Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

دنیا کا عجوبہ ہینگنگ گارڈن

متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ جو خشک پہاڑی سلسلوں کے بیچ بچھی سر سبز و شاداب وادیوں پر مشتمل ہے۔سفری راستے ایسے کشادہ اور ایسے پرکشش کہ جن سے ایک پل کو نگاہ نہیں بھٹکتی کہ ساعت بھر کو دھیان بٹا تو کسی حسین منظر سے محروم ٹھہریں گے۔
متحدہ عرب امارات کی سات ریاستوں میں فجیرہ واحد ریاست ہے جو خلیجِ عمان کے ساحل پر واقع ہے۔ یہی جغرافیائی انفرادیت فجیرہ کو تاریخی، تجارتی اور دفاعی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ سمندر سے ملتے ہوئے حجر کے پہاڑی سلسلے ، جو اس خطے کو قدرتی حسن اور عسکری تحفظ دونوں فراہم کرتے ہیں۔قدیم تاریخی اور آثار قدیمہ کے شواہد کے مطابق فجیرہ میں انسانی آبادکاری کم از کم پانچ ہزار سال قبل موجود تھی۔قدیم قبریں، مٹی کے برتن، اور پتھریلے اوزار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ علاقہ تجارتی راستوں کا حصہ تھا۔فجیرہ کا خطہ قدیم زمانے میں اومان اور برصغیر کے درمیان بحری تجارت کا اہم پڑائو سمجھا جاتا تھا۔
عہد اسلامی میں فجیرہ مختلف عرب قبائل کی قیام گاہ رہا، جن میں خصوصاً شرقی قبائل،شرقی ساحلی عرب قبائل نے یہاں قلعے اور واچ ٹاورز تعمیر کیے جن میں فجیرہ قلعہ اورالبثنہ قلعہ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔یہ قلعے پرتگالی اور بعد ازاں برطانوی اثرات کے خلاف دفاعی علامت رہے۔جدید فجیرہ کا قیام 1952 ء برطانوی سرپرستی میں علیحدہ ریاست کی حیثیت کے طور پر عمل میں آیا۔1971 ء میں فجیرہ متحدہ عرب امارات کا باقاعدہ حصہ بنا‘آج فجیرہ کی قیادت شیخ حمد بن محمد الشرقی کے پاس ہے، جنہوں نے اس ریاست کو ثقافتی، تعلیمی، سیاحتی اور ماحولیاتی اعتبار سے نمایاں مقام کی حیثیت دی ہے۔
فجیرہ کا ہینگنگ گارڈن جدید دنیا کا قدرتی عجوبہ ہے جسے Sheikh Zayed Hanging Garden بھی کہا جاتا ہے، فجیرہ کے شہر دبا الفجیرہ کے قریب پہاڑی دامن میں واقع ہے۔ یہ باغ قدرتی انجینئرنگ اور ماحولیاتی ہم آہنگی کا شاندار نمونہ ہے۔یہ باغ قدیم بابل کے ہینگنگ گارڈنز سے متاثر ہو کر بنایا گیا، مگر جدید تقاضوں، پائیدار ترقی اور ماحول دوست ڈیزائن کے ساتھ پہاڑوں کی قدرتی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے سیڑھی دار (Terraced) ڈیزائن میں سبزہ اگایا گیا ۔قدرتی ڈھلوانوں پر باغات، آبشاریں اور واک ویز بنائی گئیںیہ باغ اس تصور کی عملی مثال ہے کہ صحرا اور پہاڑ بھی سرسبز ہو سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ اگر انسانی شعور فطرت سے ہم آہنگ ہو۔
10,000 سے زائد درخت اور پودے ،قدرتی طرز پر بنائی گئی مصنوعی آبشاریں، پہاڑی راستے اور بیٹھنے کی جگہیں جہاں پکنک کا ماحول بھی مہیا کیا گیا ہے ۔یہ وہ جگہیں ہیں جہاں سے فجیرہ کے پہاڑوں اور شہر کا دلکش نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے ۔سیاحت اور سیرو تفریح کے لئے یہ ایک مثالی مقام ہے فقط یہی نہیں بلکہ اس کا ایک علامتی اور فکری پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ماحولیاتی اور پائیدار ترقی کا خوبصورت ماڈل ہے جہاں جدیدماحولیاتی وژن ، قدیم قبائلی تاریخ اور اسلامی تہذیب ایک دوسرے میں مدغم ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔
ہینگنگ گارڈن ہو یا دیگر تفریحی مقامات سب اس وژن کا عملی مظاہر ہیں کہ فقط پہاڑ ہی نہیں فطرت کا ہر منظر شور کررہا ہو یا خاموشی کی چادر اوڑھے ہو وہ زندہ ہوتا ہے۔ریاست فجیرہ کی شناخت محض خوبصورت شاہراہوں یا بندر گاہوں سے تعبیر نہیں بلکہ اس وژن سے وابستہ ہے جو فطرت کو ترقی کا دشمن نہیں بلکہ اس کا دوست گردانتا ہے ۔فجیرہ آج ماضی اور مستقبل کے بیچ ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتا ہے ، ایک طرف قدیم قلعے اور قبائلی روایات،دوسری جانب ہینگنگ گارڈن جیسے عالمی معیار سے بھی بر تر جدید منصوبے، جو فجیرہ کی بین الاقوامی حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
یہی فجیرہ ہی کی نہیں بلکہ پورے متحدہ عرب امارات کی خوبصورتی ، کشش اور روایتی تہذیبی حسن سے ہم آہنگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ تاریخ کو من میں بسائے فطرت کا احترام دل میں سجائے ایک اعلیٰ وژن کے ساتھ مستقبل کی جانب پیش رفت جاری رکھی جائے تو ترقی اور خوشحالی ایک نہ ایک دن ہاتھ تھام ہی لیتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں