تاریخ کی بساط پرجب قومیں اپنی چالیں چلتی ہیں توبعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب تقدیرخودمہرہ بن کرکھیلتی ہے۔تاجکستان میں عینی ایئربیس کی خالی ہونے کی کہانیانڈیاکی سٹریٹجک ناکامی،تقدیرکی کروٹ ہے یامودی کے تکبرکا بدترین نتیجہ؟تاریخ کے صفحات جب اپنے سینے پرنئی لکیریں کھینچتے ہیں توقوموں کی تدبیریں اکثر تقدیرکے ہاتھوں شکست کھاجاتی ہیں۔ تاجکستان میں انڈیا کے واحدبیرونِ ملک فضائی اڈے عینی ایئربیس کی داستان بھی کچھ ایسی ہی ہیجہاں سیاست نے عسکریت کو،اورجغرافیہ نے حکمتِ عملی کومات دی۔
تاجکستان کی بلندوبالاوادیوں میں انڈیاکاعینی ایئربیس کبھی وسطی ایشیامیں دہلی کے بڑھتے قدموں کی علامت سمجھاجاتاتھامگرآج وہی ایئربیس مودی حکومت کی سب سے بڑی سٹریٹجک ناکامی کے عنوان سے یادکیاجارہاہے۔دہلی کی سیاست میں اس پرشوروغوغا ہے،حزبِ اختلاف کی جماعتیں اسے سفارتی شکست، عسکری پسپائی قراردے رہی ہیں،جبکہ عالمی دفاعی ماہرین اسے ایک غلط تدبیر کی منطقی سزابتاتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جب سیاست کی تدبیریں وقت کے بوجھ تلے دب گئیں اورطاقت کاغرورمٹھی بھرگردمیں بدل گیا۔ گویا تاریخ نے ایک بارپھرانسان کواس ازلی حقیقت کی یاددہانی کرائی،کہوخدایا!ملک کے مالک!توجسے چاہے ، حکومت دے اورجس سے چاہے،چھین لے۔جسے چاہے،عز ت بخشے اورجس کوچاہے،ذلیل کردے۔ بھلائی تیرے اختیارمیں ہے۔ بیشک توہر چیز پرقادر ہے۔ (العمران:26)
تاریخ کے صفحات پربعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جووقت کے گزرنے کے باوجودقوموں کے شعور پرداغ بن جاتے ہیں۔تاجکستان میں انڈیاکے عینی ایئربیس کاخالی ہوناایسا ہی ایک فیصلہ ہے جسے آج نئی دہلی کے ناقدین سٹریٹجک ناکامی قراردے رہے ہیں۔یہ وہ مقام تھاجہاں سے انڈیا وسطی ایشیاکے افق پراپنی موجودگی کاپرچم لہرارہاتھا۔ مگرجب وقت نے کروٹ بدلی توتدبیرکاچراغ بجھ گیا۔ااورتم کچھ نہیں چاہتے مگروہی جواللہ چاہتاہے۔(الانسان:30)
انڈیا نے تقریباً25برس قبل تاجکستان کی سرزمین پرعینی ایئربیس قائم کیایہ اس کاواحد بیرونی فوجی اڈہ تھا۔افغانستان،پاکستان اور چین کے سنگم پرواقع یہ خطہ،انڈیا کے لئے نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے بلکہ سیاسی اعتبارسے بھی نہایت اہم سمجھاجاتا تھا۔یہاں سے وسطی ایشیاکی فضاوں تک پرواز محض عسکری نہیں بلکہ سفارتی بالادستی کی علامت تھی۔یہ اڈہ انڈیاکی بیرونِ ملک عسکری موجودگی کی واحدعلامت تھا۔گزشتہ دودہائیوں میں انڈیانے اس اڈے کی تعمیروتزئین پردس کروڑ ڈالرصرف کیے۔سوویت دورکی بنیادوں پرتعمیرشدہ اس مقام پر انڈین انجینئروں نے ایک وسیع رن وے، ایندھن کے ذخائراورایئرٹریفک کنٹرول ٹاورقائم کیے گویاایک ایساقلعہ جہاں سے نئی دہلی اپنی فضائی شوکت کاپرچم لہراسکے۔25برس قبل جوسفر تاجکستان کی فضاؤں سے شروع ہوا،آج مایوسی کے افق پرختم ہوا۔یہ بندش نہ صرف عسکری پسپائی ہے بلکہ انڈیاکی علاقائی حکمتِ عملی کی کمزوری کامظہربھی ہے۔عینی بیس دراصل انڈیاکے طاقت کے مظاہرے کاایک ذریعہ تھا۔یہ صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی برتری کامرکزتھامگر وقت کی دھول نے نہ صرف اسے مٹادیابلکہ مودی کوندامت کی خاک چاٹنے پربھی مجبورکردیا۔
تاجکستان کامقام محض ایک ملک کانام نہیں بلکہ افغانستان،چین اورپاکستان کے درمیان ایک حساس مثلث ہے۔یہاں سے وسطیٰ ایشیاء کی راہ کھلتی ہے،جہاں سے انڈیااپنی موجودگی کوپاکستان کے گردگھیراڈالنے کے ایک منصوبے کے طورپردیکھتاتھامگرتاریخ نےیہ واضح کردیاکہ جغرافیہ صرف نقشے پرنہیں،سیاست کی نبض پربھی اثراندازہوتاہے۔جب خبرآئی کہ انڈیاسے یہ اڈہ خالی کروالیاگیاہے تودہلی کے ایوانِ سیاست میں ہلچل مچ گئی۔حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس کے جنرل سکریٹری نے اس فیصلے کوانڈیاکی شرمناک سٹریٹجک ناکامی قراردیا۔ان کاکہناتھاکہ یہ وہی ایئربیس ہے جہاں سے انڈیاوسطیٰ ایشیامیں اپنی موجودگی مستحکم کرنے کے خواب دیکھتاتھا۔
گزشتہ20برسوں میں انڈیانے تقریباً 10کروڑڈالراس اڈے کی تعمیروتوسیع پرخرچ کیے۔یہ وہ مقام تھاجوسوویت دورمیں بنایاگیا،مگر انڈیا نے اسے ازسرِنوسجایاایک لمبارن وے، ایندھن ذخیرہ کرنے کے ڈپواورجدیدایئرٹریفک ٹاورتعمیرکیامگرسوال یہ ہے کہ اتنے سرمایے اور منصوبہ بندی کے باوجودانجام اتنا شرمناک اور عبرت ناک کیوں ہوا؟
باوثوق اطلاعات کے مطابق تاجکستان نے چاربرس قبل ہی اشارہ دے دیاتھاکہ انڈیارفتہ رفتہ اپنی موجودگی ختم کرے۔باوجوداس کے کہ انڈیانے لاکھ جتن وتدبیریں کیں،مگر آخر کاراسے بے آبروہوکرکوچ کرناپڑا۔دفاعی ماہرین نے اسے مودی حکومت کے لئے ایک سفارتی دھچکا اورعسکری پسپائی قراردیا۔ انڈیانے اس اڈے کوصرف عسکری مرکزنہیں بلکہ اپنی سٹریٹجک خوداعتمادی کانشان بنایامگرتاریخ کاقانون یہ ہے کہ جوطاقت توازنِ عدل سے خالی ہو،وہ پائیدار نہیں رہتی۔یہی وہ مقام تھاجہاں غرورِ اقتدارنے بصیرت کی جگہ لے لی۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے تاجکستان کے ساتھ ایک فضائی اڈہ بنانے کادو طرفہ معاہدہ کیاتھا،جواپنی مدت پوری ہونے پرختم ہوا۔اب ہم نے وہ اڈہ تاجک حکومت کے حوالے کردیاہے۔یہ بیان گویاایک سفارتی چادرہے جس میں ناکامی کولپیٹ دیاگیاہے تاکہ مودی کے چہرے پران کی غلط پالیسیوں کی کالک چھپائی جاسکے مگرسیاسی مبصرین کے نزدیک یہ بیان دراصل سفارتی پردہ پوشی ہے،حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کوعلاقائی دباؤکے تحت وہاں سے نکلناپڑا۔
یہ اڈہ محض عسکری مرکز نہیں بلکہ ایک تاریخی یادگارتھا۔2000ء کی دہائی میں یہاں انڈیانے ایک ہسپتال بھی قائم کیاتھا،جوشمالی اتحاد کے زخمیوں کی امدادکامرکزبنا۔یہ ایئربیس اس وقت قائم ہواجب طالبان پہلی مرتبہ افغانستان میں برسراقتدارآئے۔اس وقت انڈیانے تاجکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت نہ صرف ایئربیس بلکہ ایک ہسپتال بھی تعمیرکیا ۔ یہ منصوبہ دراصل درپردہ شمالی اتحادکی مددکے لئے تھا،جو طالبان مخالف قوت تھی۔نائن الیون سے دوروزقبل القاعدہ نےشمالی اتحادکے رہنمااحمد شاہ مسعودپرحملہ کیا۔ احمدشاہ مسعودکوزخمی حالت میں لایاگیا،جہاں ایک انڈین ڈاکٹر نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ یہی وہ وقت تھاجب دہلی نے اپنے لیے وسطی ایشیا میں ایک نیاباب کھولا،مگروقت کی گردنے اسے بھی دھندلادیا۔یہ وہ لمحہ تھاجب انڈیاکی افغان پالیسی کی بنیادرکھی گئی مگرآج وہ بنیاداپنی جگہ سے بری طرح پِٹ کر ہٹ چکی ہے۔
(جاری ہے)