تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جہاں اقوام کی خاموشی بھی ایک جرم بن جاتی ہے اوربے حسی بھی ایک فیصلہ۔آج جب مشرقِ وسطیٰ کی فضاء میں بارودکی بوگھل رہی ہے،جب سفارت کی میزپررکھے ہوئے کاغذات کے نیچے عسکری تیاریوں کی لرزش صاف سنائی دے رہی ہے،توسوال یہ نہیں کہ ایران اورامریکا کے درمیان کشیدگی کیوں ہے،اصل سوال یہ ہے کہ دنیاکی امن پسند قومیں کہاں ہیں؟وہ آوازیں کہاں گئیں جوویت نام،عراق اورافغانستان کی جنگوں کے خلاف سڑکوں پراترآئی تھیں؟وہ دانشور کہاں ہیں جوطاقت کے غرور کوللکاراکرتے تھے؟
آج اگرچہ بیشترمغربی ممالک کے اہلِ قلم، اساتذہ اوردانشور ایک مرتبہ پھرچیخ چیخ کراپنی حکومتوں کوخبردارکر رہے ہیں کہ جنگ کی آگ پورے عالم کوجلاسکتی ہے،مگراقتدارکی راہداریوں میں یہ صدائیں مدھم پڑجاتی ہیں۔ امریکی صدرکی قیادت میں واشنگٹن جس طرزِ سیاست کی جانب بڑھ رہاہے،وہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی امن کے لئے بھی ایک آزمائش ہے۔ اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے کوعملا نظر اندازکرتے ہوئے یکطرفہ فیصلوں کارجحان اس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ طاقت کی سیاست ایک بارپھر قانون کی بالادستی پرغالب آنا چاہتی ہے۔اقوام متحدہ کاقیام اسی لیے عمل میں آیاتھا کہ عالمی تنازعات کوگفت و شنیدکے ذریعے حل کیاجائے،مگراگراسے محض رسمی مہربنادیاجائے توپھرعالمی نظم کاستون متزلزل ہو جاتاہے۔
بعض مبصرین کے نزدیک یہ صورتِ حال اس عالمی تصورکی بازگشت ہے جسے کبھی یہودی نژاد ہنری کیسنجرجیسے امریکی مفکرین اورپالیسی سازوں نے عالمی طاقت کے نئے توازن کے طورپرپیش کیا تھاایک ایسا تصورجس میں طاقت کے مراکزمحدود اورفیصلے چند ہاتھوں میں مرتکزہوں۔اگرموجودہ امریکی پالیسی واقعی اسی سوچ کی عملی تعبیرہے تویہ سوال اوربھی سنگین ہوجاتاہے کہ کیاعالمی برادری ایک مرتبہ پھرطاقت کی یک قطبی تعبیرکے سامنے سرنگوں ہونے جارہی ہے؟
ایران اپنی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل51کے تحت اپنے دفاع اورخودمختاری کے حق کااعلان کررہاہے۔اس کااستدلال یہ ہے کہ وہ جنگ کاآغاز نہیں کرے گا، مگرجارحیت کاجواب ضروردے گا۔یہ مؤقف خواہ کسی کے نزدیک قابلِ قبول ہویانہ ہو،مگراس میں ایک قانونی اورخودمختارانہ لہجہ ضرور موجود ہے۔اگریہ کشیدگی بڑھتی ہے توبعید نہیں کہ خطے کی جنگ کسی وسیع ترعالمی تصادم میں تبدیل ہوجائے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی جنگیں ہمیشہ کسی ایک چنگاری سے شروع ہوئیںاورپھردیکھتے ہی دیکھتے پوراافق شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔
ایسے میں یہ سوال اوربھی اہم ہوجاتاہے کہ دنیاکی امن پسند قومیں کیوں خاموش ہیں؟کیا اقتصادی مفادات نے ضمیرکی آوازکودبادیاہے؟ کیا اسلحہ ساز صنعتوں کا منافع انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہوچکا ہے ؟ یا پھر عالمی سیاست اس مقام پرپہنچ چکی ہے جہاں اصول محض تقریروں کی زینت اورطاقت اصل فیصلہ کن عنصربن گئی ہے؟یہ مضمون اسی کرب، اسی سوال اوراسی تاریخی لمحے کی بازگشت ہے جہاں ہمیں یہ طے کرناہے کہ ہم تماشائی رہیں گے یاتاریخ کے دھارے کوبدلنے کی جرات کریں گے۔
عصرِحاضرکی سیاست میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ محض بیانات نہیں رہتے،بلکہ تاریخ کے سینے پرلکھی جانے والی تحریرکاپیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ایران اورامریکا کے مابین حالیہ کشیدگی بھی ایساہی ایک لمحہ ہے جہاں سفارت کی نرم گفتاری اور عسکری قوت کی سخت آہنی چاپ ایک ساتھ سنائی دیتی ہے۔یہ نزاع محض دوریاستوں کے اختلاف کا عنوان نہیں،بلکہ عالمی طاقت کے توازن،خودمختاری کے مفہوم،اوربین الاقوامی قانون کی عملداری کاامتحان ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک باضابطہ خط ارسال کیا،جس میں نہایت دوٹوک الفاظ میں یہ موقف اختیارکیاگیاکہ اگرایران پرکسی نوع کی فوجی جارحیت مسلط کی گئی تووہ اپنے دفاع کاحق استعمال کرے گااوروہ جواب دینے میں تامل نہ کرے گا۔اس مراسلے میں اس امرکی بھی صراحت کی گئی کہ تصادم کی صورت میں خطے میں موجود دشمن طاقت سے وابستہ تمام اڈے،عسکری سہولیات اورتزویراتی اثاثے جائزاہداف تصورکئے جائیں گے۔ اس مراسلے کالبِ لباب یہ تھاکہ ایران کسی قسم کی جنگ کاآغاز نہیں کرے گا،لیکن اگراس کی خودمختاری پرضرب لگائی گئی تووہ اقوامِ عالم کے منشورکے تحت اپنے دفاع کاحق استعمال کرے گا۔تاہم اس بیانِ عزم کے ساتھ تہران نے یہ بھی باورکرایا کہ وہ نہ کشیدگی کاخواہاں ہے اورنہ جنگ کاآغازکرے گا۔گویا تلوارنیام میں ہے، مگرہاتھ کی گرفت ڈھیلی نہیں۔
یہ بیان محض عسکری عزم کااظہارنہیں تھا،بلکہ ایک قانونی واخلاقی استدلال بھی تھا۔ایران نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل51کا حوالہ دیتے ہوئے دفاع کے حق کوبین الاقوامی قانون میں تسلیم شدہ اصول قرار دیا۔ یہاں تہران نے محض عسکری ردِعمل کی دھمکی نہیں دی بلکہ ایک قانونی بنیادبھی فراہم کی گویا وہ عالمی ضمیرکوگواہ بنا کر کہہ رہاہے کہ اس کااقدام جارحیت نہیں بلکہ دفاع ہوگا۔ اس طرزِ استدلال سے ایران عالمی رائے عامہ کواپنے حق میں ہموارکرنے کی سعی کررہاہے۔گویاتہران نے اپنی ممکنہ کارروائی کو پیشگی قانونی جواز فراہم کیاایک ایسا جواز جوعالمی رائے عامہ کومخاطب کرتاہے۔
ایران نے امریکی صدرکے بیانات کومحض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کامظہرقراردیا۔تہران کے نزدیک جب طاقتور ریاست کاسربراہ فوجی کارروائی کی بات کرتاہے تووہ الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے،بلکہ پالیسی کاامکان بن جاتے ہیں صدرٹرمپ کی زبان میں جوسختی اورجوحتمیت تھی،اس نے تہران کے شبہات کویقین میں بدل دیاکہ واشنگٹن عسکری آپشن کوسنجیدگی سے زیرِغوررکھے ہوئے ہے۔
تہران کے نزدیک یہ لب ولہجہ محض لفظی گھن گرج نہیں بلکہ خطے کی سلامتی اوراستحکام کے افق پرابھرتا ہواایک اندیشہ ہے،جو کسی بھی لمحے شعلہ بن سکتا ہے۔ یہاں قابلِ توجہ امریہ ہے کہ جدید سفارت کاری میں بیانات خودایک تزویراتی ہتھیاربن چکے ہیں۔جب کسی طاقتورریاست کاسربراہ بری چیزوںکی بات کرتاہے تووہ الفاظ نفسیاتی دبا،داخلی سیاست اور خارجی پیغام رسانی تینوں کا مرکب ہوتے ہیں۔ایران اس خطرے کواجاگر کرکے خطے کے ممالک کومتنبہ کرناچاہتاہے کہ کسی بھی مہم جوئی کااثرصرف ایران تک محدودنہیں رہے گابلکہ پورامشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آسکتاہے۔(جاری ہے)