Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

دیار مغرب میں ایک طاقتور فکری آواز

تاریخ کے ہر دور میں مذہب اور تہذیب کے باہمی تعلق نے انسانی معاشروں کی فکری سمت کا تعین کیا ہے۔ قدیم یونانی فلسفہ ہو یا اسلامی عہدِ زریں، یورپ کی نشاِ ثانیہ ہو یا عصرِ حاضر کا گلوبلائزڈ معاشرہ ہر دور میں یہ سوال زندہ رہا کہ دین انسانی زندگی کی تشکیلِ نو میں کیا کردار ادا کرتا ہے؟خصوصا جدید دور میں جب نوآبادیاتی ورثے، سیکولر ریاست کے مباحث اور اسلاموفوبیا نیے مسلم شناخت کو نئے بحرانوں سے دوچار کیا، تو مسلم فکر میں ایسے اہلِ علم کی ضرورت بڑھ گئی جو اسلامی روایت کو جدید ذہن کے ساتھ مکالمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔انیسویں اور بیسویں صدی میں سید جمال الدین افغانی، محمد عبدہ، اقبال، ندوہ و دیوبند کی اصلاحی تحریکیں اور بعد ازاں مالکی، شافعی و جعفری فقہی روایتوں کے مجددانہ مباحث اسی تلاش کا حصہ تھے۔ اکیسویں صدی میں جب مغرب میں مقیم مسلمانوں کونئی سماجی پیچیدگیوں کا سامنا ہوا تو یہ سوال زیادہ گہرا ہو گیا کہ کلاسیکی شریعت کو جدید شہری ریاست، انسانی حقوق، جمہوریت اور یورپی قانونی ڈھانچوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جائے؟
یہ وہ علمی و سماجی پس منظر ہے جس میں طارق رمضان کا نام ابھرتا ہے ایک ایسا مفکر جو نہ صرف اپنی علمی وراثت میں حسن البنا اور رشید رضا کی اصلاحی روایت رکھتا ہے بلکہ جس نے مغربی اکیڈمی میں رہتے ہوئے اسلامی فکر کی معاصر تشکیل، اخلاقی اجتہاد اور یورپی مسلم شناخت کے مباحث کو ایک نئی جہت عطا کی۔طارق رمضان کا فکری سفر اس تاریخی مکالمے کا تسلسل ہیجہاں ایک طرف وہ اسلامی اصولوں کے ساتھ وابستگی کو مقدم رکھتے ہیں وہیں مغربی سماج کے اندر رہتے ہوئے قانون، اخلاق، تعددِ ثقافت (Pluralism)، مسلم اقلیتوں کے مسائل، اور فقہ الاقلیات جیسے موضوعات پر نئے سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کا کام اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ اسلام کو محض ایک مذہبی نظام کے طور پر نہیں، بلکہ ایک متمدن اور اخلاقی وژن کے حامل طرزِ زندگی کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس میں روایت اور جدیدیت کا باہمی تناظر ٹکراتا نہیں، بلکہ مکالمہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔طارق رمضان مصر میں اٹھنے والی تحریک ’’اخوان المسلمون‘‘کے بانی حسن البنا کے پوتے تھے ۔جن کا پورا خاندان مذہبی فکری تناظر سے تعلق رکھتا ہے ، ان کے والد بھی ایک مذہبی مکر کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔طارق رمضان 26 اگست 1962ء میں پیدا ہوئے اور یونیورسٹی آف جنیوا سے فلسفہ اور فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد خاندانی روایت کے مطابق اسلامی مطالعات کی تکمیل کے لئے مصر کی درسگاہ’’جامعہ الازہر‘‘میں داخلہ لیا ،جہاں انہوں نے کلاسیکی اسلامی علوم میں دسترس حاصل کرنے کے بعد اسلامی تاریخ اور تھیولوجی میں پی ایچ ڈی کی۔طارق رمضان مغربی ممالک میں اسلامی امور کی تعلیم کے پروفیسر رہنے کے ساتھ ساتھ ’’مغرب مسلم نیٹ ورک‘‘کے صدر رہے جو یورپی مسلم تھنکٹینک ہے ۔ وہ’’بین الاقوامی یونین آف مسلم سکالرز‘‘کے رکن بھی ہیں ۔
پروفیسر طارق رمضان کی تحقیق و تدریس کا اہم محور اسلامی قانون ،اخلاقیات اور تھیولوجی ہے ۔وہ عام طور پر “مغربی معاشروں میں مسلمانوں کی شمولیت اور فکری مقام پر مباحثہ و مکالمہ کرتے ہیں اور اس امر پر زوردیتے ہیں کہ ’’اسلام اور مغربی جمہوری معاشروں میں ہم آہنگی پیدا کی جائے‘‘ انہوں نے اسلامی فقہ،سماجی انصاف، اخلاقیات اور بین الثقافتی جیسے موضوعات پر نہصرف متعدد کتب لکھی ہیں بلکہ بین المذاہب اور ثقافتی مکالمے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مسلمان مغربی ریاستوں کے شہری ہو سکتے ہیں اور ان کا مذہب اور شناخت دونوں میں توازن ممکن ہے ،مغربی طرز زندگی اور اسلامی اخلاقیات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مسلمان معاشروں کو مغرب میں علیحدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے‘‘ پروفیسر طارق رمضان فقہ اور اسلامی قانون پر عصر حاضر کے حوالے تعبیر پیش کرتے ہیںاور معاصر مسائل (ماحولیات، سماجی انصاف ،معاشی مساوات)کے تناظر میں شریعت کی تشریحات پر وقیع کام کر رہے ہیں ۔ان کے مذہبی افکار ونظریات میں صوفیانہ پہلو ، روحانی اور اخلاقی طرز حیات کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور ان کی یہ خواہش ہے کہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ طارق رمضان علمی سطح پر مسلم افکار و روایات کی طاقتور صدا کی حیثیت رکھتے ہیں جن کا بڑا مقصد ترقی پذیر ممالک کے مسلم نوجوانوں اور غریب طبقات کے لئے روشنی کی ایک کرن ہیں۔انہیں طاقتور فکری آواز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان کے کام کا بنیادی محور ’’مغرب میں مسلمان ‘‘کے فکری اور عملی چیلنجز ہیں مگر کچھ حلقے ایسے ہیں جو ان کے نظریات کو روایتی اسلامی افکار سے متصادم قرار دیتے ہیں اس لئے انہیں ماضی میں بہت سارے ناروا حالات سے گزرنا پڑا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں