Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

اسلام اور خواتین کے حقوق

(گزشتہ سے پیوستہ)
خلافتِ راشدہ کے دور میں خواتین کو علم حاصل کرنے اور تعلیم دینے کے آزادانہ مواقع میسر تھے۔ حضرت عائشہؓ اور ان کے ساتھ بیسیوں خواتین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات امت تک پہنچانے کا شرف حاصل ہے۔ ان کے شاگردوں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، وہ نہ صرف احادیث بیان کرتی تھیں بلکہ فتویٰ بھی دیتی تھیں اور ان کے فتویٰ پر عمل کیا جاتا تھا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے جو فتاوٰی منقول ہیں ان سے ایک بڑا مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ حضرت عائشہؓ سے بڑے بڑے علماء صحابہؓ مسائل میں رجوع کرتے تھے اور اپنے اشکالات کا تسلی بخش جواب پاتے تھے۔ اسی طرح حضرت ام سلمہؓ اور دیگر امہات المؤمنین سے بھی علمی معاملات میں رجوع کیا جاتا تھا۔ الغرض علم اور افتا کا میدان خواتین کے لیے کھلا تھا اور اس میں ان کی اہمیت تسلیم کی جاتی تھی۔
اسلام نے عورت کے معاشی حقوق اور تحفظات کا جو متوازن نظام پیش کیا ہے وہ بھی اسلام کی صداقت کی دلیلوں میں سے ایک بڑی دلیل ہے۔ یہ شعبہ ایسا ہے جہاں بڑے بڑے نظام افراط و تفریط کا شکار ہوگئے ہیں لیکن اسلام نے اعتدال اور توازن کا اصول یہاں پوری طرح قائم رکھا ہے۔ آج ’’عورت اور مرد کی ہر میدان میں برابری‘‘ کے خوشنما نعرے کے ساتھ عورت کو دوہری ذمہ داریاں ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک ذمہ داری وہ ہے جو فطری طور پر اسی کے ذمہ ہے اور وہ اس ذمہ داری سے نہ دست کش ہو سکتی ہے اور نہ اسے کسی اور کو منتقل کر سکتی ہے۔ یہ ذمہ داری بچے کی پیدائش، پرورش اور گھر کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرنے کی ہے۔ مرد کچھ بھی کرے وہ ان میں سے کوئی ذمہ داری نہیں نباہ سکتا، یہ تینوں ڈیوٹیاں لامحالہ عورت ہی سنبھالتی ہے۔ لیکن مغرب کا آزادی اور برابری کا فلسفہ اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ کمانے کی ذمہ داری بھی قبول کرے اور مرد کی برابری کرنے کے شوق میں ملازمت بھی اختیار کرے۔ اس طرح مغرب کا مرد عورت کی فطری ذمہ داریوں میں سے کوئی ذمہ داری اپنے سر لیے بغیر اپنی نصف ذمہ داری عورت کے کھاتے میں ڈالنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اسے معاشی آزادی اور برابری کا نام دے دیا گیا ہے حالانکہ یہ سراسر ظلم ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ روسی دانشور گورباچوف کے بقول پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں آبادی کا بہت بڑا حصہ قتل ہوجانے کے بعد دفاتر اور کارخانوں میں افرادی قوت کی کمی ہوئی تو یورپ کے دانشوروں نے عورتوں کے ذریعے یہ خلا پر کرنا چاہا اور انہیں گھروں سے نکال کر دفاتر اور کارخانوں میں لانے کے لیے معاشی برابری کا خوشنما نعرہ ایجاد کیا۔ ورنہ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ سراسر ظلم ہے اور اس ظلم کا نقد نتیجہ یورپی معاشرہ کو مل گیا ہے کہ وہاں خاندانی زندگی کا ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو کوئی فریب نہیں دیا اور اسے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ چونکہ گھر کے اندر کا نظام عورت کی سپرداری میں ہے اس لیے باہر کی کوئی ڈیوٹی اس کے سپرد کرنا اس پر ظلم ہے۔ اسی لیے عورت کے تمام اخراجات مرد کے ذمے لگا دیے گئے ہیں اور ان اخراجات کے سلسلہ میں عورت کو عدالتی تحفظات بھی دیے گئے ہیں تاکہ کوئی مرد اس معاملہ میں عورت کے ساتھ نا انصافی نہ کر سکے۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ کمانا اور ملازمت کرنا فرائض میں سے ہے، یہ ایک مشقت کی بات ہے اور اس کا شمار ذمہ داریوں میں ہوتا ہے لیکن مغرب کے فلسفہ نے اس پر حقوق کا لیبل لگا کر عورتوں کو یہ باور کرانے کی مہم چلا رکھی ہے کہ انہیں ملازمت سے الگ رکھ کر حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اور بے چاری عورت یہ دیکھے بغیر اس نعرے کے پیچھے لپکی جا رہی ہے کہ حقوق کے نام پر اس کے فرائض کو ڈبل کیا جا رہا ہے۔ اسلام نے فرائض کی ایک فطری تقسیم کر دی ہے کہ گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت کی ہے اور باہر کی ذمہ داری مرد پر ہے۔ اور مرد و عورت کی خلقت میں فطرت نے جو طبعی فرق رکھا ہے اس کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی تقسیم ممکن ہی نہیں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام عورت کے ملازمت کرنے پر کلی پابندی لگاتا ہے، ہرگز نہیں! بلکہ اسلام عورت کو ایسی ہر ملازمت کی اجازت دیتا ہے جس سے اس کی نسوانی حیثیت متاثر نہ ہو، اس کی خاندانی ذمہ داریوں پر زد نہ پڑے اور اس پر اس کی طاقت و صلاحیت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔
الغرض اسلام عورت کو انسانی زندگی کی گاڑی کا برابر کا پہیہ تسلیم کرتا ہے اور اس کو وہ تمام حقوق دیتا ہے جو انسانی معاشرہ میں اپنا فطری کردار ادا کرنے کے لیے اسے درکار ہیں۔ البتہ اسلام فرائض کی تقسیم مرد اور عورت کے طبعی تقاضوں اور فطری ضروریات کو سامنے رکھ کر کرتا ہے اور عورت کو ہر ایسے عمل سے روکتا ہے جو اس کے نسوانی وقار، فطری ذمہ داریوں اور طبعی مناسبت کے منافی ہو۔ اور مغربی میڈیا کے تمام تر بلند بانگ دعوؤں اور پراپیگنڈا کے باوجود اسلام کا یہ اصول حق تلفی نہیں بلکہ عین انصاف ہے جس کے بغیر انسانی معاشرت کو متوازن رکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں