Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

رمضان المبارک! زیادہ سے زیادہ برکات کا حصول ؟

علماء کرام نے رمضان المبارک کے استقبال اور تیاری کے لئے بہت سی اہم ہدایات اور تجاویز بیان فرمائی ہیں جن کا خلاصہ اس نیت کے ساتھ کالم کی زینت بنا رہا ہوں کہ تاکہ ہم رمضان المبارک کی زیادہ سے برکات سمیٹ سکیں۔رمضان میں فرائض وواجبات کی ادائیگی کا اہتمام کریں، اگر ذمے میں قضاء نمازیں یا روزے ہوں تو ادائیگی کی ترتیب بنائیں، سابقہ زندگی کی تمام لغزشوں پر سچی توبہ کریں دل کو گناہوں اور برے خیالات سے پاک کریں،آنکھ،کان، زبان، ہاتھ، پائوں اور دل و دماغ غرض جسم کے کسی بھی حصے سے صادر ہونے والے گناہوں پر پکی توبہ کریں، رمضان المبارک کے مسائل سیکھیں اور سکھائیں، روزہ، تراویح، صدقہ الفطر، زکوٰۃ، اعتکاف اور دیگر احکامات ابھی سے سیکھیں اور سکھائیں۔اپنے نفس کو تقویٰ کا پابند بنائیں، کیونکہ رمضان المبارک تقویٰ کی عملی تربیت گاہ اور اللہ رب العزت نے رمضان المبارک میں روزوں کی فرضیت کا اہم مقصد تقوی وپرہیز گاری کا حصول بتایا ہے۔قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنا بہت بڑا گناہ ہے، قطع رحمی کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں، لہٰذا رمضان میں اس سنگین گناہ سے توبہ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں، رسول اللہﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے۔ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع رحمی یعنی رشتے ناطے توڑنے کا معاملہ کیا جائے تب بھی وہ صلہ رحمی کرے۔بخاری شریف،ہمارادل، نفرت، جذبہ، انتقام اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے، دل میں نفرت اور کینہ رکھنے والے کی اللہ سبحانہ وتعالیٰ مغفرت نہیں فرماتے، لہٰذا رمضان میں اپنے دل کو ان فضول مصروفیات سے فارغ کر کے خالص عبادات کی طرف متوجہ کریں، سب کو دل سے معاف کردیں کسی کا کینہ اپنے دل میں نہ رکھیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: دل کے صاف ہونے سے کیا مراد ہے؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: وہ متقی اور صاف ستھرا دل جس میں نہ گناہ ہو نہ بغاوت، نہ ہی اس میں کسی کا کینہ ہو اور نہ کسی کے بارے میں حسد۔ (سنن ابن ماجہ)
گزشتہ سالوں کے روزے اگر کسی شرعی عذر سے رہ گئے ہوں تو رمضان آنے سے پہلے پہلے ان کی قضا کرلیں تاکہ رمضان شروع ہونے سے قبل گزشتہ رمضان کے روزوں کا حساب بے باق ہوجائے۔ رمضان المبارک دعائوں کی قبولیت کا مہینہ ہے، لہٰذا اپنے آپ کو لمبی دعائوں کا عادی بنائیں، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ رمضان میں نبی اکرم ﷺ سے منقول دعائوں کے الفاظ زبانی یاد کئے جائیں، مسنون الفاظ پر مشتمل دعائوں میں تاثیر بھی زیادہ ہوتی اور قبولیت کا امکان بھی۔رمضان کے مہینے میں روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرنے کی عادت ڈالیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺسب لوگوں میں زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں تو آپ ﷺ کی جودوسخا تیز چلتی خوشگوار ہوا سے بھی زیادہ ہوجاتی۔ (صحیح بخاری) رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے، خوش قسمت لوگ اس ماہ میں تلاوت کی کثرت کا معمول بناتے ہیں لہٰذا رمضان کی تلاوت قرآن کو زیادہ وقت دینا شروع کریں، نیز اگر آپ حافظ قرآن ہیں تو ابھی سے قرآن کریم دہرانا شروع کردیں۔شب بیداری کی عادت،رمضان میں راتوں کی عبادات (تراویح، تہجدوغیرہ)کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، ان عبادات کو احسن انداز میں اور بلا تھکاوٹ سر انجام دینے کے لئے ضروری ہے کہ شب بیداری اور نفلی عبادات کا اہتمام کریں اور اپنے بدن کو عبادات کی کثرت کا عادی بنائیں تاکہ رمضان کی راتوں میں دقت پیش نہ آئے۔رمضان میں اوقات کی قدردانی بڑی اہم ہے، آج کل انٹرنیٹ و سوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بڑا سبب بن رہے ہیں، لہٰذا رمضان میں ان کے استعمال کو ختم یا محدود کرنے کی کوشش کریں، امام مالک ودیگر اسلاف کا تو یہ تک معمول تھا کہ رمضان آتے ہی علمی مجالس بھی موقوف فرمادیتے اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوجاتے۔
ٹی وی خرافات کا مجموعہ ہے لہٰذا رمضان میں اس سے جان چھڑانے کی کوشش کریں، ٹی وی پر رمضان نشریات کے نام پر اکثر پروگرام غیر شرعی اور مخلوط ہیں، ایک آدھ دینی پروگرام درست بھی ہو تو اسے بنیاد بناکر ٹی وی کے سامنے وقت ضائع کرنا ہوشمندی نہیں، کیونکہ دینی پروگرامز کے دوران اشتہارات میں موسیقی اور نامحرم عورتیں، رمضان کی روحانیت ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ رمضان عبادت کا مہینہ ہے، شاپنگ وخریداری کا نہیں، نیز رمضان میں رش اور مہنگائی کی وجہ سے وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے، لہٰذا رمضان کی آمد سے قبل شعبان میں ہی عید کی شاپنگ مکمل کرلیں اور اہل خانہ کو بھی یہ بات سمجھائیں۔رمضان المبارک کے لئے کاموں کا بوجھ ہلکا رکھیں،گھر میں کوئی تعمیراتی یا رنگ وروغن کا کام کروانا ہو، مشین کی مرمت ہو، گاڑی یا سواری کا کوئی لمبا کام ہو تو انہیں رمضان المبارک سے پہلے پہلے نمٹانے کی کوشش کریں۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں