Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

وطن کی سڑکوں پر رقص بہیمیت

(گزشتہ سے پیوستہ)
اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے سربراہ کی بہنوں پر کئے جانے والا ظلم و تشدد جسے بہیمیت سے بھی بڑھ کر کوئی نام دیا جاسکتا ہے اسے کیا سمجھنا چاہیئے ۔ایک خونی انقلاب کو دعوت دینا یا دنیا پر یہ ثابت کرنا جس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اس ملک کی ا پنے نظریئے سے مغائرت کہ ہمارے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ساری اسلامی جنگوں میں عورت کے تحفظ کو ملحوظ خاطر رکھنے کی تلقین کی تھی ۔ نیچے عہد بہ عہد جائزہ پیش ہے تاکہ مسئلے کا ارتقائی پس منظر سمجھ میں آئے:
1۔ ابتدائی دہائیاں (1947-1977) شرم و حیا ء کا معاشرہ، مگر محفوظ نہیںابتدائی پاکستان میں عورت کے خلاف گلی اور سڑک پر تشدد کے واقعات اخبارات میں کم رپورٹ ہوتے تھے، اس لیے یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ سماج محفوظ تھا۔لیکن سماجی مرخین بتاتے ہیں کہ:شہروں میں اوباش گروہوں کی چھیڑ چھاڑلوکل بسوں میں ہراسانیکمزور طبقے کی خواتین کا استحصالاخبارات کم لکھتے تھے مگر واقعات موجود تھے۔ سماج ’’پردہ کلچر‘‘کی آڑ میں خاموش رہتا تھا۔
2۔ ضیاء الحق کا دور (1977-1988) عورت کے بدن سے شروع ہونے والی کنٹرول کی سیاستیہ وہ دور تھا جب ریاستی سطح پر عورت کے جسم کے گرد قوانین، ایجنڈے اور اخلاقیات کی دیواریں کھڑی ہوئیں۔حدود آرڈیننس، ریپ کے مقدمات کا پیچیدہ ہوناپولیس کا غیر پیشہ ورانہ رویہ عوامی مقامات پر عورت کے تحفظ کا تصور بھی نہیں تھااسی دور کے اثرات نے سڑکوں پر عورت کی عدم تحفظ کو مزید بڑھایا۔ عورت کے خلاف جرم اخلاقی غلطی کے بجائے ’’عورت کی اپنی غلطی‘‘سمجھا جانے لگا۔
3۔ 1990ء کی دہائی میڈیا کا ظہور اور حقیقت کا انکشاف اس دہائی میں اخبارات اور نئے ٹی وی میڈیا نے وہ سب کچھ دکھانا شروع کیا جو پہلے چھپایا جاتا تھا:چلتی بس میں اجتماعی زیادتیورکنگ ویمن پر سڑکوں پر حملے چھوٹے شہروں میں بااثر افراد کی جارحیت یہ دور خطرات میں کمی کا نہیں، انکشافات کا دور تھا۔
4۔ 2000s دہشت گردی، بے روزگاری اور شہری افراتفری نئے ہزارے میں شہر تیزی سے پھیلے، ریاست کمزور ہوئی، پولیس کی گرفت کمزور اور ہجوم کی اخلاقیات مزید گر گئیں۔مشہور کیسز اسی دور میں سامنے آئے جہاں:خواتین کو سڑکوں پر بے عزت کیا گیا بازاروں میں ہجوم نے خود سزا کے نام پر عورت کو نشانہ بنایا موبائل کیمرے آئے تو درندگی کے مناظر ریکارڈ ہونے لگے یہ دراصل ریاستی اداروں کے انہدام کا دور تھا۔
5۔ 2010- 2020 ء سوشل میڈیا نے نقاب اتار دیایہ وہ دور ہے جس میں سوشل میڈیا نے عورت کے خلاف سڑکوں پر ہونے والی بہیمیت کو پوری دنیا کے سامنے رکھ دیا۔اہم واقعات کی مثالیں (دلیل کے طور پر) لاہور موٹر وے واقعہ مینارِ پاکستان کا ہجوم حملہ بسوں، میٹروز، بازاروں میں روزانہ کی ہراسانیاںیہ دور بتاتا ہے کہ مسئلہ کہیں اندر چھپا ہوا نہیں: وہ سڑک کے بیچ کھڑا ہے اور چیخ رہا ہے۔
6۔ 2020ء کے بعد ہجوم کی اخلاقیات کا مکمل انہدام اب مسئلہ انفرادی مجرمان کا نہیں رہا، بلکہ ہجوم جرم کو’’تماشہ‘‘سمجھتا ہے لوگ بچانے کے بجائے ویڈیو بناتے ہیںپولیس جرم روکنے کے بجائے بعد میں بیان دیتی ہے میڈیا درندگی کو ریٹنگ میں بدل دیتا ہے یہ اجتماعی شکستِ اخلاقیات کا عہد ہے۔نتیجہ: یہ صرف سڑکوں کی نہیں، ریاستی ذہنیت کی کہانی ہے پاکستان کی سڑکوں پر عورت پر بہیمیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جرم کبھی اچانک نہیں ہوتامجرم کبھی صرف فرد نہیں ہوتاسڑک کبھی صرف اتفاقی جگہ نہیں ہوتی یہ سب ریاست، سماج، عدلیہ، پولیس، خاندان، اور پدر سری ساخت کے مشترکہ بحران کے نتیجے میں ہوا ہے۔جہاں عورت اپنی بنیادی حرمت کے ساتھ گزر نہیں سکتی، وہاں ترقی، مذہب، اخلاق سب الفاظ اپنا وزن کھو دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں