پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی الجھنیں کسی ایک عہد، حکومت یا چند پالیسی غلطیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ سات دہائیوں میں پھیلنے والا وہ تاریخی تسلسل ہیں جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور، فیصلوں کو متزلزل، اور معیشت کو غیر مستحکم کر دیا ۔ ملک کی سیاست میں اداروں کے باہمی عدم اعتماد، اقتدار کی کشمکش، اور پالیسیوں کے عدم تسلسل نے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جس میں معیشت توانائی، امن اور سمت سے محروم ہوچکی ہے۔ آج کی مہنگائی، قرضوں کا بوجھ ، سیاسی پولرائزیشن اور ریاستی بے چینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی تاریخی سیاسی و معاشی ساخت کا جائزہ لیا جائے۔ یہی پس منظر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ بحران کی طرف کیسے بڑھا، اور اپنی مستقبل کے لیے کیا سبق رکھتا ہے۔پاکستان کے ابتدائی برس ایک مضبوط آئینی و جمہوری ڈھانچہ تشکیل دینے میں مشکلات کا شکار رہے۔
1947 ء سے 1956 ء تک ملک ایک واضح آئینی سمت سے محروم رہا، اور 1954 ء میں دستور ساز اسمبلی کی برطرفی نے اس کمزوری کو مزید مضمحل کر دیا۔ یہی بے سمتی 1958 ء کے مارشل لا کی بنیاد بنی، جس نے ریاستی طاقت کا توازن بیوروکریسی اور فوج کے حق میں مستقل طور پر منتقل کر دیا۔ایوب خان سے ضیا الحق تک تین دہائیوں پر مشتمل فوجی ادوار نے سیاسی جماعتوں، پارلیمان اور عوامی سیاست کو کمزور کیا۔ ضیائی دور میں مذہبی گروہوں کی سرپرستی، غیر جماعتی انتخابات اور افغانستان کی جنگ نے ریاستی طاقت میں نئے مراکز اور نئی پیچیدگیاں پیدا کیں۔ نتیجتاً، 1988 ء کے بعد پیدا ہونے والی جمہوری فضا بھی شخصی سیاست، پارٹیوں کی باہمی آویزش اور ریاستی مداخلت سے چھٹکارا نہ پا سکی۔
1990 ء کی دہائی کے سیاسی ادوار میں حکومتیں بار بار قبل از وقت برطرف ہوتی رہیں۔ سیاسی جماعتیں باہمی ٹکرا اور احتساب کے سیاسی استعمال میں الجھی رہیں۔ اداروں پر اعتبار کی کمی کا احس دو چندہوا اور ریاستی ڈھانچہ مزید کمزور ہوتا چلاگیا، جس نے 1999 ء کے مارشل لا کی راہ ہموار کی۔2008 ء کے بعد جمہوریت کی کی گاڑی ایک بار پھر پٹڑی پر چڑھی، مگر اس دوران دہشت گردی، عدالتی فعالیت، میڈیا کے ابھار اور اسٹیبلشمنٹ کی مسلسل مداخلت نے ایک ہائبرڈ سیاسی بیانیئے کو تشکیل دیا۔ یہ ماڈل 2018 ء میں اپنے عروج پر تھا، جب انتخابات کے سیاسی و عسکری کردار پر اختلافات کی پٹاری کھل گئی۔
2022 ء کے بعد سیاسی انجینئرنگ الٹ پڑی، جس نے ریاستی سطح پر تقسیم اور شدید پولرائزیشن پیدا کی۔آج کی سیاسی صورتحال اسی تاریخی تسلسل کا نتیجہ ہے:اداروں کی طاقت کا غیر توازن،پارلیمان کی کمزور حیثیت،جماعتوں کی شخصی ساخت،آئینی تنازعاتاور انتخابی عمل پر عدم اعتماد۔یہ سب مل کر ملک کو مسلسل سیاسی بے یقینی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔معاشی سطح پر پاکستان قیام کے بعد سے ایک درآمدی ماڈل پر چلتا رہا ہے۔ بنیادی صنعتوں کا قیام محدود رہا، زرعی اصلاحات نامکمل رہیں، اور برآمدات چند بنیادی مصنوعات تک محدود رہیں۔ 1980 ء کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران ڈالر کی غیر معمولی آمد نے ایک مصنوعی معاشی ڈھارس کا اہتمام کیا، مگر یہ انصرام دیرپا صنعتی بنیادوں کو مضبوط نہ کر سکا۔1990 ء اور 2000 ء کی دہائیوں میں سیاسی عدم استحکام، بار بار حکومتوں کی تبدیلی، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر بڑھتے انحصار نے پاکستان کو برے طریقے سے میں جکڑ دیا۔
آج پاکستان 20 سے زائد آئی ایم ایف پروگرام لے چکا ہے جو خود معاشی پالیسیوں کے کمزور ڈھانچے کا اعتراف ہے۔اسی دوران ریاستی اشرافیہ، بیوروکریسی، کاروباری طبقات اور عسکری معیشت (Milbus) نے وسائل کی غیر پیداواری تقسیم جاری رہی جس کے نتیجے میں ٹیکس نیٹ محدود ہوا، توانائی کا شعبہ خسارے کی نذر ہوا، اور معیشت دستاویز سازی سے محروم رہی۔آج پاکستان کی معیشت جن چیلنجز سے دوچار ہے، ان کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام بے پناہ بڑھ چکا ہے اور غیر یقینی کی وجہ سے سرمایہ کاری سکڑ چکی ہے۔ بجٹ کے نصف سے زیادہ وسائل قرضوں کی واپسی پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ طاقتور طبقات ٹیکس سے مستثنیٰ جبکہ تنخواہ دار طبقہ یہ بوجھ سہانے کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔ صنعتی پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے۔ٹیکسٹائل کے سوا کوئی بڑا برآمدی شعبہ نہیں۔ سیاسی انتشار اور عدم اعتماد پر مبنی ماحول بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری کی راہمیں رکاوٹ بن چکا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔سیاسی عدم استحکام معاشی پالیسیوں میں عدم تسلسل۔کمزور معیشت عوامی عدم اعتماد، سیاسی غصہ اور احتجاج۔ اداروں کی باہمی کشمکش سرمایہ کاری اور پالیسی فریم ورک کی تباہی۔معاشی ناکامی سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں اتار چڑھائو اور نئی انجینئرنگ کی کوششیں۔یہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی کیفیت تاریخی عوامل کا حاصل ہے۔ سات دہائیوں میں پالیسی عدم تسلسل، ادارہ جاتی کشمکش، طاقت کے غیر توازن، اور معیشت کی ساختی کمزوریوں نے ریاست کی مجموعی کارکردگی کو کمزور کر دیا ہے۔ آج پاکستان جس مرحلے پر کھڑا ہے، وہاں محض حکومت کی تبدیلی یا چہرے بدلنے سے حالات تبدیل نہیں ہوسکتے، ضرورت ایک مستحکم آئینی نظم، بااختیار پارلیمان، خودمختار سیاسی جماعتوں، شفاف انتخابی عمل، اور درآمدی معیشت کی از سرِ نو تشکیل کی ہے۔اسی اصلاحی راستے پر چل کر پاکستان مستقبل میں استحکام اور ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے‘ورنہ بحران کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا اور تاریخ اپنا چکر دہراتی رہے گی۔