نومبر کی ہوا میں سردی کی پہلی جھونک جب جموں کی وادیوں سے گزرتی ہے تو زمین کے سینے میں دفن لاکھوں لاشوں کے احترام میں اپنی تندی بھول جاتی ہے ، باد بہاری جموں کی وادیوں میں اترتی ہے تو ،شہداء کے لہو سے سینچی گئی دھرتی ، پھولوں کی صورت اپنے زخم کھولتی ہے، جیسے کوئی بوڑھا سپاہی اپنا پرانا تمغہ دکھاتا ہو۔ وادی کی چھوٹی چھوٹی جڑی بوٹیاں اور پھول لہو کی خوشبو کو پھیلاتی ہیںاور خزاں رسیدہ درخت اپنے پتے گراکر انسانیت کے قتل کا سوگ مناتے ہیں۔ سورج روز شام شرم سے ڈھل جاتا ہے، جیسے اس نے دیکھا ہو کہ اس کی روشنی میں تلواریں چمکی تھیں۔ جموں کے قتل عام کی یادایک لامتناہی نوحہ ہے، جو نہ تو گیت بن سکتا ہے، نہ خاموش ہو سکتا ہے۔ بس ہر سال، جب نومبر آتا ہے، زمین اپنا سینہ کھولتی ہے،شہدائے جموں کی صدائیں ہوا میں اڑتی ہیں — ،جیسے آسمان کو چیرتی ہوئی، دنیا کے کانوں تک پہنچنا چاہتی ہوں۔ یہ قتل عام تھا ، انسانیت کا قتل ، نسل کشی کی ایسی سفاک واردات جو دنیا کے سامنے ہے اور امن ،آشتی اور انصاف کے عالمی دعویدار نہ صرف مہر بلب ہیںبلکہ دہشت گرد ہندوتوا کی خاموش حمائت کے مرتکب ہیں ، یعنی شریک جرم ۔
یہ وہ مہینہ ہے جب 1947 میں ایک پوری قوم کو ان کےخواب پاکستان کے دھوکے میں موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا۔”سیالکوٹ پہنچ جاؤ، محفوظ رہو گے” یہ جھوٹ ڈوگرہ فوج کے لاؤڈ سپیکر سے پھیلایا یا،قافلے چلے تو تلواروں کی چمک نے سورج کو شرما دیا،دریائے چناب سرخ ہو گیا، توی کا پانی لہو سے بھر گیا، اور جموں کی گلیوں میں بچوں کی چیخیں ہوا میں جم گئیں۔یہ کوئی اچانک فساد نہیں،منظم قتل عام تھا ۔ جس کی بنیاد 1941 کی مردم شماری میں رکھی گئی تھی جب جموں میں مسلمان 61 فیصد تھے۔مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی فوج سے مسلم فوجی نکالے، پونچھ کے جنگ عظیم سے واپس آئےمسلم سپاہیوں پر ٹیکس لگائے، اور پھررمبیر سنگھ پورہ میں ہندوتوا دہشت گرد تنظیم’’ آر ایس ایس‘‘ کے کیمپ میں قائم کیے۔ 19 جولائی 1947 کو مسلم کانفرنس نے الحاق پاکستان کی قرارداد پاس کی تو مہاراجہ کے ہاتھ کانپ گئے۔ انہیں پتہ تھا کہ جمہوریت میں وہ ہار جائیں گے۔The Times London کی 10 اگست 1948 کی رپورٹ اب بھی برطانوی لائبریری کے کسی گرد آلود گوشے میں مل سکتی ہے”2 سے 5 لاکھ مسلمانوں کو منظم انداز میں قتل کیا گیا۔” The Sunday Times نے 9 نومبر 1947 کو لکھا: “جموں سے پناہ گزینوں کی ٹرینیں خوفناک کہانیاں سناتی ہیں۔” ایان اسٹیفنز نےلکھا: “یہ ڈوگرہ حکومت کی سرپرستی میں منظم قتلِ عام تھا۔” وکٹوریا اسکوفیلڈ نے Kashmir In Conflict میں اس کا حوالہ دیا: “11 ہفتوں میں 5 لاکھ کی آبادی ختم۔ 2 لاکھ لاپتہ، باقی ہجرت پر مجبور۔”وید بھاسن، کشمیر ٹائمز کے بانی، جو خود چشم دید تھے، لکھتے ہیں: “ہندو اور سکھ بلوائی ننگی تلواریں لے کر گلیوں میں گھوم رہے تھے۔” امان اللہ خان نقشبندی، جو اس وقت دس سال کے تھے،آج بھی خوابوں میں دیکھتے ہیں کہ ان کی ماں اور بہنیں پریڈ گراؤنڈ سے نکلتے ہی گولیوں کا نشانہ بن گئیں۔وہ بچ گئے،مگر 17رشتہ داروں کی لاشیں چناب میں بہتی دیکھیں ۔یہ محض اعداد نہیں، انسانی کہانیاں ہیں۔ چودھری غلام حسین نے سیالکوٹ پہنچ کر بتایا: دریائے توی کا پانی سرخ ہو گیا تھا۔ راجہ محمد اکبر خان نے Kashmir in Flames میں لکھا: بچوں کی لاشیں سڑکوں پر بکھری تھیں۔ سید سجاد حسین نے لاہور میں انٹرویو دیا:ماں اور دو بہنیں اسی دن شہید ہوئیں۔ Ian Stephens نے Horned Moon میں تصدیق کی: “پورے قافلے گھات لگا کر تباہ کیے گئے۔”The Spectator نے 16 جنوری 1948 کو لکھا:برطانیہ میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جموں میں مسلمانوں کا منظم صفایا کیا گیا۔ Alan Campbell Johnson نے Mission with Mountbatten میں کہا:یہ نسلی تطہیر تھی تاکہ الحاق سے پہلے آبادی کا تناسب بدلا جائے۔ Horace Alexander نے The Guardian میں لکھا: “تقسیم کا سب سے خونریز واقعہ۔” Christopher Snedden نے Kashmir: The Unwritten History میں کہا: “یہ آبادیاتی انجینئرنگ تھی۔”یہ سب کچھ پاکستان کے نام پر ہوا۔ “پاکستان جاؤ” کا نعرہ موت کا پروانہ بن گیا۔ لوگ اپنے گھر چھوڑ کر نکلے تو انہیں ٹرکوں میں بٹھایا گیا، بیل گاڑیوں میں لادا گیا، اور پھر راستے میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں، بچوں کو ماں کی گود سے چھین کر دریا میں پھینک دیا گیا۔ جو بچ گئے، وہ سیالکوٹ، لاہور، گوجرانوالہ پہنچے۔ پانچ لاکھ سے سات لاکھ کی تعداد میں۔آج 78 برس بعد بھی وہی منصوبہ جاری ہے۔ 1947 میں تلواریں تھیں، آج آرٹیکل 370 کی منسوخی ہے۔ اس وقت بلوائی تھے، آج فوج ہے۔ اس وقت کھلا قتلِ عام تھا، آج زمینوں کی ضبطی، نوکریوں سے برطرفیاں، شہریت کے نئے قوانین۔ مقصد وہی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا۔نور محمد، جو اب بوڑھے ہیں،بتاتے ہیں: میں نے دیکھا کہ میری بہن کو گھسیٹ کر لے گئے۔” ان کی آواز کانپتی ہے، مگر آنکھیں اب بھی 1947 میں ہیں۔ہر سال 6 نومبر کو کشمیری “یومِ شہدائے جموں” مناتے ہیں۔
شہدائے جموں کا لہو چیخ رہا ہے کہ ہم بھولے نہیں۔ 1989 سے اب تک ایک لاکھ سے زائد جانیں اسی تسلسل میں گئیں۔ آج بھی مقبوضہ وادی میں بچے گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں، مائیں بیوہ ہوتی ہیں، گھر جلتے ہیں۔یہ دن دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ برطانوی اخباروں کی رپورٹیں، چشم دید گواہوں کی شہادتیں، تاریخی دستاویزات سب چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ یہ کوئی حادثہ نہیں، منصوبہ تھا۔ اور یہ منصوبہ اب بھی جاری ہے۔شہدائے جموں کا پیغام واضح ہے، آزادی خون سے ملتی ہے، لفظوں سے نہیں۔ ہمارا قلم، ہماری زبان، ہمارا عمل سب اسی مشن کے امین ہیں۔ جب تک کشمیر کا سورج خون آلود طلوع ہوتا رہے گا، تب تک یہ کہانی نئی نسل کے کانوں میں گونجتی رہے گی۔جموں کا لہو خشک نہیں ہوا،وہ اب بھی بہتا ہے،وادی کی ندیوں میں نہیں،کشمیری ماں کے آنسوؤں میں، اور ہر اس بچے کی چیخ میں جو آج بھی گولی کا نشانہ بنتا ہے۔ یہ خون تاریخ نہیں جسے دفن کردیا جائے، زندہ حقیقت ہے،جیتی جاگتی سانس لیتی حقیقت۔ اور جب تک اس کا بدلہ نہ لیا جائے، ظالم کی نیند حرام رہے گی۔
