سیاسی چیرہ دستی، یعنی اقتدار کو قائم رکھنے کا وہ طریقہ جس میں جبرو استحصال کو ہتھیار بنایا جائے۔یہ رویہ تاریخ، سماجیات اور عملی سیاست کے لحاظ سے گہری معنویت رکھتا ہے ۔اس ناروا رویئے سے وقتی کامیابی تو حاصل کی جاسکتی ہے ۔ مگراس کا انجام ہمیشہ زوال کی صورت رونما ہوتا ہے ۔
چیرہ دستیوں سے قائم رکھا جائے والا اقتدار کبھی دیرپا نہیں ہوتا ۔اس جبر کی حکمرانی سے حاکم اداروں پر عارضی طور پر قابوتو پالیتے ہیں مگر طاقت کا توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔اس راستے سے حاصل کی جانے والی سب کامیابیاں نوشتہ دیوار بن جاتی ہیں ۔سیاسی نظام کی بنیاد عوامی اعتماد پر ہوتی ہے ۔ سیاسی چیرہ دستیوں سے اقتدار کو طوالت دینا خود فریبی کے زمرے میں آتا ہے اور جلد ہی عوام پر یہ عقدہ کشا ہوجاتا ہے کہ حکمرانوں کے پاس عوام کودینے کے لئے کچھ باقی نہیں بچاوہ مفادات کے تابع ہوچکے ہیں، جبکہ حکومت کے کارندے بھی مملکت کی تباہی و بربادی کے اسی جادہ رسوائی پر چل پڑتے ہیں ۔
معاشی اور سماجی نقصان کی اسی رو میں ملک تنزل کے قعر مذلت میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔عدلیہ کی ساکھ مجروح ہوتی ہے، بیوروکریسی دھیرے دھیرے وفاداریاں تبدیل کر لیتی ہے ، میڈیا سچ سے رخ موڑ لیتاہے ۔چیرہ دستیوں پر عمل پیرا حکمران آخر کار اقتدار سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کی یہ محرومی قومی ڈھانچے کو نامضبوط چھوڑ جاتی ہے ۔صوبائی نفرتیں ، فرقہ واریت، طبقاتی کشمکش اور داخلی انتشار قومی سلامتی کے ڈھیروں سوال کھڑے کر دیتا ہے۔
آج ہم ایسی ہی صورتحال سے گزر رہے۔ہماری معیشت کی کشتی ڈانواں ڈول ہے ، حکمرانوں کا یہ عالم ہے کہ اپنے اقتدار کے ڈوبتے ہوئے سورج کے احساس سے عاری ہیں ،ان کی حکمرانی کے چراغ کی لو تیزی سے پھڑپھڑا رہی ہے ، مگر ان کی چیرہ دستیوں کا بازار گرم ہے اور یہ گرمی سب سے زیادہ ان عمر رسیدہ خواتین کو جھلسا رہی ہے جن کی تمنا و آرزوں فقط اس قدر ہے کہ ان کے سلاخوںکے پیچھے پڑے ایک سیاسی اسیر کی ایک جھلک دکھادی جا ئے وہ اسیر جسے عدالتیں انصاف کی فراہمی سے عاری ہیں جبکہ بھارتی میڈیا ہی نہیں احسان فراموش افغان میڈیا بھی جس کی موت (خاکم بدہن) کی فواہیں پھیلا رہا ہے ۔
مقتدر حلقے آخر قیدی کو اس کی بہنوں سے ملا کیوں نہیں دیتے ،پرویز رشید جیسے تاریخ سے نابلد نام نہاد لبرل دانشورحکومت کی راہ کھوٹی کیوں کررہے ہیں ؟ کیا وہ بھارتی عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ ہمارا روشن خیال طبقہ روز اول سے پاکستان کی نظریاتی اساس کا دشمن رہا ہے ،اسے پاکستان کے ساتھ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کا لفظ کبھی اچھا نہیں لگا اور شریف خاندان ہمیشہ انہیں لبرل گماشتوں کے نرغے میں رہا ہے ۔یہی لبرل اس غیر جمہوری مزاج رکھنے والے خانوادے کو سیاسی چیرہ دستیوں کا سبق پڑھاتا رہا ہے۔
پاکستان میں حکمران طبقے کے حاکمانہ انداز اور سیاسی چیرہ دستیوں نے عوامی اعتماد کو جس قدر مجروح کیا ہے، اس کی جڑیں نہ صرف حالیہ سیاسی رویوں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلے ہوئے طرزِ حکمرانی میں پیوست ہیں۔ پاکستان کے حکمران عمومی طور پر اقتدار کی نزاکت اور عدمِ استحکام کو ہمیشہ طاقت کے ذریعے کنٹرول اور برقرار رکھنے پر مجبور چلے آئے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ رہا کہ ریاستی اداروں پر انحصار کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ بدعنوانی ، بدانتظامی فروتر ہوئی۔حکومتی فیصلوں کی شفافیت معدوم ہوتی چلی گئی، ریاستی اداروں کے اندھے اعتماد میں حکومت کے کان اور آنکھیں گم ہوگئیں۔
پاکستان شدید polarization کا شکار ہوتا چلا گیا ،مکالمے کی اہمیت کو باور نہ کرنے کی وجہ سے اتفاق رائے کی روح کا چولا تار تار ہوتا چلا گیا۔سیاسی قیادت نے عوامی رائے سے زیادہ طاقتور حلقوں کی رضا کو اہمیت دی۔پارلیمنٹ عدلیہ ، انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ سب اپنے اپنے دائرہ کار سے آغماز پر آمادہ ہیں یہ بھی سیاسی چیرہ دستی سے کم نہیں ۔کسی ریاست کی ترقی و خوشحالی محدود و مسدود کرنے کے لئے بس اتنا کچھ بھی کافی سے زیادہ ہوتا ہے ۔