف رائے کا اظہار ہی نہیں بلکہ حق کے اثبات اور باطل کے رد کا ایک باوقار وظیفہ بھی ہے ،قرآن مجید ،فرقان حمید نے بھی ’’جادلھم بالتی ہی احسن‘‘کو مکالمے کے اصول کی اخلاقی اساس قرار دیا ہے۔مناظرہ ایک منظم علمی روایت کی صورت ظہور پذیر ہوا اور منطق و فلسفہ اور علم کلام کی شکل میں مرتب و مدون ہو کر تاریخ اسلام کا حصہ بنا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا یہ تاریخی اور روایتی ورثہ جب بر صغیر کی سرزمین تک پہنچا تو فکری تطہیر اور مذہبی دفاع کا ذریعہ تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ گئی۔
دور حاضر میں سوشل میڈیا اور فرقہ وارانہ قباحتوں کے زیر اثر مناظرہ علمی تحقیق کی بجائے چرب زبانی کے ذریعے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا ذریعہ بن گیا ہے جس کی تازہ مثالوں سے یو ٹیوب چینلز لبریز ہیں ۔وہ جاوید احمد غامدی ہوں ، احمد جاوید ، سیداسد مشہدی یا تیز و طرار اور شعبدہ باز شمس الدین حسن شگری ۔ جنہوں نے یوٹیوب کو ٹفن طبع کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ۔شگری صاحب جس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ عرف عام میں مسلک بھی نہیں کہلایا جاسکتا اس کے لئے لفظ ’’مذہب‘‘استعمال کرتے ہیں اور کونوں کھدروں سے متعصب ترین ذاکر تلاش کرکے ان کے سامنے مقدمہ پیش کر کے انہیں وکیل مطلق ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں اور یہ سب مناظرہ کی آڑ میں کیا جاتا ہے ۔اس تناظر میں مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مناظرہ کلچر پر اس سے بڑا دور زوال شاید ہی کوئی آئے کہ فرقہ وارانہ سیاست کرنے والوں نے جا بجا اپنے ڈیجیٹل مورچے بنالئے ہیں ۔ اس طرح ’’ مناظرہ‘‘کی روایت کو آلودہ کر رہے ہیں۔
اسلامی مناظرہ کج بحثی کا کھیل نہیں ہے بلکہ عقل و دانش اور علمی امور کا سنجیدہ اظہار ہے ،جس میں دلیل دیتے ہوئے بھی علمی تنوع کی ضرورت ہوتی ہے ، بات کرنے والے کو حسن اخلاق ہر بھی خاص دھیان رکھنا ہوتا ہے اور سب سیاہم پہلو یہ کہ خلوص نیت کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے ۔اگر یہ سارا عمل زبانی جنگ تک محدود ہو تو بحث کرنے والے کی ذاتی ہوس کی تکمیل تو ہو جاتی ہے مگر اس کے اس عمل سے جو ایک تاریکی جنم لیتی ہے اس کا احساس نہ صرف یہکہ اس کے من میں مر جاتا ہے بلکہ سننے والے پر بھی ایک یبوست سی طاری ہوجاتی ہے۔گزشتہ اظہاریئے میں میں نے جن دانشوران ملت کا ذکر کیا ان میں احمد جاوید ایسے ہیں جو کلمات حق کا اظہار کرتے کرتے نہ جانے مبالغہ آرائی پر کیوں مجبور ہوجاتے ہیں کہ جیسے طویل بات کئے بغیر ان کلیجہ ٹھنڈا ہی نہ ہوتا ہو ۔ اپنے ایک پوڈ کاسٹ میں انہوں نے شمس الدین حسن شگری سے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ’’میری ایک دادی شیعہ تھیں‘‘یہ ایک بلا ضرورت جملہ تھا جو نفسیاتی دبائو کے تحت انہوں نے اگل دیا حالانکہ اس کی چنداں آحتیاج نہ تھی ۔اسی امر سے علمی زوال شروع ہوتا ہے جو گفتگو کی بنیاد کوہی کمزور نہیں کر دیتا بلکہ دلیل کی کمی کا کا شاخسانہ لگتا ہے ۔مناظرہ کا مقصد غائی حق کی تلاش اور فکری حسن آرائی ہونی چاہیئے نہ کہ ہار جیت کی تمنا یا تشہیر ذات کی خواہش۔ڈیجیٹل عہد نے اظہار رائے کو جس قدر سہل بنا دیا ہے اس سے صحیح استفادہ اسی صورت کیا جا سکتا ہے کہ دلیل ،دلیل سیٹ کرانے کے لئے پیش کرنے کی بجائے بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے دی جائے۔موجودہ مناظروں خصوصاً ایک خاص فرقے کے دانش وروں نے اسے علمی کھیل تماشہ بلکہ حظاٹھانے کا ذریعہ بنا لیا ہے، مذہبی گفتگو کو تفنن طبع کا لازمہ بنالیا ہے ۔ مخالف کو لاجواب کرناہی غرض ہوتی ہے اور بس۔ایک اور امر جس پر توجہ مرکوز کئے جانے کا احساس واضح دکھائی دیتا ہے وہ یہ کہ مذہبی ہی نہیں فرقہ وارانہ جذبات پر تیل چھڑک کر انہیں زیادہ سے زیادہ بھڑکانے کی سعی کی جاتی ہے اور مناظرہ کے ایسے کلپس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل میں شدت پسندی اور تنگ نظری کا مرض فروتر ہورہا ہے ۔جب ’’مناظرہ‘‘نامکمل معلومات اور فقط کج بحثی کی صورت میں ہوگا تو نفرتوں کے بڑھنے کا احتمال بھی زیادہ ہوگا۔جب تک مناظرہ کے ماخذات معتبر اور مناظر کی نیت میں خلوص نہیں ہوگا اس کی افادیت کسی طور معاشرے یا مخاطب افراد پر مرتب نہیں ہوگی۔آج کا مناظرہ شہرت کے حصول کے اغراض و مقاصد زیادہ اور علمی اعتبار کم لئے ہوئے ہوتا ہے ۔جب یہ یہ روش تبدیل نہیں کی جاتی منظر ہ کی حقیقی روح زندہ نہیں ہو سکتی ۔چند مصاحبین کو واہ واہ کے لئے اپنے گرد بٹھا کر طعن تشنیع کے ہتھیار آزمانا مناظرہ نہیں جگالی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں