مولانا فضل الرحمن کا دور حاضر کے ان پاکستانی پارلیمنٹیرین میں شمار ہوتا ہے جن کی دانش و بیش کے چرچے چہار دانگ مشہور و معروف ہیں۔فیس بک پر بعض متعصب لوگ ان کے بارے جتنے بھی ناروا الفاظ اور غیر مہذب جذبات و احساسات کا اظہار کرتے رہیں ان سے مولانا کے سیاسی قد آورعلمی مقام و مرتبے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان کے سیاسی افکار و نظریات سے ہزار ہا اختلافات رکھنے کے باوجود ان کی سیاسی بلوغت رائے کے وزن کو کم تر سمجھنے والے خود سیاسی امور سے نابلد ہونے کے ساتھ ان کے بارے میں بغض معاویہ بھی رکھتے ہیں ۔
سیاسی رن کے دنوں میں ان کی معاملہ فہمی جہاں بیشتر امور کے طے کرنے میں ہمیشہ مثبت رہی ہے وہاں ذاتی طور پر وہ اپنے مفادات کا دھیان رکھے بغیرنہیں رہ سکتے ۔انہیں اپنے خیش قبیلے کی مراعات یا سیاسی حیثیت کا خیال بھی ہمیشہ دامن گیر رہا ہے تاہم جب وہ بھر پور سیاسی ترنگ میں ہوں تو ان کی گفتگو ایک مدبر سیاستدان جتنی پر تاثیر اور پراثر بھی ہوتی ہے ۔
قومی اسمبلی سے ان کا حالیہ خطاب بڑے بڑے مدارالمہام سیاسی فکر و دانش رکھنے والوں سے بہت بلند تر تھا ۔انہوں نے جن دلائل و براہین سے سیاسی تلخیوں کے تناظر ،عدلیہ کی ہئیت، مقتدرہ اور سول بیوروکریسی کا تذکرہ کیا اور ان کے احوال پر نوحہ گری کی وہ انہیں پر بس ہے ،اور کون ہے جو اس قدر اعتدال و توازن کے ساتھ ٹھنڈے میٹھے لہجے میں بات کر سکتا ہے اور یہی ان کے اکابر کا لب و لہجہ ہوتا تھا کہ تفنن طبع کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ سب کچھ کہہ دیتے تھے تو کسی اور کی زبان و بیاں سے گراں تر گزرے ۔
مولانا جب ایکسٹینشن کا تذکرہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھ بندھنے کی بات کر رہے تھے تو صاف ظاہر تھا کہ وہ کس چابکدستی سے غلطی کا اعتراف بھی کر رہے ہیں اور اپنی مجبوری کا اقرار بھی۔مولانا نے کبھی اعتزال میں بیٹھ کر سیاسی تماشا نہیں دیکھا بلکہ ہر قسم کے حالات میں ملک و ملت کے جسد پر چرکے لگانے والوں کے خلاف آواز بلند کی ۔
تاہم سیاسی مصحف تاریخ میں کچھ واقعات ایسے بھی ہیں جو زیبا تو نہ تھے مگر مولانا ان میں ملوث ہوکر اپنی نیک نامی کو بے اعتدالی کے داغ سے بچا نہ سکے ۔
آمر مشرف کے زیر سایہ بننے والی ایم ایم اے ہو یا سیاسی طالع آزما خاندان کی ہوس اقتدار کے لئے طے پانے والی پی ڈی ایم، یہ دونوں غیر جمہوری اقدام تھے مولانا جن کا اٹوٹ انگ رہے ۔
برسبیل تذکرہ مجھے یہ کہنے بھی باک نہیں کہ مولانا نے جب عمران خان کو بار بار یہودی ایجنٹ کہا تو ان کے منہ پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔حقیقت یہ ہے کہ مولانا کی سیاسی عمر اب اتنی ہوچکی ہے کہ انہیں بے سرو پا بہتانوں کی سیاست سے گریز کرنا چاہیئے ۔
اپنے موجودہ خطاب میں مولانا کا یہ کہنا کہ ’’وہ ایوان جس پر یہ چھاپ لگ جائے کہ یہ عوام کا نمائندہ کم اور اسٹیبلشمنٹ کازیادہ ہے تو ایوان کو اسٹیبلشمنٹ کی نوکری کر لینی چاہیئے‘‘ انہوں نے واشگاف الفاظ میں عسکری قیادت اور عدلیہ تک یہ پیغام پہنچایا کہ ملک میں جمہوریت کو کمزور کر نے کے حیلے کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے آئین کے ساتھ کئے جانے والے کھلواڑ کی واضح مذمت کی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا نے آئین پاکستان کی آبرو باختگی کے حق میں ووٹ نہیں دیا مگر دیکھا جائے تو آپ نے اس کے خلاف بھی ووٹ نہیں دیا ،ایسے موقع پر ایوان سے آپ کی غیر حاضری بھی بہت سارے وسوسوں کو جنم دیتی ہے کہ کہیں اب کے بھی اپنے بھائی کی کسی خواہش سے وابستہ امید نے تو انہیں ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا۔بہر حال ایون سے ان کا انتہائی فکر انگیز خطاب حکمرانوں اور مقتدرہ کے حوالے سے اپنے اندرایک چشم کشا سندیسہ لئے ہوئے ہے‘ اس پر سنجیدگی سے غور وفکر کی ضرورت ہے ۔مولانا کے اس خطاب کے متن کو اگر الفاظ کا پلندہ سمجھ لیا گیا تو مستقبل میں سیاسی انتشار بڑھیں گے اور عوام کے اندر حکومت کی نفرت کے امکانات دو چند ہوجائیں گے۔