Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

تہذیبِ حاضر کا اخلاقی جنازہ اور ہماری ذمہ داری

دنیا آج خود کو ترقی، آزادی اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار قرار دیتی ہے۔ مگر ان دعوؤں کی چمک کے پیچھے ایک ایسا تاریک خلا چھپا ہے جو اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔ طاقت کے ایوانوں، دولت کے محلوں اور نام نہاد مہذب معاشروں کے اندر جو کچھ برسوں سے پروان چڑھ رہا تھا، وہ کسی ایک فرد کی لغزش نہیں بلکہ پوری تہذیب کے اخلاقی انحراف کا نتیجہ ہے۔ جیفری ایپسٹین کا واقعہ اسی انحراف کا کھلا ہوا استعارہ ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں جدید تہذیب کا اصل چہرہ پوری بدصورتی کے ساتھ جھلکتا ہے۔
یہ واقعہ اگر صرف ایک مجرم تک محدود ہوتا تو شاید اسے فردِ واحد کا جرم کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ جرم برسوں تک ایک منظم نظام کی چھتری تلے پنپتا رہا۔ دولت نے قانون کو خرید لیا، سیاست نے راستے ہموار کیے، میڈیا نے خاموشی اوڑھ لی اور قانون نے کمزوروں کی آہیں دبانے میں کردار ادا کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جدید تہذیب کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ قانون سب کے لیے برابر نہیں، اخلاقیات صرف تقریروں کی زینت ہیں، اور انسانی وقار طاقت کے پلڑے میں تولا جاتا ہے۔
یہ بحران محض مغرب کی داخلی بیماری نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک تہذیبی انتباہ ہے۔ جب آزادی کو ہر پابندی سے آزاد اور آوارہ کر دیا جائے، جب خواہشات کو زندگی کا محور بنا لیا جائے اور جب خدا سے تعلق کو نجی معاملہ قرار دے کر اجتماعی زندگی سے الہی نظام کو خارج کر دیا جائے، تو پھر معاشرے کا انجام یہی ہوتا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ مغربی تہذیب اور فکری جدید نے انسان کو محض ایک لذت پسند حیوان بنا کر پیش کیا، جس کا مقصد صرف خواہشات کی تکمیل ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خاندان بکھر گئے، اقدار پامال ہوئیں اور وہ جرائم جو کبھی ناقابلِ تصور تھے اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔
اس بے لگام آزادی نے معاشرے کو جنگل بنا دیا ہے جہاں طاقتور ہر چیز پر قابض ہیں اور کمزوروں کے لیے انصاف محض ایک خواب ہے۔ مادیت پسندی نے انسان کی روح کو مفلوج کر دیا ہے، اور لذت پرستی نے اس کی اخلاقی حس کو ماؤف کر دیا ہے۔ یہی وہ زہر ہے جو جدید تہذیب کے دل میں سرایت کر چکا ہے اور اب پورے جسم میں پھیل رہا ہے۔
اسلام اس کے برعکس انسان کو ایک متوازن وجود کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ نہ اسے خواہشات کا غلام بناتا ہے اور نہ روحانیت کے نام پر دنیا سے کاٹ دیتا ہے۔ قرآن کا اصولی حکم کہ “زنا کے قریب بھی نہ جاؤ” دراصل ایک مکمل سماجی حکمت ہے۔ یہ فرد کو گناہ سے بچانے کے ساتھ پورے معاشرے کو بربادی سے محفوظ رکھنے کا نظام ہے۔ اسلام جانتا ہے کہ اخلاقی جرائم فرد سے شروع ہو کر خاندان، معاشرے اور پھر پوری تہذیب کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے جس معاشرے کی تشکیل کی، اس کی بنیاد عدل، حیاء اور ذمہ داری پر تھی۔ وہاں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’پچھلی قومیں اسی لیے ہلاک ہوئیں کہ وہ طاقتوروں کو معاف کر دیتی تھیں اور کمزوروں کو سزا دیتی تھیں۔‘‘ ایپسٹین جیسے اسکینڈلز اسی اصول کی پامالی کا نتیجہ ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب عدل طاقت کے تابع ہو جائے تو تہذیب کا اخلاقی جنازہ نکلنا یقینی ہو جاتا ہے۔
یہاں مسلمانوں کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر ہم اس سارے منظرنامے کو محض ’’دوسروں‘‘ کی خرابی سمجھ کر مطمئن ہو جائیں تو یہ خود فریبی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے بہت سے رویے ہمارے معاشروں میں بھی سرایت کر چکے ہیں۔ ہم نے بھی کامیابی کو دولت سے، آزادی کو آوارگی سے، اور ترقی کو مادّی چمک دمک سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ ہماری نوجوان نسل ایمان کی حفاظت اور خواہشات کی غلامی کے درمیان ایک شدید کشمکش کا شکار ہے۔
ہماری مساجد آباد ہیں مگر ہمارے اخلاق ویران ہو رہے ہیں۔ ہم نمازیں پڑھتے ہیں مگر معاملات میں امانت و دیانت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم دین کی بات کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں اسلامی اقدار کا عکس کم دکھائی دیتا ہے۔ یہ دوہرا معیار ہمارے لیے بھی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کو محض نعروں، مباحث اور تقریروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عملی نمونے کی صورت میں پیش کیا جائے۔ اسلامی تہذیب کی برتری صرف اس لیے نہیں کہ وہ فحاشی سے روکتی ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ انسان کو عزت، تحفظ اور معنویت عطا کرتی ہے۔ وہ عورت کو اشتہار نہیں بلکہ محترم رکن بناتی ہے۔ وہ بچوں کو خواہشات کی نذر نہیں کرتی بلکہ امانت سمجھتی ہے۔ وہ قانون کو طاقتور کا ہتھیار نہیں بلکہ مظلوم کی ڈھال بناتی ہے۔
ایپسٹین فائلز ایک ایسا آئینہ ہیں کہ جس میں جدید دنیا اپنا اصل چہرہ دیکھ سکتی ہے۔ یہ فائلز بتاتی ہیں کہ اگر تہذیب وحی الہی سے کٹ جائے تو وہ کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مغرب اس بحران سے کیسے نکلے گا، بلکہ اصل سوال تو یہ ہے کہ ہم مسلمان کیا کردار ادا کریں گے۔ کیا ہم محض تنقید کر کے خود کو بری الذمہ سمجھ لیں گے، یا اپنے کردار، اپنے عدل اور اپنی حیاء سے دنیا کے سامنے ایک متبادل نظام پیش کریں گے؟
انسانیت کو آج قوانین، ٹیکنالوجی یا نعروں کی نہیں بلکہ زندہ ضمیر، بیدار دل اور خدا سے جڑے ہوئے انسان کی ضرورت ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو اسلام دیتا ہے، یہی وہ راستہ ہے جو تہذیب کو زوال سے نکال سکتا ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں چراغ بن سکتی ہے۔
اگر امتِ مسلمہ نے اس ذمہ داری کو پہچان لیا تو یہ اخلاقی جنازہ ایک نئی زندگی میں بدل سکتا ہے۔ اور اگر ہم نے غفلت برتی تو تاریخ گواہی دے گی کہ حق موجود تھا مگر اس کے ماننے والے خاموش رہے۔ آئیے عہد کریں کہ اپنی انفرادی زندگیوں میں اسلامی اقدار کو زندہ کریں گے، اپنے گھروں میں اسلامی ماحول قائم کریں گے، اپنے معاشروں میں عدل و انصاف کے علمبردار بنیں گے اور دنیا کے سامنے اسلام کی روشن تعلیمات کا عملی نمونہ پیش کریں گے۔ یہی ہماری ذمہ داری ہے، یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے اور یہی انسانیت کی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں