Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

سحر انگیز ترقی کا حامل خطہ متحدہ عرب امارات

2007 ء میں جب میں پہلی بار متحدہ امارات میں آیا تھا، تو یہ خطہ ایک پرسکون مگر خوابیدہ شاہراہوں، محدود افقوں اور نرم و گرم رفتار ترقی کا منظر پیش کررہا تھا۔ میرا بڑا بیٹا حسن سرمد اس وقت میٹرک کا امتحان دے رہا تھا۔میں 2013 ء تک ترقی کے اسی بہائو کا حصہ رہا ، پھر ٹھیک بارہ برس بعد، جبکہ میرا بیٹا یہاں ایک قابل انجینئر کے طور پرایک چائنیز کمپنی کا مینیجر ہے میں دوبارہ اس سرزمین پر قدم رکھتا ہوں تو منظرنامہ بدل چکا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس خطے پرکسی بہت بڑے ساحر کی حکمرانی رہی ہو کہ ان برسوں میں متحدہ عرب امارات نے صدیوں کا سفر طے کر لیا ہے۔ فلک بوس عمارات ، روشنیوں کی رواں ندیاں، تیز رفتار شاہراہیں، منظم نظامِ زندگی اور آنکھوں کو چندھیا دینے والی ترقی ہر سمت ایک نئی دنیا اپنے جلوے بکھیر رہی ہے۔اور اس کے مقابل، میرے دل میں ایک کسک سی جاگتی ہوئی کہ اسی مدت میں میرا اپنا وطن کس زوال آمادہ ڈھلان پر پھسلتا چلا گیا ۔
جس جگہ روشنی ہونی چاہیے تھی وہاں اندھیرے گہرے ہوئے، جہاں امید کے چراغ جلنے تھے وہاں مایوسی کے دھوئیں نے فضا کو دھندلا دیا۔ امارات کی یہ برق رفتار ترقی میرے لیے خوشی، حیرت اور افسردگیتینوں کیفیتوں کو ایک ساتھ اپنے جلومیں لئے ہوئے ہے ۔میرا یہ سفرنامہ انہی بدلتے مناظر، گزرے ہوئے برسوں کے تقابل، اور اس خط عرب کی روحانی و تہذیبی وسعتوں کا ایک شخصی مشاہدہ ہے۔ایک سفر جو صرف جغرافیے میں نہیں، وقت اور احساس میں بھی طے ہوا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اس وقت بھی امارات ترقی کی حسین وجمیل کہکشاں بننے کے عمل میں تھا اور میں بھی سعودی عرب کی ایک بہت بڑی تعمیراتی کمپنی ’’ایسک انٹر نیشنل‘‘ کے ساتھ پراجیکٹ ایڈمنسٹریٹر کے طور ہر منسلک تھا۔اس وقت امارات اپنی شناخت کے نئے دورمیں داخل ہورہا تھا۔ ساتوں ریاستیں ترقی کی شاہراہ راہ پرگامزن تھیں ۔آج 2025 ء میں جب میں انہیں راہ گزاروں کی طرف لوٹا ہوں تومیری آنکھوں کے سامنے ، ہر قدم پر ایک نیا افق ہویدا ہو رہا ہے ،جیسے نئے رنگوں کے ساتھ ایک نئی دنیا میرے رو برو ہو، ایک ایسی دنیا جو فقط تعمیرات کا مجموعہ نہیں بلکہ وژن ،قیادت ،نظم و ضبط اور جادوئی تگ و دو کا ایک شہکارہو۔یوں لگتا ہے ان گزرے برسوں میں وقت امارات کے حکمرانوں کی مٹھی میں رہا ہو اور انہوں نے اس کا ہر پل اپنی خواہش اور مرضی کے مطابق استعمال کیا ہو ۔
متحدہ عرب امارات کے وجود پذیر ہوئے ابھی نصف صدی اور پانچ برس ہی ہوئے ہیں۔ 1971 ء میں سات امارات پر مشتمل ایک اتحاد عمل میں آیا ۔جس کی بنیاد کا سہرا شیخ زید بن سلطان النہیان کے خوبصورت و پر شکوہ اور وسیع وژن کے سر بندھا۔جو ایک صلح جو، شائستہ مزاج اور دور اندیش انسان تھے۔صدیوں سمندری تجارت ،موتیوں اور سیپیوں کے کاروبار میں مصروف خانہ بدوشوں کا قبیلہ جہاں گیا اپنے ثقافتی ورثے کو گلے لگائے رکھا۔تقدیر کا ستارہ چمکا تو خطے سے تیل کا خزانہ دریافت ہوگیا ،ریت کے صحرا سونا اگلنے لگے۔ لیکن دور اندیش سلطان نے فقط تیل ہی کو ترقی کا زینہ نہیں سمجھا ،اسی میں ہی خوشحالی کا زار تلاش نہیں کیا بلکہ تیل کو اپنی شاہراہ حیات کا ایک وسیلہ تصور کیا ،اسے منزل نہیں بس ایک راستہ سمجھا ۔شیخ زید کے تدبر اور فکرو نظرکے چرچے ہوئے ،انہوں قوم کے سامنے اس قول کا اظہار کیا کہ ’’اصل سرمایہ انسان ہے ‘‘ یہی امارات کی ترقی کا نعرہ بنا جو آج بھی متحدہ امارات کی دیواروں پر لکھا ملتا ہے ۔اس ایک ایک قول ہی کو قوم نے اجتماعی شعور کا لازمہ بنا لیا جو حکمرانوں کا بھی عزم بن گیا۔
2دسمبر 2025 ء کو متحدہ عرب امارات پورے پچپن برس کا ہو جائے گا۔اس کی دھرتی پر قدم دھریں تو یوں لگتا ہے جیسے اس نے اپنی ترقی اور تاریخ کاجغرافیہ خود چن لیا ہو۔ساتوں امارات ، دوبئی، ابو ظہبی، شارجہ ، عجمان ، ام ا،لقوین ، راس الخیمہ اور فجیرہسات رنگوں کی کہکشاں، جس کا ہر رنگ اپنی الگ پہچان رکھتاہے۔ جدید طرز تعمیر کا شہکار فلک بوس عمارات ، عالمی معیارکی شہراہیں ، ان سب پر مستزادسماجی رویوں کی شائستگی۔یہ سب یہاں کے حکمرانوں کے فکری معیار کا عملی ثبوت ہے ۔ابو ظہبی تعلیم و صحت اور توانائی کے اعتبار سے عالمی معیار کی حامل ریاست ہے ۔دوبئی ناممکن کو ممکن بنانے کے جنون میں کامران و کامیاب ، کہ کہیں دنیا کا بلند ترین ’’برج خلیفہ‘‘ تو کہیں جزیروں پر انسانی بستیاں بسانے کے خواب کو حقیقت بنا رکھا ہے اور دنیاکے مصروف ترین ہوائی اڈوںکی آماجگاہ۔شارجہ کی ریاست علم و فن ،تہذیب و تمدن کے ورثوں سے معمور ، کتاب اور شعر و ادب کی روایت کو چار چاند لگائے ہوئے۔ راس الخیمہ، صنعت و حرفت ،ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سیروسیاحت کے نئے ابواب رقم کرنے میں مگن ۔فجیرہ ، بحری تجارت کا عالمی مرکز اور اور معدنی ترقی میں منفرد مقام کے حصول کی جستجو میں۔
متحدہ عرب امارات کی ساری ریاستوں کی ترقی و خوشحالی اور ناممکن کو ممکن بنا لینے کی تمام تر کاوشیں اس لئے کامیاب ہیں کہ یہاں کی ہر ریاست کے حکمران اپنے اقتدار کو مضبوط و محفوظ بنانے کے جنون میں مبتلا نہیں اپنی ریاست اور اس کے عوام کی حالت بدلنے کے عزم کے ساتھ حکمرانی کر رہے ہیں۔یہاں قانون کی دھجیاں بکھیرنے اور نصاف کی اور اداروں کی آبروریزی کا رواج نہیں ہے ۔

یہ بھی پڑھیں