Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

سنرجی (Synergy )کا علمی و تحقیقی مفہوم

سنرجی سے مراد ہے’’دو یا دو سے زیادہ قوتوں کا ایسا باہمی اشتراک جس سے حاصل ہونے والا مجموعی فائدہ ان کے الگ الگ عملی فائدے سے زیادہ ہو‘‘پاکستان کے قومی سلامتی کے ماڈل میں ’’سنرجی‘‘ ایک بنیادی عنصر کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک قدیم یونانی تصور ہے جس کے مطابق ’’تمام عسکری ادارے،اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن، وزارت خارجہ اور سویلین سلامتی کے اداروں کے مشترکہ توازن کے بغیر قومی سلامتی مئوثر نہیں رہتی ‘‘ دور حاضر میں پاکستان کثیرالجہتی خطرات کی زد میں ہے ،جن میں’’ہائیبرڈوار،سائبرحملے ، سفارتکاری ،داخلی دہشت گردی اور غیر روایتی جنگیں‘‘ شامل ہیں۔
کسی بھی ریاست کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ’’حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور فوج‘‘ ایک ہی صفحے پر مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کریںمعروف تجزیہ نگار محترمہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ پاکستان کی سول ملٹری ریلیشنز کی ماہر ہیں ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ’’سنرجی تب فائدہ مندہوتی ہے جب سویلین ادارے پالیسی سازی میں اصل فیصلہ ساز ہوں،ملٹری ادارے آئینی دائرے میں رہ کراپنی پیشہ ورانہ حدود میں کام کریں، ریاستی طاقت کا توازن ایک طرف نہ جھکے اور پالیسی سازی شفاف اور جوابدہ طریقے سے ہو‘‘۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ ریاست کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی ،تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے بغیر ریاستی ڈھانچہ مکمل نہیں ہوتا اور نہ ہی ریاست کی تعمیر محض آئینی جملوں یا سیاسی نعروں سے نہیں ہوتی، بلکہ طاقت کے ان پوشیدہ دھاروں سے ہوتی ہے جو کسی معاشرے کے اندر بہتے رہتے ہیں۔ یہی طاقت کبھی جمہوری روایات کو سہارا دیتی ہے اور کبھی ادارہ جاتی عدم توازن کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان میں یہ سوال ہمیشہ سے بنیادی رہا ہے کہ طاقت کن ہاتھوں میں ہے اور کس پیمانے پر وہ عوامی احتساب کے سامنے جوابدہ ہے۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ان چند پاکستانی اسکالرز میں سے ہیں جنہوں نے ریاست کی عسکری معیشت، دفاعی ایکو سسٹم، سول و ملٹری تعلقات، اور جنوبی ایشیا کی اسٹریٹیجک حرکیات کو نہایت باریک بینی اور تحقیقاتی دیانت کے ساتھ موضوع بنایا۔ ان کی تحریروں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ جذبات یا سیاسی وابستگی پر مبنی کوئی بحث نہیں کرتیں، بلکہ ہر نکتے کے پیچھے شواہد، سرکاری ریکارڈ، بجٹ دستاویزات، آرکائیوز، اور بین الاقوامی تقابلی تحقیق کا مضبوط ڈھانچہ پیش کرتی ہیں۔ان کی شہرہ آفاق کتاب Military Incنے پاکستان کی عسکری معیشت کو ایک ایسے مفہوم میں پیش کیا جسے وہ “Milbus” کہتی ہیں۔ ان کے مطابق طاقت محض بندوق کے زور پر نہیں چلتی؛ اس کے اندر کاروباری مفادات، زمینوں کا استعمال، فلاحی و نیم سرکاری کارپوریشنز، دفاعی ٹھیکے، بیوروکریٹک نیٹ ورک اور معاشی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت شامل ہوتی ہے۔ یہ نقطہ نظر اس لیے اہم ہے کہ ریاستی طاقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس پورے اقتصادی ڈھانچے کو دیکھنا ہوتا ہے جو عسکری اداروں کے گرد تشکیل پاتا ہے۔
ڈاکٹر صدیقہ کا دوسرا نمایاں موضوع سول و ملٹری تعلقات ہے۔ ان کے نزدیک ایک مضبوط ریاست وہ ہے جہاں سویلین اختیار، ادارہ جاتی حدود اور آئینی بالادستی واضح طور پر موجود ہوں۔ اگر طاقت کا ارتکاز کسی ایک ادارے میں حد سے زیادہ بڑھ جائے تو جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے، پالیسی سازی محدود ہو جاتی ہے اور ریاستی وسائل پر غیر شفافیت بڑھتی ہے۔ یہ بحث پاکستان کے موجودہ تناظر میں اور بھی اہم ہو جاتی ہے جہاں سیاسی عدم استحکام، ہائبرڈ حکمتِ عملی اور بیانیاتی جنگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔جنوبی ایشیا کی اسٹریٹیجک سیاست بھی ان کا اہم میدانِ تحقیق ہے۔ وہ پاکستان کو عالمی سکیورٹی آرڈر کے ایک پیچیدہ کردار کے طور پر دیکھتی ہیںجہاں جغرافیہ، عسکری ضرورتیں، بڑی طاقتوں کے مفادات اور داخلی سیاسی کمزوریاں ایک مشترکہ فریم میں اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس پہلو کو سمجھنے کے لیے ان کا تقابلی جائزہ نہایت مددگار ہے۔
ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ طاقت کے غیرمرئی عناصر کو مرئی شکل میں لایا جاتا ہے۔ چاہے وہ دفاعی بجٹ ہو، عسکری زمینوں کا استعمال ہو، پالیسی سازی پر اثرات ہوں یا عوامی بیانیے کی تشکیل وہ ہر جگہ پوچھتی ہیں کہ کیا یہ سب عوامی احتساب کے ماتحت ہے یا نہیں؟ یہی سوال انہیں پاکستان کے طاقتور اداروں کے ناقدین میں شامل نہیں کرتا، بلکہ ریاستی توازن کی داعیہ بناتا ہے۔آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی تحقیقات پاکستان کو کمزور نہیں کرتیں‘بلکہ طاقت کے استعمال میں شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی توازن کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ ان کا مقدمہ سادہ ہے:ایک مضبوط پاکستان وہ ہے جہاں ریاست کی طاقت عوامی مفاد کے تابع ہو، نہ کہ چند مراکز کے اختیار میں مقید،یہی جمہوریت کی اصلی روح اور ریاست کے روشن مستقبل کا راستہ بھی۔

یہ بھی پڑھیں