(گزشتہ سےپیوستہ)
ایک لطیفہ آپ سے عرض کر دیتا ہوں۔ میں کئی نکاحوں میں دیکھتا ہوں، جب نکاح فارم پُر کرتے ہیں، ایک دوست کا میں نے ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے کہا، کیا لکھا ہے؟ کہا، ’’تفویضِ طلاق‘‘۔ میں نے کہا، کیا مطلب؟ کہا، ’’عورت کو طلاق کا حق تفویض کرتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا، کیا لکھنے لگے ہو؟ کہا، میں کراس لگانے لگا ہوں۔ میں نے کہا، سوال تم سے ہے یا خاوند سے ہے؟ یہ سوال کس سے ہے کہ خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق تفویض کر دیا ہے یا نہیں؟ اور اگر خاوند کر دے تو شرعاً بھی ہو جاتا ہے؟ تمہیں کس نے اختیار دیا کہ ہاں لکھو، اور تمہیں کس نے اختیار دیا کہ ناں لکھو۔ خاوند سے پوچھو تو سہی۔ اس نے کہا، ہم تو ایسے ہی کرتے ہیں جی۔ چنانچہ ۱۹۶۲ء سے ایسے ہی ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں شاید نہ ہوتا ہو مگر ملک بھر میں ۱۹۶۲ء سے ایسے ہی ہو رہا ہے، نہ خاوند کو پتہ ہے کہ یہ اختیار دینا ہے، نہ بیوی کو پتہ ہے، نہ نکاح خوانوں کو پتہ ہے، نہ رجسٹرار کو پتہ ہے۔ اس بات کو بنیاد بنا کر میں کہا کرتا ہوں مغرب والوں سے کہ کیوں وقت ضائع کرتے ہو؟ تمہارا یہ فارمولا مسلم سوسائٹی نے قبول نہیں کیا۔ ۱۹۶۲ء کو کتنا عرصہ ہو گیا ہے، اب تک یہ بات عوام کے شعور میں نہیں آئی کہ یہ کچھ بھی ہوتا ہے۔
یہ تو میں اشارہ کر رہا تھا اور میرا خیال ہے آپ کی سمجھ میں آ گیا ہو گا۔ لیکن میری عرض یہ ہے کہ یہ صرف کم سنی کی شادی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ تو مسلم فیملی قوانین کا ایک جزوی مسئلہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے خاندان میں نکاح، طلاق اور وراثت کے احکام قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے مطابق کرنے ہیں یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے حساب سے کرنے ہیں؟ اس پر آپ کو مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے اور اسلام آباد کے علماء کو اس پر کچھ تھوڑا سا آگے بڑھ کر ملک کے باقی علاقوں کے علماء کی رہنمائی بھی کرنی چاہیے۔
ایک اور بات درمیان میں ذکر کر دوں کہ کیا بچے اور بچی کی وراثت برابر ہے؟ ’’للذکر مثل حظ الانثیین‘‘ (النساء) آپ کے علم میں لانا چاہوں گا کہ سندھ میں ایک لڑکی نے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق مجھے برابر حصہ ملنا چاہیے، لیکن مجھے میرے بھائی آدھی وراثت دے رہے ہیں۔ وہ سول کورٹ میں گئی، وہ مسئلہ چلتے چلتے ہائی کورٹ میں آگیا۔ اس وقت ہائی کورٹ کے جسٹس صاحب تھے جسٹس شائق عثمانی، وہ اس کے بعد سپریم کورٹ میں آئے، اور اب ریٹائر ہو گئے ہیں۔ لیکن جب ہائی کورٹ کے جج تھے، ان کے پاس کیس آیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین میں برابر حصہ ملتا ہے لیکن قرآن پاک نے حصہ برابر کیا ہے؟ ’’للذکر مثل حظ الانثیین‘‘۔ جسٹس صاحب نے فیصلہ دے دیا کہ اس کو برابر حصہ دیا جائے۔ اب انہوں نے دلائل بھی دینے تھے، چنانچہ انہوں نے لکھا کہ قرآن پاک نے ’’للذکر مثل حظ الانثیین‘‘ جو کہا ہے، یہ حصے کا بیان نہیں ہے، یہ minimum کی حد ہے کہ کم از کم اتنا تو دو۔ اور حصے کا بیان کہاں آیا ہے؟ ’’ان اللہ یأمر بالعدل والاحسان‘‘۔ جج صاحب نے آرڈر دے دیا کہ اس کو برابر حصہ دیا جائے۔
ایک بات اور دیکھ لیں، ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کا طریق کار یہ ہے کہ جو کام یہ کرنا نہ چاہیں، یا جو کام یہ عوامی دباؤ کی وجہ سے نہ کر سکتے ہوں، وہ کھینچ تان کے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر کے حکمِ امتناعی لے لیتے ہیں، اور وہ اسٹے فریزر میں پڑا رہتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فریزر میں بڑی بڑی بلائیں فریز ہوئی پڑی ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے۔ وراثت کے مسئلے میں یہ تبدیلی اسٹیبلشمنٹ ہضم کر سکتی تھی؟ انہوں نے سپریم کورٹ میں رٹ کی، سٹے ملا، اب تک سٹے چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فریزر میں کیا کیا بلائیں فریز ہوئی پڑی ہیں، اچھی بھی، بری بھی، ذرا چیک تو کریں۔ اب یہ وراثت کا قانون پرانا جو چلا آ رہا ہے، یہ سٹے پر چلا آ رہا ہے، ورنہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے برابر حصہ ملنا چاہیے۔
یہ ہمارے مسائل ہیں، تو میں نے عرض کیا ہے کہ ہمارے ہاں عدالتوں میں بھی، اسمبلیوں میں بھی، کسی نہ کسی بہانے کوئی نہ کوئی قانون چھیڑ کر اس میں ردوبدل کر کے یہ ماحول بنایا جا رہا ہے کہ کسی طریقے سے ہم شرعی قوانین سے دستبرداری کو قبول کر لیں۔ یہ ہے بنیادی مسئلہ۔ یہ کم سنی کا نکاح تو جزوی مسئلہ ہے۔ اسی طرح وراثت کے مسائل ہیں، اس کے ساتھ تفویضِ طلاق کا مسئلہ ہے، اسی طرح خلع ہے۔ میں علماء کرام سے پوچھتا ہوں کہ ’’خلع‘‘ طلاق ہے یا مطالبۂ طلاق ہے؟ جبکہ آپ کا موجودہ قانون بھی وہی ہے لیکن پراسیس میں خلع اب مطالبۂ طلاق نہیں رہا بلکہ یہ طلاق کا نوٹس سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے علم میں ہے؟ اس وقت آپ کے قانونی پراسیس میں، اسلام آباد میں بھی، خلع مطالبۂ طلاق نہیں ہے بلکہ طلاق کا نوٹس سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ہی جیسے مرد نے طلاق کا نوٹس دے دیا، بس ٹائٹل بدلا ہے۔ اس کو سول جج صاحبان طلاق کے نوٹس کے طور پر ڈیل کرتے ہیں۔ میرا ایک شاگرد ہے، سول جج ہے، میں نے اس سے پوچھا، یہ خلع کا آپ کو جو نوٹس آتا ہے، آپ نوے دن کے اندر اس کا فیصلہ کرنے کے پابند ہیں، تو کیا خاوند کو بلاتے ہیں اور اس کا موقف سنتے ہیں؟ اس نے کہا کہ ضروری نہیں ہے۔ جج کی مرضی ہے بلائے یا نہ بلائے، کیونکہ یہ نوٹس ہے۔ خاوند کو تو تب بلائیں جب یہ مطالبۂ طلاق ہو۔ میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ یہ تبدیلی ہو چکی ہے۔ تو بہرحال یہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ جدوجہد جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گی۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اپنے فیملی قوانین میں اور خاندانی نظام میں، نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ میں ہم نے شرعی قوانین کی پابندی برقرار رکھنی ہے؟ یا مختلف تبدیلیوں کے نام سے مغربی نظامِ خاندان کو قبول کرنا ہے؟ یہ ہے بنیادی جھگڑا۔
(جاری ہے)