Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

رومی ؒکی محبت سے اقبالؒ کی خودی تک،روحانی بیداری کاسفر

(گزشتہ سے پیوستہ)
مثنویِ معنوی دراصل ایک فکری دستاویزہے جوانسان کے باطن،معاشرے اورکائنات کے باہمی تعلق کوواضح کرتی ہے ۔ رومی ؒکاانسان جامدنہیں،متحرک ہے۔ وہ ہرلمحہ بن رہاہے، ٹوٹ رہاہے، سنور رہا ہے۔عشق اس عملِ تخلیق کاایندھن ہے۔رومیؒ کے نزدیک عشق محض ذاتی کیفیت نہیں،بلکہ کائنات کاقانون ہے۔وہ عشق کووہ قوت سمجھتے ہیں جوجمادات کو نباتات،نباتات کوحیوانات،اورحیوانات کوانسان بناتی ہے۔ ان کی مثنوی محض شاعری نہیں،بلکہ روح کی سائنس ہے۔ رومیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کااصل وطن اس کی روح ہے، اور عشق اس وطن کی زبان۔یہی وجہ ہے کہ رومی کی بات صدیوں بعدبھی نئی محسوس ہوتی ہے۔ان کاعشق انسان کوانسان سے جوڑتااورانسان کوخداسے ملادیتا ہے۔ بقول رومیؒ:
مادل اندرراہ جاں انداختیم
غلغلہ اندر جہاں انداختیم
ماز قرآن برگزیدم مغز را
است خوان پیشِ سگاں انداختیم
یعنی رومی صاف صاف کہ رہے ہیں کہ میں نے قرآن میں سے مغزبرآمدکرکے مثنوی میں بھردیا۔یہی رومی اوراس کے کلام کے بقاکارازہے۔اسی وجہ سے ان کی مثنوی کودنیاکی تمام مثنویوں پہ شرف ملااوراسی لئے مولاناجامی نے ان کی مثنوی کے بارے میں کہا:
مثنویء معنویء مولوی
ہست قرآن درزبانِ پہلوی
لیکن دوسری طرف اقبالؒ رومی کے عاشق ضرورہیں، مگر ان کی شخصیت محض تقلیدکاسایہ نہیں۔اقبالؒ نے رومیؒ سے عشق کیااوراسے خودی کے قالب میں ڈھالا۔وہ جانتے تھے کہ محض وجدامت کونہیں جگا سکتا، اس کے لئے شعور،عمل اور مقصددرکار ہے۔ اقبالؒ نے رومیؒ کواپناروحانی رہنماکہااوراپنی شاعری میں انہیں باربارمخاطب کیا۔یہ دراصل صدیوں پر محیط روحانی مکالمہ ہے۔
رومی کے ہاں عشق کوئی ذاتی واردات نہیں،بلکہ ایک ہمہ گیرنظریہ حیات ہے۔وہ عشق کوعلم، اخلاق،سیاست اورعبادت سب کامحوربناتے ہیں۔ان کے نزدیک وہ علم جودل کومنورنہ کرے،بوجھ ہے؛اوروہ عبادت جوانسان کوانسان سے نہ جوڑے،رسم ہے۔ مثنویِ معنوی دراصل ایک فکری دستاویزہے جوانسان کے باطن،معاشرے اورکائنات کے باہمی تعلق کوواضح کرتی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہاکہ رومی ؒکاانسان جامدنہیں،متحرک ہے۔وہ ہرلمحہ بن رہاہے،ٹوٹ رہاہے، سنوررہاہے۔عشق اس عملِ تخلیق کاایندھن ہے۔
رومی کی زندگی میں شمس تبریزؒکاورودایک روحانی انقلاب تھا۔شمس تبریزؒکی آمدرومیؒ کی زندگی میں محض ملاقات نہیں تھی،یہ ایک زلزلہ تھا۔شمس تبریزؒ،رومیؒ کی زندگی میں ایک فردسے زیادہ ایک نظریاتی تصادم تھے۔شمس ؒنے رومیؒ کے منجمدعلم کوحرکت دی۔شمسؒ محض ایک شخص نہیں بلکہ ایک کیفیت،ایک آتشِ عشق تھے۔ شمسؒ کی صحبت نے رومی ؒکے باطن میں وہ طوفان برپا کیا جس نے انہیں مدرسے کی خاموشی سے نکال کرمحبت کے رقص میں ڈال دیا۔
شمسؒ نے رومیؒ کے علم کوعشق میں بدل دیا،اورکتابی دانش کووجدانی بصیرت میں ڈھال دیا۔شمس ؒنے رومیؒ کوبتایاکہ خداکوصرف پڑھانہیں جاتا، جیا جاتا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا ،جمودکوچیلنج کیا،اوررومی کویہ احساس دلایاکہ سچائی محفوظ خانقاہوں میں نہیں،بلکہ جلتے ہوئے دلوں میں رہتی ہے۔یہی وہ لمحہ تھاجب رومیؒ کے قلم سے آگ نکلنے لگی، اوران کی شاعری میں وہ حرارت آئی جوآج بھی دلوں کوگرماتی ہے۔
یہاں ہمیں ایک اہم فکری نکتہ ملتاہے:ہربڑی فکری تحریک کسی نہ کسی شمس کی محتاج ہوتی ہے ،ایسے سوال اٹھانے والے کی،جومروجہ فکرکے آرام دہ خول کو توڑدے۔
اقبال ؒکی خودی محض انفرادی اصلاح تک محدود نہیں۔یہ جہاں ایک سیاسی اورتہذیبی شعورہے وہاں قوموں کی تقدیر بدلنے کانسخہ ہے ۔اقبالؒ کاپیغام یہ ہے کہ روحانی کمزوری سیاسی غلامی کوجنم دیتی ہے۔جب دل آزادہوتوقومیں بھی آزادہوجاتی ہیں۔اقبالؒ کے نزدیک غلام قومیں پہلے فکری طورپرغلام ہوتی ہیں۔اسی لئے وہ تعلیم،فلسفے اورمذہبی فکرپر اتنازور دیتے ہیں۔ یہاں ہمیں اقبالؒ کی تاریخ فہم یادآتی ہے،جویہ باورکراتی ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں،فکرسے بنتی ہیں۔
اقبالؒ ؒنے رومی کومحض مرشدنہیں بنایا،بلکہ ایک فکری ماڈل کے طورپراختیارکیا۔اقبالؒ کے نزدیک رومی ؒوہ صوفی ہیں جنہوں نے عشق کوبے عمل وجدسے بچایا۔ اسی لئے اقبالؒ انہیں اپنارہنماکہتے ہیں،مگراندھی تقلیدسے انکارکرتے ہیں۔ اقبالؒ جانتے تھے کہ ان کااصل معرکہ برصغیرکے اس مسلمان سے ہے جو تقدیر پرست،مقلداورمرعوب ہوچکاتھاچنانچہ انہوں نے رومیؒ کے عشق کوخودی کے سانچے میں ڈھال کرایک نظریاتی پروگرام تشکیل دیا۔
اسی لئے ہمارے زمانے کے بہت بڑے اسلامی اورعلمی مجتہدنے رومیؒ کے عشق،اقبالؒ کی خودی اوراجتماعی فکرکو ایک ہی زنجیر کی کڑیوں سے تشبیہ دی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ تصوف فرارنہیں،ذمہ داری ہے،یہ عبادت گوشہ نشینی نہیں،تعمیرحیات ہے۔خودی اگراجتماعی نظام میں نہ ڈھلے تواس کااثرمحدودرہ جاتا ہے۔ رومیؒ کی مثنوی میں مستورجلال ،اقبالؒ کے فکر کا وقاراورفکری سفریہ سب مل کرایک ایسااسلوب بناتے ہیں جومحض سنایانہیں جاتا،محسوس کیاجاتاہے۔ آج کاانسان مشینوں میں الجھاہوا،مگراپنے آپ سے کٹاہوا ہے۔ رومیؒ اسے دل کی طرف بلاتے ہیں،اوراقبالؒ اسے عمل کی طرف۔ یہی توازن آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
رومیؒ کی محبت اوراقبالؒ کی خودی دراصل ایک ہی حقیقت کے دورخ ہیں۔ایک دل کوجلاتی ہے،دوسری کردارکوبناتی ہے۔ جب یہ دونوں جمع ہوجائیں توانسان محض فردنہیں رہتا،وہ تاریخ بن جاتاہے۔آج کی گفتگوسے جومیں سمجھاہوں کہ عشق کوخودی میں ڈھالو اورخودی کوخداکی رضامیں فناکردو۔یہی روحانی بیداری کاسفرہے،قونیہ سے لے کرہمارے دلوں تک۔ اگررومی ؒاوراقبالؒ کی فکری روایت کونثرکاجامہ پہنایاجائے توان دونوں کے کلام کااسلوب خودبخودیہ سامنے آتا ہے،وہی شکوہ بیان،وہی وقار،وہی تاریخ سے مکالمہ۔ان کی ساری تعلیمات کامقصدمحض اطلاع نہیں بلکہ بیداری ہے۔
اے اہل فکرودانش!اپنی گفتگو یہاں ختم کرتے ہوئے یہ بنیادی سوال چھوڑ کرجارہاہوں کہ ہم رومیؒ کوپڑھ کرکیابنتے ہیں،اوراقبالؒ کوسمجھ کرکیاکرتے ہیں؟اگرعشق ہمارے اندرانسان دوستی نہ پیدا کرے، اورخودی ہمارے اندرذمہ داری نہ جگائے،تویہ سب محض علمی مشق رہ جائے گی۔فکروہی زندہ ہے جوعمل میں ڈھلے،اورعمل وہی بابرکت ہے جوعشق سے روشن ہو۔
آج کی یہ علمی مجلس دلوں سے شروع ہو کر میدان عمل میں ہرکسی کواپنے کرداراداکرنے کی دعوت بھی دے رہی ہے ۔اگررومی ؒکی بات نے دل کونرم کیاہے اوراقبالؒ کی صدانے غیرت جگائی ہے توسمجھ لیجیے کہ یہ سفرکامیاب رہا۔ عشق کے بغیرخودی اندھی ہے،اور خودی کے بغیرعشق بے سمت۔جب یہ دونوں مل جائیں توانسان خداکارازداربن جاتا ہے۔
اے خداے بصیرت! ہمیں وہ دل عطا فرما جورومی کاساسوزرکھتا ہو،اوروہ عقل بخش جواقبالؒ کی سی خودی سے روشن ہو۔ہمیں فکری غلامی سے نجات دے،ہماری زبان کوصداقت،ہماری فکرکوتوازن اور ہمارے عمل کواخلاص اور مقصدیت عطا فرما۔ہمیں تاریخ کے حاشیے پر نہیں، اس کے متن میں جگہ دے۔اورہماری امت کووہ بصیرت عطاکرجس سے ہم تاریخ کے تماشائی نہیں بلکہ معماربن سکیں۔
آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں