Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

خودنوشت کاسفر

اردو ادب میں خودنوشت کی تاریخ بہت زیادہ پرانی نہیں ہے تاہم بیسویں صدی میں یہ اہک مقبول و معتبر صنف کے طور پرابھری۔یوں بھی اردو نثر کے باقاعدہ ارتقا کا دور فورزٹ ولیم کالج سے 1800 کے بعد ہی شروع ہوا اور اسی دور میںتذکرہ، سوانح عمری ، سفر نامے،خودنوشت اور انشائیے کا رواج ہوا۔
سرسید احمد خان اور ڈپٹی نذیر احمد کی تحریروں میں جہاں تخیلاتی رنگ دکھائی دیا وہیں ذاتی نمود کی جھلک بھی نمایاں نظر آئی۔1947 ء میں سوانح نگاری باقاعدہ ایک ادبی صنف کے طورپر منصہ شہود پرآئی ،اصلاحی تحریکوں اور آزادی کی تحریک کے دوران بدلتے ہوئے سیاسی بیانیئے نے اس صنف کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی ’’تذکرہ‘‘ مولانا حسین احمد مدنی کی ’’نقش حیات‘‘ مولانا شبلی نعمانی کی یاد داشتوں اور خطوط میں خود نوشت کا رنگ غالب تھا۔پھر تقسیم ہند کے بعد خود نوشت نے نئی کروٹ لی۔قاضی عبدالستار، رضیہ فصیح احمد ،قرۃ العین حیدر ،حیات اللہ انصا ری ، جوش ملیح آبادی اور متعدد دوسرے خودنوشت نگاروں کی ایک کھیپ کے ہاتھوں یہ صنف پروان چڑھی۔اور یہ خود نوشتیں ہی ہیں جنہوں نے بر صغیر کے عوام کا سیاسی شعورجگایا اور اسی حوالے سے ادبی تحریکوں میں جان پڑی ۔اردو خودنوشت نگاری اردو ادب کی زندہ تاریخ ہے وہ تاریخ جس میں جذبات و احساسات کی سچائی سمٹی ہوئی ہے ۔
تقسیم ہند کے بعد کے سوانح نگاروں نے ہجرت اور سیاسی انتشار کے بیچ نئی شناخت تلاش کرنے کی کوشش کی ۔بہرحال عصر حاضر کی خودنوشت فقط ذاتی حوالوں یاذاتی یادداشتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اپنے عہد کی اجتماعی تاریخ اور فکری تجزیئے کے بیانیئے کا روپ دھار چکی ہے ۔ اس طویل تمہید کے بعد جس خود نوشت کا ذکر مقصود ہے وہ حال ہی میں منظر عام پرطلوع ہوئی ہے ” بکھری ہے میری داستان عہد حاضر کے معروف شاعر، صاحب اسلوب نثر نگار اور دل پاش پاش کردینے والے کالم نویس محمداظہار الحق کی سوانح عمری ہے۔جس میں موصوف نے ہمارے اندرونی خلفشار، سماجی نظام میں پائی جانے والی کج ادائیوںاور ایک بیروکریٹ ہونے کی حیثیت سے نوکر شاہی میں پائے جانے والے سازشی عناصر کا بیلاگ تذکرہ کیا ہے ۔
محمد اظہار الحق کا وصف یہ ہے کہ وہ سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر رکھتے ہیں ۔انہوں نے زمانہ تعلیم سے لے کر ملازمت تک میں آنے والی تنگ نائیوں کا ذکر تلخ و شیریں الفاظ میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے پر معانی کا ایک جہاں کھل جاتا ہے ۔وہ اپنے سماجی و سیاسی نظام اور ریاست کے جن اداروں سے وابستہ رہے ان میں پائی جانے والی منافقتوں کا برملا اظہار کرتے ہیں ۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری داخلی بے اعتدالیوں کی اندرونی گواہی ہیں جس پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کیا جا سکتا ہے ۔وہ کسی سیاسی کھونٹے کے ساتھ بندھے ہوئے قلمکار نہیں ہیں ۔ان کی رائے کو تمام طبقات میں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔
جہاں تک ان کی ذاتی زندگی کا تعلق ہے ’’بکھرائو‘‘ ہی ان کی حیات کا سب سے بڑا استعارہ ہے ۔وہ اپنے ماضی کی یادوں کا احاطہ کرنے لگتے ہیں تو ان کی ذات کا ’’بکھرائو‘‘ انہیں مختلف جہتوں کی اور بھٹکاتا ہو ا دور و دراز کی سمتوں میں لے جاتا ہے ،لیکن ان کا کمال ہنر یہ ہے کہ اپنے قاری کو مخمصوں کی سان پر نہیں چڑھاتے۔
وہ عہد حاضر کی نظریاتی شخصیات کے حوالے سے تعصب کی روش اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں ،تاہم انہیں برہنہ سچ کے بیان کرنے کا بیباق سلیقہ و قرینہ آتا ہے کہ طنزیہ بات کرتے ہوئے بھی وہ احمد بشیر کی طرح ننگی زبان استعمال نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں