Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

انتخابی دھاندلی کا تاریخی پس منظر

انتخابات میں دھاندلی کی روایت نئی نہیں ہے اور نہ ہی یہ معاملہ محض کسی ایک ملک یا دور سے متعلق ہے ،یہ سیاسی تاریخ کی ایک قدیم روایت ہے جو انسان کی سیاسی کارگزاریوں میں ہمیشہ دہرائی جاتی رہی ہے ،مختلف تہذیبوں، سلطنتوں اور جدید ریاستوں میں اقتدار کی منتقلی ہمیشہ طاقت، اثر و رسوخ، طبقاتی مفادات اور ادارہ جاتی کمزوریوں سے جڑی رہی ہے۔
یونان اور روم کے انتخابات بھی اس بدعنوانی سے محفوظ نہ رہے،دولت مند خاندان ووٹروں کو رشوت دے کر اقتدار حاصل کرتے تھے۔انتخابات میں ووٹ خریدنے کے حصول کے لئے دھونس اور دھمکی تک کا رواج عام تھا۔ یہاں تک کہ کلیسائوں میں پوپ کے انتخاب تک میں سونے کی رشوت کی تاریخ ملتی ہے۔جاگیردارانہ نظام میں آزادانہ عوامی رائے کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی جب نوآبادیاتی استعماری نظام کادور دورہ ہوا تو دھاندلی نے منظم شکل اختیار کر لی ،برطانوی، فرانسیسی اور دیگر یورپی قوتوں نے مقامی آبادی کے نمائندوں کے انتخاب میں ووٹ کا حق تک محدود کردیا۔حلقے ان کے مفاد کے مطابق ترتیب دیئے جاتے ۔
ہندوستان میں 1861،1909 (مورلے منٹو) 1919 (منتگو چیمسفورڈ) اور 1935 ء کے ایکٹ کے تحت جو ’’قانون ساز اسمبلیاں‘‘ بنیں تو ان کے انتخابات میں نوآبادیاتی حکومت کھلے عام من پسند امیدواروں کی پشت پناہی کرتی تھی۔ وقت بدلنے کے ساتھ بیلٹ کی سیاست اور دھاندلی کی نئی تکنیکیں ظہور پذیر ہوئیں۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں جمہوری انتخابی نظام جیسے جیسے مضبوط ہوا، دھاندلی کیروایتی طریقے یعنی ووٹ خریدنا ،ووٹر لسٹوں میں رد و بدل ، دبائو، دھونس دھمکی، پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ، مخالفین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے عمل کو پیش پا افتادہ قرار دے دیا گیا ۔اس کی جگہ جدید طریقے اپنائے گئے جن میں بیلٹ بکس اسٹفنگ فارم45 میں تبدیلی،سافٹ ویئر/ڈیجیٹل مداخلت حلقہ بندیوں کا جانبدارانہ تعین ریاستی مشینری کا استعمالمیڈیا مینجمنٹ، پراپیگنڈا اور غلط معلومات کے طریقے رائج ہوئے۔
تاہم برصغیر میں نوآبادیاتی دور کے بعد بھی جاگیردارانہ نظام، برادری، ذات، پات،مذہبی اتحاد اور نوآبادیاتی باقیات نے انتخابی نظام کی غیر منصفانہ شکلیں برقرار رکھیں ۔ انتخابات میں دھاندلی کا مختصر تاریخی پس منظر بیان کرنے کے بعد کہنا یہ مقصود ہے کہ جگ ہنسائی سے نہ ڈرنا بھی بہت بڑی بہادری ہے، ایسی بہادری اور شجاعت پر پنجاب کی رانی کو مبارک ۔
ویسے اگر ضمنی انتخابات کا سوانگ نہ رچایا جاتا اور حکومتی پارٹی کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو 9 مئی کے واقعے کو بنیاد بنا کر مسترد کر دیا جاتا توقومی خزانے سے ضمنی انتخابات پر خرچ کی جانے والے اربوں روپے کے وسائل کی بچت ہو جاتی اس طرح سانپ بھی مر جاتا اور لاٹھی بھی محفوظ رہ جاتی اور واہ واہ بھی زیادہ ہو جاتی ۔
ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی جانب سے تاریخ کا ایک تاریک باب اور لکھا گیا ،یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ایسی ’’بے نور‘‘ صبحوں سے ن لیگ کی تاریخ روز اول سے لکھی جارہی ہے اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک عدلیہ کے ضمیر محو استراحت ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں پر پٹیاں چڑھی ہوئی ہیں اور مقتدرہ اپنے بیرونی دشمن کی شکست کے خواب بننے میں مصروف ہے ۔ن لیگ کے فاتح جیت کا غیر متوقع احساس لئے کتنی آرام کی نیند سوئے ہوں گے یہ وہی جانتے ہیں یا حقیقت جاننے والااللہ ،جس نے جزا کی صورت سزاکے دروازے کھولے ہیں۔دکھ اور تو کوئی نہیں سوائے سیاسی گوشہ تنہائی میں پڑے میاں نواز شریف کے اس اس بیان پر جس میں انہوں نے جتوانے جانے والوں کی۔ کامیابی کا احوال جانتے ہو ئے انہیں تہنیتی پیغامات سے نوازا۔شاعر نے کیا سچ کہا تھا کہ
یہ جو ہنسنے بولنے کی بات ہے
اپنے اپنے حوصلے کی بات ہے

یہ بھی پڑھیں