Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

قانون توہین رسالت! کہیں نئی واردات نہ پڑ جائے؟

قانونِ توہینِ رسالت ﷺ پاکستان کی نظریاتی اور دینی اساس کا وہ مضبوط ستون ہے، جس کی بنیاد ایمان، عشقِ مصطفی ﷺ اور حرمتِ رسالت ﷺ کے غیر متزلزل عقیدے پر رکھی گئی ہے۔ یہ قانون محض ایک آئینی دفعہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ جب بھی کسی نے اس قانون میں ترمیم یا کمزوری کی بات کی، عوام نے اسے اپنے ایمان پر حملہ سمجھا۔ آج پھر اقتدار کے ایوانوں میں کچھ عناصر اس مقدس قانون کو ’’حفاظتی اقدامات‘‘ کے نام پر غیر موثر بنانے کی کوشش میں ہیں، جس سے اہلِ ایمان کے دلوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے کہ اقتدار کے ایوانوں میں وقتاً فوقتاً یہ سازشیں کی جاتی رہی ہیں کہ کسی بھی طرح توہین رسالت کے قانون دفعہ 295 سی کو غیر موثر کیا جائے۔
مورخہ 17اکتوبر 2025 ء کو ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی۔جو سپریم کورٹ میں منعقدہ ایک تقریب کے متعلق تھی۔ اخبار کی خبر کے مطابق مذکورہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ’’توہینِ رسالت کے قوانین میں حفاظتی اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں۔توہینِ رسالت سے متعلق مقدمات میں قانون کے غلط استعمال کو روکنے اور بروقت انصاف کو یقینی بنانے کے لئے حکومت توہینِ رسالت سے متعلق مقدمات میں طریقہ کار کے حفاظتی اقدامات متعارف کرا رہی ہے‘‘اس حوالے سے گزارش یہ ہے کہ توہین رسالت کے مقدمہ کے اندراج کے متعلق پہلے بھی یہ قانون موجود ہے کہ ایس پی رینک سے نیچے کا کوئی افسر اس مقدمہ کی تفتیش نہیں کر سکتا۔یہ قانون صرف توہین رسالت کی دفعہ 295 سی کے حوالے سے ہی موجود ہے۔کسی اور دفعہ کے حوالے سے نہیں۔ایس پی رینک سے نیچے کے افسر پر توہین رسالت کے مقدمہ کی تفتیش پر پابندی اسی لئے عائد کی گئی ہے کہ اس کی سزا صرف سزائے موت ہے،تاکہ کسی کے خلاف غلط مقدمہ درج نہ ہو۔ایس پی یا ایس پی کے رینک سے اوپر کا افسر ذمہ دار افسر ہوتا ہے،تو اس کی تفتیش بہتر ہوگی۔جب پہلے سے ہی صرف توہین رسالت کی دفعہ کے متعلق یہ امتیازی قانون موجود ہے تو دفعہ 295 سی میں مزید حفاظتی اقدامات شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تعزیرات پاکستان میں قتل‘زنا بالجبر سمیت دیگر کچھ جرائم اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھی کچھ جرائم کی سزا بھی سزائے موت ہے،مگر ان دفعات کے تحت مقدمہ کے متعلق تو کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کئے گئے۔جبکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آج تک توہین رسالت کی دفعہ 295 سی کے تحت درج ہونے والے کسی ایک مقدمہ میں بھی کوئی ایک ملزم بھی پاکستان کی کسی بھی عدالت سے باعزت بری نہیں ہوا۔ دوسری طرف قتل،زنا اور دہشت گردی وغیرہ کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات کا غلط استعمال ثابت ہے۔ان دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات کے متعلق ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ملزمان کی سزائے موت یا عمر قید پر عملدرآمد کے بعد بھی سپریم کورٹ نے انہیں باعزت بری کیا۔جن قوانین کا بے دریغ غلط استعمال ہو رہا ہے،ان قوانین کے تحت اندراج مقدمہ کے حوالے سے تو حفاظتی اقدامات کی کبھی کوئی بات نہیں کی جاتی۔توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی کوئی ایک مثال موجود نہیں ہے،لیکن پھر بھی ہر کچھ عرصے بعد اسی قانون کے خلاف سازش کی جاتی ہے۔
حال ہی میں توہین رسالت کے مرتکب ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق انکوائری کمیشن تشکیل دینے کے متعلق جب اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں متنازع کیس کی سماعت جاری تھی تو اس دوران جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے متعدد مواقعوں پر یہ بات کی تھی کہ ’’توہین رسالت کے قانون میں حفاظتی اقدامات شامل کئے جانے چاہئیے‘‘۔سوال یہ ہے کہ وزیر قانون کا یہ بیان کہ حکومت توہین رسالت کے قانون میں حفاظتی اقدامات کو شامل کررہی ہے،کیا یہ توہین ریاست کے ملزمان کو تحفظ دینے کے ایجنڈے کا حصہ نہیں؟ تعزیرات پاکستان کا باب 15 توہین مذہب، توہین رسالت، توہین قرآن،توہین صحابہ و اہل بیت وغیرہ کے متعلق جرائم کی سزا کے متعلق ہے۔اس باب میں درج مذہبی جرائم کے متعلق تمام دفعات کو بھی دیکھا جائے تو صرف توہین رسالت کی دفعہ 295 سی اور توہین صحابہ و توہین اہل بیت کی دفعہ 298 اے میں Deliberate and malicious intention یعنی ’’دانستہ اور بدنیتی سے جرم کا ارتکاب کرنا‘‘، Intention of insulting یعنی ’’توہین کے ارادے سے جرم کا ارتکاب کرنا‘‘، Intention of wounding یعنی ’’مجروح کرنے کے ارادے سے جرم کا ارتکاب کرنا‘‘ ، Voluntarily یعنی ’’رضاکارانہ طور پر جرم کا ارتکاب کرنا‘‘ اور Wilfully یعنی’’جان بوجھ کر جرم کا ارتکاب کرنا‘‘ جیسی کوئی قید نہیں لگائی گئی۔ان دو دفعات یعنی توہین رسالت و توہین صحابہ و توہین اہل بیت کے متعلق دفعات کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی تمام دفعات میں مذکورہ ’’قید‘‘ میں سے کوئی نا کوئی قید موجود ہے۔توہین رسالت کی دفعہ 295 سی اور توہین صحابہ و توہین اہل بیت کی دفعہ 298 اے میں ایسی کوئی قید اس لئے موجود نہیں کہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ شریعت میں بھی ان دو جرائم کے مرتکب ملزمان کی نیت جاننے کے متعلق کوئی قید موجود نہیں ہے۔اسی لئے قانون سازی کے وقت بھی ان دو قوانین میں ایسی کوئی قید نہیں لگائی گئی۔
اگر کوئی ایسی ترمیم کی جاتی ہے تو اس کا مقصد سوائے توہین رسالت کے مرتکب ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے؟ ایک شخص توہین رسالت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی نیت معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ کس نیت سے اس نے ایسا کیا؟اگر توہین رسالت کے قانون میں مذکورہ قید میں سے کوئی ایک قید بھی شامل کی گئی تو پھر ہر ملزم اس کا فائدہ اٹھائے گا اور خدا نخواستہ توہین رسالت کا ارتکاب معمول بن جائے گا۔ان حقائق کی روشنی میں اس خاکسار کی مولانا فضل الرحمن ،مفتی منیب الرحمن ، مفتی محمد تقی عثمانی ،مولانا محمد حنیف جالندھری سمیت دیگر مذہبی و مسلمان سیاسی قیادت سے درخواست ہے کہ اس معاملے پر خصوصی توجہ فرمائیں۔اس سے قبل کہ ایوان اقتدار میں گھسی ہوئی کالی بھیڑیں اس حوالے سے خاموشی سے کوئی واردات ڈال دیں۔وزیر قانون اور حکومت سے یہ سوال بنتا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے متعلق کوئی بھی اقدام کرنے کے متعلق کسی بھی فیصلے کے حوالے سے مذہبی جماعتوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا گیا؟جبکہ یہ ایک حساس مذہبی معاملہ ہے۔امید ہے کہ آپ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ توہین رسالت کے قانون کے متعلق کوئی بھی اقدام مذہبی جماعتوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر حکومت نہیں اٹھائے گی۔

یہ بھی پڑھیں