جن لوگوں کے پاس حسرت تعمیر کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا وہ عمر بھر سازشیں کرتے اور سازشوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں ۔نواز حکومت ہو یا شریف خاندان یہ فقط سہاروں سے جینے کے خوگر رہے ہیں اور انہیں سہارے تلاشنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ میاں نواشریف کی سوانح اور ان کے سیاسی سفر پر لکھی کتاب میں ان کے ایک بہی خواہ نے واشگاف الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ میاں صاحب نے ایک موقع پرکہاکہ ’’میں ایک کاروباری باپ کا بیٹاہوں ،مجھے اشیا ہی کی نہیں انسانوں کی قیمت بھی پتہ ہے کہ کسے کس قیمت پر خریداجا سکتا ہے ‘‘۔
میاں نواز شریف کے اس ارشاد پر مرحوم ولی خان نے ان سنہری حروف میں مہر تصدیق ثبت کی کہ ’’میرے پاس اتنی دولت ہو کہ میں ہررکن قومی اسمبلی کو اڑھائی کروڑ ادا کرسکوں تو میں بھی ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہوں ‘‘۔کہنے کامطلب یہ ہے انسان جھوٹ بول سکتا ہے ،مگر کتابیں اور تاریخ جھوٹ نہیں بول سکتے۔ان میں لکھا ہر ہر لفظ ایک نہ ایک دن طشت ازبام ہو جاتا ہے ۔
لمحہ حاضر میں جو کچھ ہمارے ارد گرد کیا جارہا ہے وہ سب مصحف تاریخ میں رقم ہو رہا ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ ہے ۔روا ہے یا ناروا ہے ۔جو ہورہا ہے اس کی گواہیاں بھی ساتھ ساتھ تحریر ہو رہی ہیں ۔کوئی ملک میں بیٹھ کر سازش کرے یا دیارغیر میں جاکر جال بنے اسے ایک نہ ایک دن خود ہی اس جال میں پھنسنا ہے ۔نواز رجیم اپنے اختتام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے ،نہ جانے اسے اتنی شتابی کیا ہے ؟ کون سے دھڑکے اس کے رگ و پے میں کھلبلی مچائے ہوئے ہیں کہ انہیں حقائق دیکھنے بھی نہیں دے رہے۔ان کے پاس اندازے لگانے کی فرصت بھی نہیں ہے ۔لوگوں کا یہ عالم ہے کہ محو حیرت ہیں انگشت بدنداں لئے حالات پر کہیں گہری اور کہیں نیم گہری نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
ایسے حالات میں مرشد آغاشورش کاشمیریؒ نے کہا تھا ’لوگوں کو یقین دلانا میرے بس میں نہیں، نہ میں پیغمبر ہوں کہ لوگوں کو مشیت ایزدی کی اعانت سے یقین دلا سکوں ۔نہ حکمران ہوں کہ اس یقین کو لوگوں کے جسموں پر نافذ کر سکوں ۔لیکن واقعہ یہی ہے اور اس عالمگیر سچائی سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ جھوٹ ہی کا بول بالا ہے۔
سانچ کو آنچ بھی پہنچتی ہے اور سچائی مجروح ہوتی چلی جاتی ہے ،لوگوں نے سچائی کی آڑ میں سب سے زیادہ زخم سچائی ہی کو لگائے ہیں‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن شفاعت کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ سیاسیات کی آلودگیوں میں وقت نے لوگوں سے اتنے جھوٹ بلوائے ہیں کہ پناہ بخدا ۔صرف اس لئے کہ سیاسیات کی ترازو میں ایک پلڑا جھکا ہوا تھا اور بے حد جھکا ہوا تھا ۔ دوسرے پلڑے میں بیٹھے ہوئوں کو اتنا ذلیل کیا کہ یہ رسوائی جھوٹ کے حصے میں آتی تو شاید وہ خود کشی کر لیتا یا ہمیشہ کے لئے سچ ہو جاتا۔میں ان چوروں، اچکوں ،اوباشوں ، خود فروشوںبلکہ خاندان فروشوں کو جانتا ہوں جنہیں یار لوگوں نے ہمنوائی اور ہمسفری کے صلے میں عرش پر بٹھا دیا اور ان بندگان خدا پر جھوٹ کے تومارباندھے ،جن کے دامنوں کو بوسہ دینے کی خاطر سچائی کو چارقدم آگے بڑھ کر آنا چاہیئے تھا۔
اس سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں کچھ نہیں بدلا ،ن م راشد کی نظم کی ایک لائن ہے کہ سال ہا سال سے بدلا نہیں سائے کا مقام “زمانہ بدلا ہے مگر’’گریبان کی حفاظت‘‘ کل بھی مشکل تھی آج بھی مشکل ہے ۔ پہلے گریبانوں کے ڈھیر لگ جاتے تھے اب لاشوں کے انبار لگ جاتے ہیں مگر بے حسی کی کسی کو پروا نہیں، قبائیں پہلے بھی بکتی تھیں اب بھی ان کا کاروبار نہیں رکا ، داڑھیوں کا سودا پہلے بھی ہوتا تھا پہلے پس دیوار ہوتا تھا ،اب سر عام ہوتا ہے ۔پہلے دستارسر سے اتار لینے کا رواج تھا اب گردن سے سر جدا کر دینے کی رسم چلی ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا کہ ضمیر کی بات بھی تو اب پرانی ہوئی۔
کسے معلوم اب حسرت تعمیر کا کونسا تقاضہ جو تا حال تشنہ تعبیرہے۔ وہ جو ایسے مواقع پر مشوروں کی زنبیلیں بانٹتے تھے وہ تو رزق خاک ہوئے ،انہیں بھی مٹ جانے کی خبر نہیں تھی اورجو پچھلے ہیں وہ بھی نا آشنا ہیں اس امر سے کہاجل کے ہاتھ کوئی آرہا ہے پروانہ نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے ؟
