یہ جملہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے:
دیکھ لو گیلانی کو پڑھتے ہوئے نعت نبیﷺ
پھر نہ پچھتانا کہ نبی کا نعت خواں دیکھا نہیں
واقعی بعض شخصیات اپنی حیات ہی میں عہد بن جاتی ہیں اور رخصت ہو کر تاریخ کا باب، سید سلمان گیلانی بھی ایسی ہی نابغ روزگار ہستی تھے، جنہوں نے اپنی آواز، اپنے سوز و گداز اور اپنی شاعری کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ کی شمعیں روشن کیں اور دلوں کو معطر کیا۔سید سلمان گیلانی صرف پاکستان تک محدود نہ تھے، بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو سمجھنے اور سننے والے موجود تھے، وہاں ان کی نعتیہ آواز کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ ان کا اوڑھنا بچھونا عشقِ مصطفی ﷺ تھا۔ ان کے لہجے میں درد تھا، آنکھوں میں عقیدت کی نمی اور الفاظ میں ایسی تاثیر کہ سامع بے اختیار جھوم اٹھتا۔ وہ نعت پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے لفظ لفظ دل کی گہرائیوں سے پھوٹ رہا ہو۔راقم کی ان سے یاری نوے کی دہائی سے تھی ۔ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ ان کی شاعری محض فن نہیں بلکہ ایک سچی کیفیت کا اظہار تھی۔ ان کی شخصیت پر خوفِ خدا اور محبت مصطفی ﷺ کا واضح غلبہ تھا وہ دین دار، باوقار اور سادہ مزاج انسان تھے۔ ان کی طبیعت میں باغ و بہار کی سی تازگی تھی، مگر پاکیزگی کا حصار کبھی ٹوٹنے نہ دیا۔ ظاہری وجاہت کے ساتھ باطنی صفائی بھی ان کا وصف تھا۔
نعت خوانی کی دنیا میں بہت سے مترنم لہجے سننے کو ملتے ہیں، مگر سید سلمان گیلانی نے ترنم کو جو نیا آہنگ عطا کیا وہ منفرد تھا۔ ان کے سوز و گداز میں ایک عجیب سی تاثیر تھی۔ وہ قادرالکلام شاعر تھے۔ نعت، نظم، غزل اور طنز و مزاحہر صنف میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے دبنگ مگر باوقار نعت پڑھنے کے اندازِ نے لاکھوں انسانوں کو اپنا گرویدہ بنایا۔ ان کی نعت سن کر نوجوانوں میں عشقِ رسول ﷺ کی چنگاری شعلہ بن جاتی تھی۔ان کی رحلت پر ملک بھر کی دینی و ادبی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ سید سلمان گیلانی کی رحلت سے دل رنجیدہ ہے، وہ ہمارے خانوادے کے فرد کی حیثیت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سوز و گداز سے بھرپور آواز اور دل نشین طرزِ بیان عطا کیا تھا۔ وہ بلند پایہ شاعر، باکمال نعت خواں اور عمدہ نثرنگار ہونے کے ساتھ سچے عاشقِ رسول تھے۔
رمضان المبارک کے مقدس ایام میں ان کی وفات ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنے گی ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خوش نصیبوں کو ہی رمضان المبارک یا جمعہ جیسے بابرکت دنوں میں رخصتی نصیب ہوتی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایسے دنوں میں وفات پانے والوں کے بارے میں قبر کے عذاب میں تخفیف یا نجات کی بشارت ملتی ہے۔ اس مسئلے میں اہلِ علم کے مابین آراء کا اختلاف موجود ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ راحت مخصوص مدت تک ہوتی ہے اور بعض کے نزدیک تا قیامت۔ تاہم یہ طے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے اور وہ اپنے بندوں کے ساتھ حسنِ ظن کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔ اسی حوالے سے حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ کے ملفوظات میں ایک قول ملتا ہے کہ رمضان میں انتقال کے بارے میں ایک رائے یہ ہے کہ قیامت کے دن حساب میں آسانی یا نرمی ہو گی اور یہی بات دل کو لگتی ہے۔
بہرحال اصل معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی بے پایاں رحمت پر موقوف ہے۔سید سلمان گیلانی کی زندگی کا امتیاز یہ تھا کہ انہیں ’’شاعرِ ختم نبوت‘‘ کا لقب ملا۔ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں عقیدہ ختم نبوتؐ کے تحفظ اور نعت رسول ﷺ کی اشاعت میں صرف کیں، ان کی شاعری میں مدحِ صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؓ کا ذکر بھی عقیدت کے ساتھ ملتا ہے۔ وہ علماء حق کی قیادت میں دینی جدوجہد کا حصہ رہے اور اپنی آواز کو ایک مشن کا ذریعہ بنایا۔ان کی مجالس میں شریک ہونے والے جانتے ہیں کہ وہ نہایت خوش طبع اور بذلہ سنج تھے، علمی و ادبی ذوق رکھتے تھے اور گفتگو میں شائستگی نمایاں رہتی تھی۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ دین داری اور خوش اخلاقی ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ وہ خشک مزاج صوفی نہ تھے بلکہ متوازن اور معتدل طبیعت کے مالک تھے،ان کی محفل میں سنجیدگی بھی ہوتی اور شگفتگی بھی۔آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک عہد رخصت ہو گیا۔ نعت خوانی کے افق پر ایک درخشاں ستارہ ڈوب گیا، مگر اس کی روشنی باقی ہے۔ ان کے ریکارڈ شدہ کلام، ان کے اشعار اور ان کی آواز آئندہ نسلوں کو بھی عشقِ رسول ﷺ کا پیغام دیتی رہیں گی، ان کی وفات سے بلاشبہ ملک ایک عظیم نعت گو شاعر اور محافظِ ختمِ نبوت سے محروم ہو گیا۔ایسی شخصیات جسمانی طور پر جدا ضرور ہو جاتی ہیں مگر اپنے اثرات اور نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔
سید سلمان گیلانی نے بھی اپنے پیچھے محبت، عقیدت اور حوصلے کی ایک روشن داستان چھوڑی ہے۔ ان کے چاہنے والوں کی آنکھیں آج بھی نم ہیں مگر دل مطمئن ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا تھا۔ وہ مرتے دم تک عشقِ رسول ﷺ کی دولت بانٹتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب کرے۔ آمین۔
سلمان گیلانی یاد آئے تو ان کا ایک قطعہ بھی ذہن میں گونج اٹھا ، جھوم جھوم کر پڑھا کرتے تھے ، اللہ ان کےا س اشتیاق کو قبول فرمائے ، اور ان کے ساتھ وہی معاملہ فرمائے جس کی وہ تمنا کر تے رہے۔
روز محشر کرم یوں ہو سلمان پر
جب پریشاں کھڑا ہو میزان پر
آکے خود وہ ﷺفرشتوں سے کہدیں
یہ ثنا خواں ہے میرا، تو کیا بات ہے