Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

دفاع، دانش اور فیصلہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
سی آئی جی آئی کے سینئر فیلواینارتانجن کے مطابق،پاکستان طیارہ فروخت کرسکتاہے مگر ٹیکنالوجی کاکنٹرول چین کے پاس ہی رہے گا۔یوں یہ ایک مشترکہ ایکسپورٹ ماڈل ہوگا جس میں چین کی بالادستی مسلمہ ہے۔اس سے حساس ٹیکنالوجی کے غیرمجازپھیلائو کو روکاجاسکے گا۔چین اورپاکستان کویہ اندیشہ بھی لاحق ہے کہ کہیں کسی تیسرے فریق کے ذریعے اس کی حساس ٹیکنالوجی مغربی ممالک تک نہ پہنچ جائے۔اسی لئے ہر معاہدہ پاک بیجنگ کی نگرانی میں ہوگا۔ یہ خدشہ عالمی طاقتوں کی ٹیکنالوجی وار کا حصہ ہے اور اسی لئے پاک بیجنگ ہر معاہدے پرمشترکہ کڑی نظررکھیں گے۔اس خدشے کے پیشِ نظربرآمدی پالیسی سخت کنٹرول میں رکھی جائے گی۔
وزیرِدفاعی پیداوارکے الفاظ میں کوئی بھی ریاست اپنی بندوق دشمن کونہیں بیچتی۔جے ایف17- صرف دوست ممالک کیلئے ہے،اورہر فیصلہ جیوپولیٹیکل تناظرمیں کیاجاتاہے۔ پاکستانی وزیرکے مطابق جے ایف 17-ہرملک کے لئے نہیں۔یہ فیصلہ جیوپولیٹیکل حالات،دوستی اوردشمنی کی بنیادپرکیاجاتاہے۔یہ ریاستی دانش ہے کہ کوئی قوم اپنی دفاعی قوت دشمن کومنتقل نہیں کرتی۔پالیسی کے مطابق جے ایف-17صرف دوست اورتزویراتی شراکت دارممالک کوفروخت کیا جائے گا۔جیوپولیٹیکل عوامل ہرمعاہدے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
گزشتہ برس ہونے والے پاک سعودی دفاعی معاہدے کی تفصیلات صیغ راز میں ہیں۔یہ معاہدہ اعلی ترین ریاستی سطح پرطے پایا، اورجہاں اس کی نوعیت اس کی حساسیت کی غمازہے وہاں اس کی تزویراتی اہمیت کوظاہرکرتاہے۔بین الاقوامی میڈیامیں ترکی کے ممکنہ کردارکی بازگشت سنائی دیتی ہے،اگرچہ سرکاری تصدیق نہیں،مگرسرکاری سطح پرخاموشی اختیارکی گئی ہے۔ ترکی، چین، سعودی عرب اورآذربائیجان پاکستان کے وہ شراکت دارہیں جن کے ساتھ تعاون محض وقتی نہیں بلکہ تزویراتی اورفطری ہے اور مستقبل میں مشترکہ منصوبے ممکن ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ترکی پاکستان میں ڈرون سازی میں دلچسپی رکھتاہے۔وزیرِ دفاعی پیداوار نے اس کی نہ تردیدکی نہ تصدیق،البتہ یہ ضرور واضح کیاکہ پاکستان میں یواے ویزاورڈرون ٹیکنالوجی میں نجی شعبہ فعال اوربھرپورکام کررہاہے۔یہ رجحان دفاعی صنعت کی ڈی سینٹرلائزیشن اورٹیکنالوجی کے پھیلائو کی علامت ہے۔یہ خاموش انقلاب کی علامت ہے۔
اس سلسلے میں پالیسی سفارشات کومدنظررکھتے ہوئے ضروری ہے کہ برآمدی معاہدوں میں تدریج اور حقیقت پسندی اپنائی جائے۔چین کے ساتھ کوآرڈینیشن کو ادارہ جاتی شکل دی جائے۔ پیداواری صلاحیت میں بتدریج اضافہ کیا جائے اورصرف قابلِ اعتماد اوردوست ممالک کوفروخت کی اجازت دی جائے۔ ٹیکنالوجی کنٹرول اورانفارمیشن سکیورٹی کواولین ترجیح دی جائے۔ جے ایف-17 تھنڈرکی برآمدات پاکستان کے لئے معاشی،عسکری اورسفارتی مواقع پیداکرتی ہیں،تاہم یہ عمل محتاط پالیسی فریم ورک،چین کے ساتھ قریبی ہم آہنگی اورحقیقت پسندانہ اہداف کامتقاضی ہے۔درست حکمتِ عملی کے ساتھ یہ منصوبہ پاکستان کوعالمی دفاعی منڈی میں ایک معتبر شراکت داربناسکتاہے۔
یوں جے ایف-17تھنڈرمحض ایک جنگی لڑاکا طیارہ نہیں،بلکہ پاکستان کی عسکری خودمختاری وخودداری،صنعتی بلوغت سفارتی حکمت،عالمی سیاست میں محتاط پیش قدمی اوراسلامی دنیا میں اس کے ابھرتے ہوئے کردارکااستعارہ ہے۔یہ وہ پرواز ہے جوفولادکے پروں پرنہیں،بلکہ تدبر،اعتماداور تاریخ کے شعورپربلندہورہی ہے ۔ یہ منصوبہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ دفاع صرف ہتھیارکانام نہیں بلکہ تدبر،شراکت اوروقت کی آزمائش کامجموعہ ہے۔
جے ایف-17تھنڈرکی برآمدات سے متعلق بحث دراصل پاکستان کے اس بڑے سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ وہ عالمی سیاست میں خود کومحض ایک خریدارریاست کے طورپر دیکھنا چاہتاہے یاایک ذمہ دار، باخبراورخودمختاردفاعی شراکت دارکے طورپر۔یہ طیارہ فولاد اورالیکٹرانکس کامجموعہ ضرورہے،مگراس سے وابستہ فیصلے قومی وقار،سفارتی توازن اورمستقبل کی سلامتی سے عبارت ہیں۔
یہ پالیسی پیپراس نتیجے پرپہنچتاہے کہ جے ایف-17کی فروخت پاکستان کیلئے ایک موقع بھی ہے اورآزمائش بھی۔ موقع اس لیے کہ یہ منصوبہ دفاعی معیشت کومضبوط کرسکتاہے، دوست ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کوگہراکرسکتاہے اورعالمی سطح پرپاکستان کی صنعتی ساکھ کوبہتربناسکتاہے۔اورآزمائش اس لیے کہ کسی بھی غیرمحتاط معاہدے کی صورت میں تکنیکی انحصار،سفارتی دبائو اورپیداواری مسائل قومی مفاد کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
چین کی حیثیت ایک سینئرپارٹنرکے طورپراس پورے عمل میں مرکزی رہے گی،اوریہ حقیقت پاکستان کوکسی ابہام میں نہیں رکھنی چاہیے۔اسی طرح،برآمدات کوصرف ان ممالک تک محدودرکھناجوپاکستان کے دوست اورتزویراتی شراکت دارہیں،نہ صرف ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے بلکہ ریاستی اخلاقیات کاتقاضابھی۔
بالآخر،جے ایف-17تھنڈرکی کامیابی کامعیارصرف فروخت ہونے والے طیاروں کی تعدادنہیں ہوگا،بلکہ یہ دیکھاجائے گاکہ آیاپاکستان نے اس عمل میں تدبر،صبر،حقیقت پسندی اورریاستی حکمت کوبرقراررکھایانہیں۔دفاعی طاقت وہی معتبرہوتی ہے جوشورنہیں مچاتی، اورپالیسی وہی پائیدارہوتی ہے جووقت کی کسوٹی پرپوری اترے۔ اگرجے ایف17 کی برآمدات اسی متوازن پالیسی فریم ورک کے تحت آگے بڑھیں،تویہ منصوبہ محض ایک دفاعی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹجک بلوغت کی ایک روشن مثال بن سکتاہے۔

یہ بھی پڑھیں