Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

قانون توہین رسالت،سازشیں، جرم سے انکار، معافی پہ اصرار؟

حالیہ دنوں میں توہین رسالت کے خلاف قانون تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295سی میں ترمیم کے لئے ایک دفعہ پھر گھنائونی سازشوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق ’’ثابت شدہ‘‘بے بنیاد،من گھڑت،حقائق کے برعکس اور گمراہ کن بیانیہ کو بنیاد بنا کر بعض عناصر توہین رسالت کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295سی میں مختلف ترامیم کا مطالبہ کررہے ہیں۔بالخصوص ان عناصر کا یہ مطالبہ ہے کہ ’’توہین رسالت کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی میں معافی کی شق کو بھی شامل کیا جائے۔‘‘ ان سازشی عناصر کے ’’اصلی چہرے‘‘ اور ’’گھنائونے کردار‘‘سے پاکستانی قوم اچھی طرح واقف ہے۔اس لئے خاکسار کو اس بات کا بفضل اللہ تعالیٰ یقین کامل ہے کہ توہین رسالت کے خلاف قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم کی سازش میں یہ سازشی عناصر کسی طور پر بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ توہین رسالت کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295سی میں ترمیم کی سازش کی جا رہی ہے۔ماضی میں بھی اسی قسم کی سازشیں اور مطالبات کئے جاتے رہے ہیں۔رسوائے زمانہ جنرل (ر)پرویز مشرف نے بھی اپنے سیاہ دور اقتدار میں یہ کوشش کی تھی کہ توہین رسالت کے خلاف قانون میں ترمیم کی جائے۔مگر مسلمانانِ پاکستان کے سخت ردعمل کے بعد بدنام زمانہ ڈکٹیٹر کو بھی یہ اعلان کرنا پڑا تھا کہ ’’توہین رسالت کے خلاف قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی‘‘۔
اس کے بعد جب ملعونہ آسیہ مسیح کو توہین رسالت کے ارتکاب کا جرم ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے مذکورہ گستاخہ سے جیل میں ملاقات کرنے کے بعد مذکورہ گستاخہ کو اپنے ہمراہ بیٹھا کر توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی تو اسی سے شہہ پاکر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی شیری رحمن نے بھی نومبر 2010ء میں قومی اسمبلی میں توہین رسالت کے خلاف قانون میں ترمیم کے لئے ایک بل جمع کرایا تھا۔ 2010ء کے آخر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب توہین رسالت کے خلاف قانون میں ترمیم کی سازشیں شروع ہوئیں تو اس وقت ’’تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ ‘‘کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل پایا تھا۔جس میں ملک کی تقریبا ًتمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔اس پلیٹ فارم سے توہین رسالت کے خلاف قانون میں ترمیم کی سازشوں کے خلاف بھرپور عوامی تحریک شروع کی گئی تھی۔اس تحریک کے دوران مورخہ 31دسمبر 2010ء کو ملک بھر میں تاریخی ہڑتال بھی کی گئی تھی۔اس ہڑتال نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ پاکستانی قوم توہین رسالت کے خلاف قانون میں کسی بھی قسم کی ترمیم کو کبھی قبول نہیں کر سکتی۔اس تحریک کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے عوامی اجتماعات بھی منعقد ہوئے تھے۔خاکسار کو نو جنوری 2011 ء کو ایم اے جناح روڈ کراچی میں منعقدہ وہ عظیم الشان تحفظ ناموس رسالتؐ ریلی بھی یاد ہے کہ جس میں شریک لاکھوں عاشقان مصطفی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت وقت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ’’اگر تم واشنگٹن کو یہ یقین دہانی کروا کر آئے ہو کہ تم توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کرو گے تو میں بھی گنبد خضری کے سائے میں کھڑا ہوکر یہ عہد کرکے آیا ہوں کہ ہم اس قانون میں کوئی ترمیم نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ مولانا فضل الرحمن انہی دنوں حجاز مقدس کے مبارک سفر سے واپس لوٹے تھے۔بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو عوامی فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا اور اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ اعلان کیا کہ ’’توہین رسالت کے خلاف قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی اور حکومت مذکورہ قانون میں ترمیم کے لئے شیری رحمن کی جانب سے جمع کرائے گئے بل کی حمایت نہیں کرے گی۔‘‘ چنانچہ شیری رحمن کو بھی توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے لئے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے بل کی پیروی سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہئیے۔
توہین رسالت کے خلاف قانون تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295سی کے متعلق بعض لبرل اور سیکولر عناصر کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔اس خاکسار کا یہ چیلنج ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کا پروپیگنڈہ کرنے والے عناصر کوئی ایک بھی ایسا مقدمہ بطور مثال پیش کر دیں کہ جس میں پاکستان کی کسی بھی عدالت نے کسی بھی مجرم کے خلاف اس قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمے کو جھوٹا قرار دے کر کسی ایک مجرم کو بھی باعزت بری کیا ہو۔؟جب کوئی ایک بھی ایسا مقدمہ پیش نہیں کیا جاسکتا تو پھر اس قانون کے غلط استعمال کا کیا مطلب ہے؟اس کے برعکس تعزیرات پاکستان کی کئی دفعات بالخصوص قتل کی دفعہ 302 سمیت دیگر قوانین کی کئی دفعات کے غلط استعمال کی درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302کے تحت درج ہونے والے کتنے مقدمات میں ملکی عدالتوں نے کئی کئی سال تک قید کی سزا بھگتنے والوں کو یہاں تک کہ عمر قید کی سزا کو بھی پوری کرنے والے کتنے ملزمان کو ’’باعزت‘‘بری کیا۔اسی طرح ملکی عدالتوں نے انسداد منشیات ایکٹ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں بھی کتنے ملزمان کو کئی کئی سال تک قید کی سزا کاٹنے والوں، یہاں تک کہ اسی قید کے دوران دنیا سے رخصت ہو جانے والے ملزمان کو بھی ’’باعزت‘‘بری کیا۔اس کے باوجود بھی کہ ان قوانین کا غلط استعمال ثابت ہے،توہین رسالت کے قانون کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے سازشی عناصر اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں نے آج تک کبھی ان قوانین میں ترمیم کی تو کوئی کوشش نہیں کی۔ان تمام تر حقائق کے باوجود بھی اگر توہین رسالت کے خلاف قانون تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی میں ترمیم کی سازشیں کی جاتی ہیں تو اس کا واحد مقصد صرف اور صرف توہین رسالت کے سنگین ترین جرم میں ملوث مجرمان کو تحفظ فراہم کرنا اور توہین رسالت کے جرم کو عام کرنا ہے۔حالیہ دنوں میں بھی توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی جو سازشیں کی جارہی ہیں،اس کا مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔قانون توہین رسالت میں ترمیم کی سازش کرنے والے اس بلاسفیمی پروٹیکشن گینگ نے پہلے یہ جھوٹ بولا کہ’’ہنی ٹریپنگ کے ذریعے گستاخانہ مواد کی صرف ایک دفعہ شیئرنگ پر لوگوں کو پکڑا گیا ہے‘‘۔جب فرانزک رپورٹ کے سامنے یہ جھوٹ کھڑا نہ رہ سکا تو دوسرا جھوٹ بولا گیا کہ ’’بلاسفیمی کے لئے استعمال ہونے والا سوشل میڈیا اکائونٹ گرفتاری کے بعد مجرمان کے فون میں لاگ ان کیا جاتا تھا‘‘پھر جب یہ جھوٹ بھی نہ چل سکا تو اب ان گستاخ مجرموں کے لئے بچہ،نادان،ناسمجھ کا لفظ استعمال کر کے نہ صرف یہ کہ ہمدردی لوٹی جارہی ہے بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کہ ’’توہین رسالت کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی میں معافی کی شق شامل کی جائے‘‘پہلے جرم سے انکار اور اب معافی پہ اصرار؟

یہ بھی پڑھیں