Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

تاریخ، طاقت اور خودی کا معرکہ

انہوں نے پائیدارامن کیلئے’’منصفانہ اور متوازن رویے‘‘کوعلاجِ درد بتایا۔یہ الفاظ اپنی جگہ خوبصورت ہیں مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ الفاظ کے صحرامیں معنی کی نخلستان تک رسائی کیلئے عمل کی بارش بھی ضروری ہوتی ہے۔انہوں نے چین کے کردارکومنصفانہ توازن برقراررکھنے والا تنازعات کی جڑحل کرنے والابیان کیاتاہم یہ تعبیر خودچین کی پالیسی پربھی سوال کھڑے کرتی ہے،کیونکہ تنقید نگارکہتے ہیں کہ بعض جگہ چین خودتنازعات کافریق ہے کئی مواقع پرمعاشی دباؤ استعمال کرچکاہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ خطے میں انڈیا کے اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ جارحانہ اور منافقانہ کردار کے مقابلے میں چین کاکردارکہیں شفاف اور بہترہے۔
نامورانڈین کالم نگارسوشانت سنگھ کے مطابق چینی بیان کئی اہداف کوبیک وقت حاصل کرتاہے،وہ پاکستان اوربھارت کوبرابری کی سطح پرسمجھتاہے اورچین کوخطے کانیاثالثِ اعظم بنا کر پیش کرتاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ٹرمپ کے سابقہ دعوے کوبھی وزن عطا کرتاہے۔اس تاثر میں بظاہرایک نرم لہجے میں سخت حقیقت پوشیدہ ہے کہ خودمختاری کاچراغ تبھی روشن رہتاہے جب اس کی لواندرسے بھڑکتی رہے،باہرسے پھونکی ہوئی ہواپراس کاانحصارنہ ہو۔اس اصولی مؤقف پربھی سب سے پہلے مودی سرکارکوعمل کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت کی خودمختاری زیرِبحث آرہی ہے۔یہ ردعمل اس بات کاثبوت ہے کہ ثالثی کاموضوع صرف سفارتی کروٹ نہیں بلکہ قومی بیانیے کی بنیادوں تک رسائی رکھتاہے۔یہ دراصل سفارتی علامتیں ہیں۔ الفاظ کے پیچھے سیاسی پیغام بیانات کے پیچھے اسٹریٹجک نتائج بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔
اسی طرح اسدالدین اویسی نے بھی کہاکہ چین دونوں ممالک کوایک صف میں لاکر خود کو خطے کی سب سے بڑی قوت کے طورپرمنوانا چاہتا ہے۔ کیایہی وعدہ وپیمان اس وقت طے ہوا تھاجب مودی نے چین کادورہ کیا؟گویایہ سوال محض سفارتی نوعیت کانہیں بلکہ نیتوں کے آئینے میں جھانکنے کی دعوت بھی دیتاہے۔دوسراسوال کیا چین خودکوبڑی طاقت ثابت کرناچاہتاہے؟یہ نکتہ اہم ہے۔چین جنوبی ایشیامیں اثرو رسوخ بڑھا رہاہے، پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہیں، بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات موجودہیں لہٰذاثالثی کااعلان طاقت کے اظہارکاطریقہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ پیغام بھی ہوسکتاہے کہ چین خطے کا فیصلہ ساز ہے۔ اویسی کے سوال کامفہوم یہ ہے کیا مودی حکومت نے کسی سطح پرچین کے ایسے کردار کو قبول کیاتھا؟ اگرایسانہیں تومودی اب تک خاموش کیوں ہے؟
اگرچہ رسمی تردیدنہیں ہوئی مگرذرائع نے کہاچین کاکردارنہیں تھا۔تاہم میڈیانے یہ خبر دی کہ ثالثی نہیں ہوئی،تنازع دوطرفہ طور پر حل ہوایعنی مسئلہ براہ راست ڈی جی ایم اوزکے رابطے سے حل ہوا۔یہ بھارت کی دیرینہ پالیسی کے مطابق ہے،تیسرے فریق کی گنجائش نہیں،اس سے دوباتیں واضح ہیں،بھارت دوطرفہ اصول سے دستبردار نہیںہوناچاہتا اور تیسرے فریق کی شمولیت کوپالیسی سطح پرخطرہ سمجھاجاتاہے ۔
انڈیاٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع نے واضح کیاکہ مئی کے تنازع کے حل میں کسی غیرملکی طاقت کی مداخلت کاکوئی وجودنہیں تھا۔اس مقف کے ساتھ یہ تصریح بھی جڑی ہوئی ہے کہ دونوں ملکوں کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز کے مابین براہ راست گفتگوہوئی،جنگ بندی پر خوداتفاق کیاجوفیصلہ کن ثابت ہوا۔یہ بیان گویا اس بات کااعلان ہے کہ اگرچہ دنیاثالثی کے گہنوں سے خودکو آراستہ کرناچاہتی ہے مگراصل فیصلہ وہی ہے جوزمینی حقیقتوں کی میزپرطے ہو۔اس سے تین باتیں ظاہرہوئیں،فوجی سطح پررابطے مؤثر ہیں ، سفارت کاری محاذسے پہلے عسکری اعتماد سازی اہم ہے،بیرونی قوتوں کی ضرورت کم پڑتی ہے۔
دراصل ان ایام میں کشیدگی بڑھی،تحمل کی اپیل سامنے آئی،جنگ بندی ہوئی،ثالثی کادعوی سامنے آیا،نتیجہ یہ نکلاکہ مودی کی مجرمانہ خاموشی کی بناپر سفارتی تاثرچین کے حق میں چلا گیا،بھارت دفاعی پوزیشن پرآیااوراپوزیشن نے سوالات تیزکردیئے۔ 13مئی کی پریس بریفنگ میں بھی یہی کہا گیاکہ جنگ بندی کی تاریخ،وقت اور اصطلاحات سب فوجی حکام کے درمیان براہِ راست رابطے کے ذریعے طے پائیں۔اس کا مطلب جنگ بندی کسی بیرونی دباؤسے نہیں ہوئی،چین یاامریکاکاکوئی براہ راست کردارثابت نہیں،بھارت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔یہ بات ایک مرتبہ پھرواضح ہوئی کہ جنوبی ایشیاکے تنازعات میں اصل کڑی دونوں ممالک کے مابین اعتمادسازی ہے،چاہے اس کی صورت کبھی تلخ لہروں کی ہواور کبھی شیریں ندی کی طرح۔
سات اوردس مئی کے درمیان ہونے والے واقعات نے چین کے کردارپرنئے سوالات اٹھائے ۔ یہ سوالات اس لیے پیداہوئے کہ چین نے تحمل کی اپیل کی،سیزفائرہوا۔چین نے ثالثی کادعویٰ کیا،اسی لیے مبصرین نے تعلق جوڑنے کی کوشش کی۔اپوزیشن نے سوال اٹھائے، چین نے سفارتی فائدہ اٹھایا۔تاریخ کاسبق یہی ہے کہ تحمل کی اپیلیں اگرمفادات کے غلاف میں لپٹی ہوں توان کے معنی بدل جاتے ہیں۔
یوں ان تمام واقعات کاحاصل یہ ہے کہ جنوبی ایشیاکی سیاست اب محض جغرافیہ کاکھیل نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں کی بساط پرچال در چال کا منظرپیش کررہی ہے۔پاکستان اور ہندوستان کے مابین تنازع محض دوہمسایہ ملکوں کی کشمکش نہیں بلکہ تاریخ،فکر،انا، خود مختاری اورسیاسی بلوغت کے امتحان کادوسرانام ہے۔اصل سوال ثالثی کا نہیں اصل سوال یہ ہے کہ قومیں کب اپنے مسائل کے حل کیلئے بیرونی سہاروں کے بجائے اپنی داخلی حکمت وبصیرت پربھروسہ کرنا سیکھتی ہیں۔یہی وقت کی آوازہے،یہی تاریخ کاتقاضاہے اور یہی ملتوں کی سربلندی کاراستہ۔
چین نے ثالثی کادعویٰ کرکے سفارتی وزن بڑھایا،بھارت نے دوطرفہ پالیسی دہرائی، اپوزیشن نے حکومت کوگھیرنے کی کوشش کی، پاکستان پس منظرمیں مگرمرکزی فریق رہا،عالمی سیاست میں طاقت کاتوازن نئی کروٹ لے رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کیاجنوبی ایشیاکے مسائل بیرونی ثالثوں سے حل ہوں گے؟یاگفتگو،اعتماد سازی اورسیاسی بالغ نظری ہی اصل راستہ ہے؟یہ سوال ابھی کھلاہے اوروقت، تاریخ اورقوموں کی بصیرت ہی اس کاجواب دے گی۔
یہ پورامعاملہ اس امرکی گویاعلامت ہے کہ جنوبی ایشیاعالمی قوتوں کے تزویراتی تجربہ گاہ بنا ہواہے۔پاک بھارت کے تنازعات دوسروں کے بیانیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ثالثی کبھی محض خیرخواہی نہیں ہوتی طاقت کی حکمتِ عملی بھی ہوتی ہے،اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ثالثی کون کرے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیاخطے کی قومیں اپنے مسائل خودحل کرنے کاحوصلہ پیداکریں گی؟ جب داخلی بصیرت بیدارہواورسیاسی بالغ نظری جنم لے تو بیرونی ثالثی کی ضرورت خوددم توڑدیتی ہے۔مودی جنتاجس قدرجلد سمجھ لے،اسی قدر بہترہوگا۔
اس لئے ضروری ہے کہ خطے میں کروڑوں افرادکو غربت کے چنگل سے نکالنے امن وسلامتی اورجاری مسائل کامنصفانہ نظام تشکیل دیاجائے اوریہ اسی صورت ممکن ہے جب ہندوستان میں متعصب آرایس ایس کے ہندوتوامنصوبے کی بیخ کنی کیلئے اقوام عالم کی امن پسندقوتوں کومودی کے جارحانہ اورمکارانہ منصوبوں سے آگاہ کیاجائے کہ کس طرح وہ اپنے اقتدارکیلئے عالمی امن کیلئے ایک شدید خطرہ بن سکتاہے۔اس خطرہ سے بچنے کیلئے فوری طورپرپاکستان اور بھارت کے مابین مستقل بامقصدمذاکراتی میکانزم قائم کیاجائے، جنگ بندی کے تمام اصولوں کی دستاویزی اور شفاف نگرانی کی جائے،میڈیا بیانات کے بجائے پارلیمانی اعتماد سازی کاراستہ اپنایاجائے اورعالمی طاقتوں کی ثالثی کی بجائے علاقائی مکالمہ ماڈل تشکیل دیاجائے۔قوموں کی اصل آزمائش اس میں نہیں کہ ان کیلئے کون بولتاہے بلکہ اس میں ہے کہ وہ خودکب بولنا سیکھتی ہیں۔
چین ہویاامریکادنیاکی ہربڑی قوت اپنا مفاد لے کرآتی ہے،طاقت کے بازارمیں ہمدردی کاسکہ نہیں چلتا۔برصغیرکی مٹی نے بہت خون دیکھا ہے، لیکن اس نے معافی،صبر،قربانی اورحوصلے کے ایسے چراغ بھی دیکھے ہیں جوآج تک بجھ نہ سکے۔ اگرپاکستان اورہندوستان اپنے مسائل خود بات چیت کی خوشبوسے حل کریں،توشایدآنے والی نسلیں جنگ کے طبل نہیں بلکہ امن کی بانسری سنیں۔ تاریخ کے طولِ شب میں صبح کی پہلی لکیر ہمیشہ انہی قوموں کیلئے ابھرتی ہے جودوسروں کے سہارے کی بجائے اپنے قدموں پرکھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں