تاریخ کے اوراق پرجب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تومحسوس ہوتاہے کہ آسمان کبھی کبھی صرف بادل نہیں گراتاقیادتیں بھی گرادیتا ہے۔ فضائوں میں اڑتے ہوئے یہ طیارے جب تباہ ہوتے ہیں تومحض لوہانہیں ٹوٹتا،قوموں کے حوصلے بھی چکناچورہو جاتے ہیں۔ان تباہ حال ملبوں کے درمیان صرف لاشیں نہیں ملتیں،ادھورے خواب، نامکمل منصوبے اورٹوٹی ہوئی امیدیں بھی ملتی ہیں۔
عصرِحاضرکی سیاست کاایک کڑواسچ یہ بھی ہے کہ عالمی طاقتیں اوراستعماراپنے مفادات کیلئے ایسی راہوں پربھی چل پڑتے ہیں جن پراخلاق،انسانیت اورقانون ساتھ نہیں دیتا۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب تیسری دنیاکی قیادتیں خودمختاری،معاشی آزادی اور قومی وقارکی بات کرتی ہیں توان کے گردسازشوں کے بادل گہرے ہونے لگتے ہیں۔کہیں حادثہ کہہ دیا جاتا ہے،کہیں تکنیکی خرابی کا عنوان دے دیا جاتا ہے،مگرسوال زندہ رہتاہے،کیایہ سب کچھ محض اتفاق ہے؟یاطاقت کی عالمی شطرنج پرچلی جانے والی وہ خاموش چالیں ہیں جوفائلوں میں محفوظ رہتی ہیں اورزبانوں پرنہیں آتیں؟ان فضائی سانحات نے خاص طورپرایشیاء، افریقا اورمسلم دنیا کی سیاسی وعسکری قیادت کونشانہ بنایا۔ تیسری دنیاکی قومیں بارباراس المیے سے گزریںکبھی صدر رخصت ہوا،کبھی سپہ سالار،کبھی پوری قیادت ایک ساتھ، نتیجہ ہمیشہ ایک رہا،انتشار،غیریقینی صورتحال، کمزور حکومتیں اورعوام کی ٹوٹی ہوئی کمر۔
آج کی تیسری دنیاانہی زخموں کے ساتھ زندہ ہے۔وہ جانتی ہے کہ اس کی کمزورمعیشتیں،اس کے قرضوں میں جکڑے ہوئے نظام اور اس کی منتشر سیاست کوعالمی طاقتیں اپنے مفادات کی تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔مگراسی دنیامیں بیداری کی لہربھی جنم لے رہی ہے۔ قومیں سوال پوچھ رہی ہیں،تاریخ کونئے سرے سے پڑھ رہی ہیں،اوراپنی قسمتوں کو دوسروں کے اڈوں اورایوانوں کے بجائے اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کررہی ہیں۔یہ تحقیقی مطالعہ انہی کہانیوں کا مجموعہ ہے جہاں حادثات صرف حادثے نہیں لگتے،اور جہاں آسمان کے نیچے صرف پرندے ہی نہیں گرتے،کبھی کبھی پوری تاریخ گرپڑتی ہے۔
تاریخِ انسانیت میں اقتدار،قیادت اورموت کاباہمی تعلق ہمیشہ سے غیرمعمولی دلچسپی اورتجسس کا موضوع رہاہے۔قیادتیں عموماًزمین پرپروان چڑھتی ہیں،مگرکثیرتعدادمیں اختتام آسمانوں میں ہواکے سپرد ہوا۔ ہوائی سفرجوجدیدتہذیب کی علامت ہے بعض اوقات تاریخ کے مہلک ترین موڑبھی لے آتاہے۔یہ مقالہ انہی سانحات کاتحقیقی مطالعہ ہے جن میں سربراہانِ ریاست، فوجی سپہ سالار، حکومتی اعلیٰ قیادت،شاہی خاندان کے افراد،فضائی حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔یہ مطالعہ محض حادثات کی فہرست نہیں بلکہ ان کے تاریخی پس منظر،تکنیکی وموسمی عوامل،سیاسی اثرات اورپیداشدہ سازشی نظریات کاتطبیقی جائزہ بھی پیش کرتاہے۔
23دسمبر2025ء کی سردصبح ترکی کی فضائوں میں ایک ایساسانحہ ظہورپذیرہواجس نے جہاں اہلِ خردکوچونکادیاوہاں اس نے عالمِ اسلام اوراہلِ لیبیاکے دل دہلادیے۔قومی اتحاد کی حکومت کے فوجی سربراہ جنرل محمدالحدادایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ اجل نے پروازکے دوران ان کوآلیااوروہ اپنے رب کے حضور حاضرہوگئے اورسفرزمینی نہ رہا، آخرت کاہوگیا۔تقدیرکی ہوانے ان کے لئے پروازکوسفرآخرت بنادیا۔
انقرہ سے طرابلس کی جانب گامزن یہ پرواز ابھی آسمان سے ہمکلام ہی ہوئی تھی کہ رابطے کے تار ٹوٹ گئے۔چندساعتوں کے بعد انقرہ سے105 کلو میٹردورایک دیہات کی خاموش زمین کی مٹی نے اس بکھرے ملبے کوگواہی کے طورپرسینے سے لگاکراس حادثے کی گواہی دے دی کہ جانے والے دوبارہ اس دنیامیں واپس نہیں آتے۔یہ صرف ایک فردکی نہیں،قیادت کے ایک قافلے کی رخصتی تھی۔اس پرواز میں صرف ایک سپہ سالارنہیں بلکہ قیادت کے کئی چراغ فروزاں تھے۔لیبیاکے بری افواج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل الفتوری، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ بریگیڈیئرجنرل محمودالقطاوی،اورچیف آف جنرل اسٹاف کے مشیرمحمدالعسوی دیابسب اسی پروازمیں سوارتھے اورسب کے سب اجل کے بلاوے پرلبیک کہتے ہوئے شربتِ شہادت نوش کرگئے۔
یہ حادثہ ایک تنہاواردات نہ تھا؛یہ حادثہ گویایادداشتوں کے دریچوں پردستک تھا،اس نے ماضی کے ان المیوں کی یادتازہ کردی جن میں عظیم عسکری وسیاسی شخصیات پروازکے دوران تقدیرکے سپردہو گئیں۔ اس نے ماضی کے ان سانحات کوبھی بیدارکردیاجن میں سیاسی قائدین،عسکری رہنمااورشاہی خانوادوں کے افراد آسمانوں ہی میں وقت کی امانت کے طور پر لوٹ گئے۔پروازکے فورابعدرابطہ منقطع،انقرہ سے تقریباً 105کلومیٹرکے فاصلے پرگرکرتباہی،ملبے کے پھیلائو سے طیارے کے شدیددھماکے کاعندیہ،فوجی وسیاسی قیادت کا اکٹھاجاں بحق ہونا،یہ واقعہ لیبیاکے پہلے ہی غیرمستحکم سیاسی ماحول میں طاقت کے توازن کومتاثرفیصلہ سازی کے تسلسل کومنقطع اوربین الاقوامی دلچسپی کومزیدگہراکرگیا۔
مئی 2024ء میں ایران کے صدرابراہیم رئیسی بھی فضائی حادثے کے نتیجے میں اس دارِفانی سے کوچ کرگئے۔ان کاہیلی کاپٹر آذربائیجان کی سرحد کے قریب پہاڑی خطے میں گرکر تباہ ہوا،جس میں وزیر ِخارجہ اوردیگررفقابھی سوارتھے۔جب وہ مشترکہ ڈیم کے افتتاح کے بعدواپسی کے سفرمیں تھے۔قومی سطح پروسیع سوگ،قیادت کے تسلسل میں وقتی خلل،عوامی بیانیے میں سازش کے عناصرکی شمولیت،خطے کی سیاست پرفوری ردِعمل،یہ حادثہ سیاسی قیادت کی ناپائیداری کے مباحث کودوبارہ زندہ کرگیا۔
تبریزکی سمت سفرکاارادہ تھا،مگرتقدیرنے اورہی سمت متعین کررکھی تھی۔اس منصوبے کے افتتاح سے واپسی پرتبریزپہنچنے سے پہلے ہی ہیلی کاپٹرحادثے کاشکارہوا۔تحقیقات نے کہا شدیددھندسبب بنی مگراہلِ نظراوراعلیٰ اہلکاروں کے مطابق موسم صاف تھاتاریخ کی نظرمیں گویاسوال باقی اورفضامیں معلق رہ گیا۔
نقادوں نے تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی اورعالمی سیاسی عیوب اورخدشات کادریچہ کھولا،عوامی گفتگو میں شکوک وشبہات کے چراغ جل اٹھے۔حکومت پرحقائق دبانے کے الزامات، اورعوامی سطح پرقیاس آرائیاں ہوتی رہیں،اورامرِواقعہ کوچھپانے کے الزامات بھی اٹھتے رہے۔حادثہ خبرنہ رہا،معمہ بن گیا۔
اگست2023ء میں روس کے شہرماسکوکے قریب ایک طیارہ حادثے میں یوگینی پریگوزن اپنے دس ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔وہی شخص جویوکرین کی جنگ میں کرائے کے جنگجوئوں کے طاقتورگروہ کی قیادت کررہاتھااورجس نے دوماہ قبل پوتن کے خلاف بغاوت کاعلم بلندکرکے دنیاکوچونکادیا۔نیٹواورامریکاجلدہی فتح کی نویدکے لئے بے چین دکھائی دینے لگے مگراچانک حادثے کے پہلو،دس ساتھیوں سمیت ہلاکت،حادثہ یاگرادیاجانا؟ریاستی ردِعمل کی خاموشی،اس واقعہ نے عالمی سیاست میں طاقت کے استعمال اوراس کے انجام پرگہری بحث چھیڑدی۔
پاکستان کی تاریخ بھی بہاولپورکے آسمان کی تلخ گواہی رکھتی ہے۔1988ء میں فوجی صدرجنرل ضیاء الحق طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے،امریکی سفیرآرنلڈرافیل سمیت دیگر کئی اعلیٰ افسران بھی ساتھ تھے۔پاکستان کی تاریخ میں بھی بہاولپورکی فضائیں اس غم سے واقف ہیں اوربہاولپورکے آسمان کی تلخ گواہی بھی موجودہے۔ 1988ء میں پاکستان کے فوجی صدر جنرل محمدضیاء الحق ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔امریکی سفیر آرنلڈرافیل سمیت کئی پاکستان کے اعلیٰ فوجی افسران بھی اسی حادثے میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اس حادثے پربین الاقوامی ذرائع نے بے شمار نظریات پیش کیے،نظریات وقیاس آرائیوں کادروا کر دیا۔ کبھی میزائل کاشائبہ،کبھی بیرونی ہاتھ کاشاخسانہ اورکبھی عالمی سازش کے اشارے مگرقطعی فیصلہ تاریخ کے قلم نے نہ لکھااورآج تک حقیقت کے پردے کوکوئی مکمل چاک نہ کرسکااوران دبیزپردوں میں ہمیشہ کے لئے ان حقائق کومستورکردیاگیا۔جنرل ضیاء الحق کے بڑے بیٹے اعجازالحق نے آم کی پیٹیوں میں دھماکہ خیزموادکی بات کی،مگرآج تک یہ الزام تصدیق کی منزل نہ پاسکااورشبہ کے ہاتھوں آج بھی انجام کی خاک چاٹ رہاہے۔ آج تک اعجازالحق کے اس الزام کوتاریخ کے دفترسے ثابت شدہ سچائی کادرجہ نہ مل سکا۔
تاہم جنرل اسلم بیگ کی سوانح اقتدارکی مجبوریاں اس حادثے کی فضائی رودادسناتی ہے۔ جنرل اسلم بیگ نے اپنی کتاب اقتدارکی مجبوریاں میں اس دن کی رودادلکھی ،فضامیں معائنہ،نیچے اٹھتادھواں، گرتا ہوا طیارہ،اورپھرفیصلہ کہ جائے حادثہ نہیں،سیدھا راولپنڈی لوٹاجائے کیونکہ بعض فیصلے موقعے پرنہیں، تقدیرکے بڑے صحیفے میں لکھے جاتے ہیں۔
13اگست1988ء کوبہاولپورکی سرزمین پروہ المناک لمحہ آیاجوبیک وقت سیاسی،عسکری اورقومی تاریخ کااہم موڑبن گیا۔جب ایک مبینہ فضائی حادثے نے پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک صدرجنرل ضیاالحق،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل اختر عبدالرحمن اورامریکاکے سفیرآرنلڈلوئیس رافیل سمیت لگ بھگ تیس انسانوں کی زندگی کاچراغ گل کردیا۔یہ حادثہ محض افرادکی موت نہ تھا،ایک پورے عہدکے اختتام کااعلان تھا۔تحقیقات کی پرتیں،اس واقعے کے بعدکے تمام مراحل ٹینک الخالد کی کہانی، عسکری فیصلوں کے پس منظر،آئینی تقاضوں کی پاسداری، اورحادثات کی اسرارانگیزی سب گویاتاریخ کے اوراق میں ثبت ہیں۔
(جاری ہے)