ہمارےیہاں یہ امرہر دور میں ایک سوال کی صورت ابھرکر سامنےآتا رہا ہےکہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی فکری بصیرت کاحقیقی اظہاران کی فارسی اوراردو شاعری میں ہوا ہےیاانکےان خطبات میں جو “تشکیل جدیدالہیات اسلامیہ” کی شکل میں منصہ شہود پر آئے۔ان میں مقالات،تحقیقی کتب اورتفہیم و اختلافی شرحیں انتہائی معتبراورحوالہ جاتی کام بھی شامل ہےجو مشرق و مغرب کی یونیورسٹیزاورتحقیقی رسائل میں شائع ہواجس میں فقط فکراقبال ہی نہیں بلکہ کام کرنےوالوں کےذوق آگہی اور وسعت نظرکاہنربھی موجود ہے۔ اظہاریے کےمحدود دامن میں مجھے “تشکیل جدید الہیاتاسلامیہ” کےاردو ترجمہ و تفہیم کےبنیادی ماخذجو سیدنذیر نیازی کی محنت و مشقت کا ثمر ہے۔اس میں ایک تسامح کے احساس کوبیان کرناجسکی وجہ علامہ محمد اقبال رح کی فکر کا مطالعہ کر نے والےطلباکو انتہائی دقت کا سامنا درپیش ہوتا ہے ۔
عام طورپرکہا یہ جاتا ہے 80فیصد اردو محققین اپنی تحقیق کاخمیراسی سےاٹھاتے ہیں مگر اس خمیر کےابھارمیں جو کمی رہ گئی ہے اس پردیگر کام کرنے والوں کے لئےدھیان دینا ضروری تھامگر کسی کی توجہ اس جانب گئی ہی نہیں مثلاڈاکٹر محمد رفیع الدین نے ” اقبال کا تصور خودی و کائنات”پر کام کیا جس میں حضرت علامہ اقبال کے ” فکری نظام کو مغربی فلسفہ،اسلامی روایت اورخطبات کے تناظر میں مضبوط ترین مطالعہ پیش کیاجسے فکری گہرائی کاگنجینہ تصور کیا جاتا ہے ۔
اسی طرح ڈاکٹر فضل الرحمن نے ” جدید مسلم فکر ” کےحوالے سے “تشکیل جدید الہیات اسلامیہ” کے متون پر تفصیلی توجیہات پیش کیں ۔یہاں تک کہ ڈاکٹر وحید عشرت نے ” تشکیل جدیدکا تنقیدی مطالعہ ” لکھا تو سیدنذیر نیازی کے علمی کام سیاستفادہ کیا مگر وہ بھی اس تسامح سے اغمازبرت گئے جو نیازی صاحب سے سرزد ہوا۔ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم جو “فکر اقبال ” کے صوفیانہ و حکیمانہ” شارح مانےجاتے ہیں انہوں نے بھی اس امر کو اپنی توجہ کا مرکزو محور نہ بنایا یا پھر “بزم اقبال ” والوں نے “تشکیل جدید الہیات اسلامیہ کی اشاعت کا اہتمام کرتے وقت کتاب کی دبازت کے احتمال و اندیشہ کی بنیاد پر اس امر کو درخور اعتنا نہ گردانا۔
جس امرکی نشاندہی مقصود ہےوہ یہ ہےکہ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ” کا فکری ،نظری یادینی حوالےسے مطالعہ پیش کرنےمیں سےکسی نےبھی کتاب میں شامل قرآنی آیات کی تفسیر یا محض ترجمہ تک بھی پیش نہیں کیا یہاں تک کہ سید نذیر نیازی نے بھی اس کی ضرورت کو اہمیت نہیں دی کہ اقبالیات کے مجھ جیسے عام طلبا اقبال کے افکار و نظریات کو قرآن کی روشنی میں سمجھ سکتے ۔جہاں تک خطبات میں پیش کی گئی آیات کی اہمیت کی بات ہے خصوصا علم سائنس میں دلچسپی رکھنے والے طلبا کو سائنسی علوم جدید فکرو فلسفہ کو قرآن کریم کے آئینے پرکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تو پہلے “خطبہ” ہی میں جب علامہ محمداقبال رح نےیہ کہا کہ “جس کائنات میں ہم زندگی بسرکرتے ہیں اس کی ترکیب بھی اس طرح ہوئی کہ اس میں مزید وسعت کی گنجائش ہے،یہ کوئی جامد کائنات نہیں، نہایک ایسا مصنوع ،جس کی تکمیل ختم ہو چکی اور جو بےحرکت اور ناقابل تغیر و تبدل ہے ۔برعکس اس کے معلوم ہوتا ہے اس کے باطن میں ایک نئی آفرینش کا خواب پوشیدہ ہے”
یہ سورہ بقرہ پارہ اول کی آیت 35 اور سورہ العمران تیسرے پارے کی آیات 188 تا 190 کا مفہوم ہےجن میں یہ بتایا گیا ہےکہ زمین و آسان کی تخلیق (یعنی کائنات کا وجود ،اس کی وسعت ،آسمان اجسام ،ستارے ،زمین، پہاڑ، سمندر، زندگی،سب) اور دن رات بدلتے رہنے میں خالق کائنات کی حکمت، قدرت اور آرائش کےگہرےثبوت ہیں “۔یہ ایک مثال ہےجبکہ خطبات میں دلیل کے لئےجابجا قرآنی آیات کا ذکر ہے اور سید نذیر نیازی جنہوں نے اردو طبقے کیلئے ایک وقیع کام سرانجام دیا ہے، انہوں نے اشارات پر ہی اکتفا فرمایا ہے۔سید سلیمان ندوی ، عبد الماجددریا آبادی، سید ابو الاعلی مودودی وغیرہ نے تشکیل جدیدمیں افکارو نظریات کا جائزہ ضرورلیامگر کسی نےبھی قرآنی آیات کی تفسیر بیان کرنے کی ذمہ داری نہیں اٹھائی۔