Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

ہمالیہ کی گھاٹیوں سے فولادی بھائیوں تک

(گزشتہ سے پیوستہ)
تاریخ کاپہیہ رکنے والانہیں،لیکن اس کے نشانات کبھی مٹتے نہیں۔جودوستی کبھی پنچ شیل کی بنیاد پر اٹھی تھی،وہ زمیں بوس ہوئی،اور جو مفاہمت، مفادات اوراخلاص کی فصل پرپروان چڑھی،وہ آج بھی قائم ہے فولادکی طرح مضبوط، اورموسموں کی طرح ہم آہنگ۔ ابتدا میں یہ سوال تھاکہ کیاچین نے پہل کی یاپاکستان نے؟ تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پہل ضرورت نے کی، قدم چین نے بڑھایا،اوردستِ تعاون پاکستان نے تھاما۔دشمن کادشمن جب دوست بن جائے تویہ سیاست کی سادہ حکمت کہلاتی ہے،مگرجب یہ دوستی دہائیوں تک قائم رہے، تواسے تاریخ کی دانائی کہاجاتاہے۔
چین اورپاکستان کارشتہ اب مفادات سے کہیں آگے،نظریاتی ہم آہنگی اورجغرافیائی ہم نصیبی کارشتہ بن چکاہے۔جس دوستی کی بنیاد سرحدی تبادلے پررکھی گئی،آج وہ عالمی اسٹیج پر مشترکہ بیانیہ،دفاعی اشتراک،اورسفارتی ہم آہنگی میں ڈھل چکی ہے۔اس طرح ایک نکتہ آغازسے ایک نظریاتی ہم آہنگی تک کایہ سفرفولای دوستی میں تبدیل ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ اب اس خطے پاک چین دوستی نے مودی اوراس کے اتحادیوں کی رات کی نیندیں اوردن کاچین کیوں بربادکردیا ہے؟اس کی سب سے بڑی وجہ پہلے توقوم پرست مودی اورآرایس ایس کاوہ نظریہ ہے جواکھنڈبھارت بنانے کاخواب دیکھ رہے ہیں کہ جہاں جہاں بحرہندکاساحل لگتا ہے،وہ اکھنڈبھارت کاحصہ ہے اوردوسری طرف گریٹر اسرائیل کاخواب جواب ایک نقشے کی صورت میں نصف درجن مسلم مملکتوں کی سرزمین پرمشتمل ہوگااور یہودوہنود مملکتوں کی سرحدیں آپس میں مل جائیں گی اور سابقہ یہودی امریکی وزیرخارجہ سیکرٹری ہنری کیسنجرکاتخلیق کردہ ورلڈآرڈر جیساناپاک منصوبہ معرضِ وجودمیں آئے گا۔
یہ دنیاہمیشہ سے طاقت کے ترازومیں تولی جاتی رہی ہے۔کبھی سلطنتوں کے خیمے لہراتے تھے،اب کرسی کی چمک آنکھوں کوخیرہ کرتی ہے۔ماضی میں بھی بادشاہوں نے اپنی رعایاکو ’’جنت نشین‘‘ کہا، اورآج جمہوریت کے علم بردارانہیں ’’قوم پرست‘‘ کہہ کرجھانسہ دیتے ہیں۔ مگر کھیل وہی ہے،مہرے بدل گئے ہیں،چالیں باقی ہیں۔ جنگ کانیا بازارآج بھی گرم ہے،فرق اتناہے کہ تلواروں کی جگہ اب ٹی وی اسکرینوں پرنعرے گونجتے ہیں‘‘۔
چہرہ وجودمیں آچکاہے،بارودسے زیادہ بیانیہ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔مکارمودی نے اپنی راج نیتی کومستقل کرنے کے لئے ملکی میڈیا کوخریدلیاہے کہ اب یہ ساری دنیامیں ’’گودی میڈیا ‘‘(مودی کی گود میں ) کے نام سے رسواہورہاہے۔
کہتے ہیں جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی،صرف اس کامفہوم بدلتارہتاہے۔آج کی جنگیں وہ نہیں رہیں جن میں سپاہی نیزے لے کرصف بندی کیا کرتے تھے۔آج ہتھیارپہلے تیارہوتے ہیں، پھران کے لئے محاذتراشے جاتے ہیں۔ ہتھیاروں کی منڈی اب صرف میدانِ جنگ نہیں،سیاسی میدان کاآلہ بن چکی ہے۔ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس، وہ آکٹوپس ہے جس کی ہر شاخ کسی نہ کسی قوم کے بجٹ،کسی نہ کسی جوان کی جان، اورکسی نہ کسی ماں کے بیٹے سے چمٹی ہوتی ہے۔یہ جنگی مافیا وہ درندہ ہے جوجنگ سے نہیں جیتا،جنگ کے نام پر جیتا ہے۔ میرے انتہائی محترم انگریز دانشوردوست کایہ فقرہ اکثر مجھے یادرہتاہے کہ دنیامیں سب سے زیادہ طاقتور جنگی مافیاہے جس کی مرضی سے دنیاکی حکومتیں ٹوٹتی اورقائم ہوتی ہیں۔ اگر سیاست کسی عظمت کانام ہے توپھراسے جھوٹ کے کاندھوں پرکیوں سوارکیاجاتا ہے ؟ مودی جیسے قائدین کیلئے’’نیشنل ازم‘‘ایک مقدس لبادہ ہے، جس کے نیچے وہ اپنے اقتدارکے ناپاک ارادوں کوچھپاتے ہیں۔مکارہندوسیاست کاگروچانکیہ کی سیاست کایہ پہلااصول ہے کہ جب معاشی گراف نیچے جائے،توجنگی گراف بلندکردومودی اس کابہت بڑا پیرو کار ہے جواسی اصول پرکام کرتے ہوئے اپنے اقتدارکودوام دینے کی کوشش کررہا ہے۔مودی جانتاہے کہ بیروزگاری کے مارے ہوئے،تعلیم سے محروم، صحت سے مایوس لوگ اگر سوچنے لگیں،تو حکومت کے تانے بانے بکھر جائیں۔اس لئے ان کے سامنے ایک نیادشمن کھڑاکروکبھی پاکستان، کبھی چین،کبھی نیپال۔بس دشمن رہے،تاکہ سوال نہ رہے۔
اسی لئے مودی اپنے سیاسی گروچانکیہ کے اصولوں پرعمل کرتے ہوئے’’آتشِ سیاست میں سلگتی جنتاکے لئے جنگ،اقتداراورمیڈیاکی سہ رخی تثلیث‘‘ کا بھرپوراستعمال کررہاہے۔ اس نے ملک بھرکے میڈیا کو منہ مانگی قیمت پرخریدرکھاہے اورجب بھی کوئی حکومتی کارکردگی پرسوال کرتاہے تویہ گودی میڈیاسوال کرنے والے کوغدارکہہ کر بدنام کرناشروع کردیتے ہیں:جب کوئی نوجوان سوال کرے روزگارکہاں ہے؟کوئی مائیں پوچھیں، ہسپتال کیوں خالی ہیں،کوئی مزدورفریاد کرے، روٹی کیوں مہنگی ہے؟توگودی میڈیاانہیں فورایاد دلاتا ہے ملک خطرے میں ہے،ملک بچے گاتوسب کچھ ملے گا۔
یہ میڈیا،جوکبھی خبردیتاتھا،اب حکومت کی ترجمانی کرتاہے۔جنگی ترانے،حب الوطنی کے نعروں اورمخالف آوازوں کو’’غداری‘‘کا تمغہ دینے والے ٹاک شوزاب سچ کے دروازے پر پہرہ دے رہے ہیں۔سچ کہنے والوں کو’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘، ’’شہریت کے غدار‘‘ یا ’’دیش دروہی‘‘ کہا جاتا ہے۔جب کسی قوم کے پاس بھوک مٹانے کاوسیلہ نہ ہو ،تواسے قربانی کے جنگی گیت گانے پرلگادو۔’’ہم بھوک پیاس برداشت کرلیں گے، مگرجھکیں گے نہیں‘‘،یہ نعرہ نہیں،مایوسی کا منشور ہے۔مودی حکومت کہتی ہے،ملک رہے گاتوسب ہو گا مگر بھوکی ننگی عوام کہتی ہے ملک توہے،ہم ہی نہیں ہیں۔ گویا مودی اپنے اقتدارکے دوام کے لئے اپنی جنتاکوقربانی کا نعرہ لگانے کے لئے مجبور کر رہا ہے لیکن عوام کی ٹھنڈے چولہے اب ایسے اقتدار کو آگ لگانے کے لئے بلبلا رہے ہیں۔قومی غیرت کانعرہ خوبصورت ہے،مگرجب اس کی آڑمیں بنیادی حقوق کوکچلاجائے،تویہ نعرہ ایک زنجیربن جاتاہے۔یہ زنجیرعوام کے پاؤں میں،اورطاقت کے ایوانوں کی سیڑھی بن جاتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حکومت کی ذمہ داری صرف سرحدیں بچانانہیں، انسانی حرمت، انصاف،تعلیم، صحت،اورمعیشت کاقیام بھی ہے۔قرآن ہمیں سکھاتا ہے وہی رب جس نے انہیں بھوک سے نجات دی اور خوف سے امن دیا۔
جب حکمران قوم کو نہ روٹی دے سکیں،نہ تحفظ،اورنہ سچ بولنے کی آزادی،تووہ ’’حاکم‘‘ نہیں رہتے،بارِامانت کے خائن بن جاتے ہیں۔ سیاست اگرخدمت ہے،توسوالوں سے نہیں ڈرتی۔ اگرحکمرانی صداقت سے ہے،توسچ بولنے والوں کوقیدنہیں کیا جاتا۔ گودی میڈیاکاسہارا لیکر حکومت کوچلایانہیں جاتا ، یاد رکھیں! اگرحکومت نعرے سے چلتی ہے،تو پھر و ہی قوم جھوٹ کا ایندھن بن جاتی ہے۔عوام کومہنگائی کے ہاتھوں بھوکا پیاسا رہنے پرمجبورکرکے جوحکومتیں اتراتی ہیں، انہیں تاریخ کانٹوں پرلٹادیتی ہے۔گودی میڈیایہ جان لے کہ جہاں میڈیا اپنی جانبداری اورسچ بولنے کی قیمت وصول کرکے مصلحت کا، سیاست نعرے کا اورعوام خاموشی کاشکار ہو چکی ہو تووقت کاکوڑہ میدان میں اپناجوہردکھانے پہنچ جاتاہے اوریہ مکافاتِ عمل ہے کہ جب غریب کا بچہ بھوکاسوتاہے،تواس کے آنسونظام کوبہالے جاتے ہیں۔پچھلی سات دہائیوں سے زائدبے گناہ کشمیریوں کے لاشے،جوان بیوائیں،معصوم یتیم بچے اوراجتماعی قبریں اپناحساب بے باق کرنے کے لئے ایساتاریخی میدان سجانے والے ہیں، جہاں سے کسی بھی ظالم کے لئے راہِ فرارنہیں ہوگا۔ مودی جان لے کہ سچ وہی ہے جوعوام کہہ رہی ہے،اوروہ سچ نہیں جوگودی میڈیاکہہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں