Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

طاقت،تدبر اور تدبیر

تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جب زمانہ اپنے قدم روک کرسانس لیتاہےاوراقوام کی تقدیرچندفیصلوں کے پلڑےمیں رکھ دی جاتی ہے۔آج مشرقِ وسطی ایک ایسے ہی دہانے پر کھڑاہےجہاں طاقت کی زبان،نظریے کی آگ،معیشت کی نبض اورسفارت کی سانس ایک دوسرےمیں الجھ کرایک پیچیدہ گرہ بناچکی ہیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتباہی بیانات، ٹرمپ کے جارحانہ عزائم،پینٹاگون کی عسکری منصوبہ بندی،اورآبنائے ہرمزو آبنائے مندب جیسے آبی راستوں کی حساسیت یہ سب مل کرایک ایسامنظرنامہ ترتیب دے رہےہیں جس میں صرف گولیاں نہیں چل رہیں بلکہ عالمی سیاست کی بساط بھی ازسرِنوبچھائی جارہی ہے۔
یہ محض ایران اورامریکایااسرائیل کاتصادم نہیں،یہ نظریاتی اصراراورعالمی مفادات کی کشمکش ہے۔ ایک طرف انقلاب کاتسلسل ہے، دوسری جانب عالمی برتری کادعوی۔ایک طرف مزاحمت کابیانیہ ہے،دوسری طرف”نظام کی تبدیلی”کا اعلان۔سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ اسلحہ ہے؛سوال یہ ہے کہ کس کے پاس زیادہ صبر،زیادہ تدبراورزیادہ دوراندیشی ہے۔اس بحران کی تہہ میں صرف عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ داخلی سیاست،عالمی توانائی منڈی،خلیجی ریاستوں کی بے چینی اور عالمی طاقتوں کی صف بندی بھی شامل ہے۔ اگر آبنائے ہرمزکی موجوں میں اضطراب پیداہوتا ہے تواس کی بازگشت ٹوکیو،بیجنگ،برلن اورنئی دہلی تک سنائی دے گی۔اگرباب المندب کادروازہ لرزتاہے تویورپ کی منڈیاں بھی کانپ اٹھیں گی۔
یہ مضمون انہی تمام پہلوئوں کویکجاکر کے پیش کرتاہے ،ایسے انداز میں کہ قاری نہ صرف واقعات کی ترتیب سمجھے بلکہ ان کے باطن میں پوشیدہ معنی بھی دریافت کرے۔ یہاں الفاظ محض خبرنہیں سناتےبلکہ زمانے کی دھڑکن سناتے ہیں،یہاں تجزیہ صرف اعداد وشمار نہیں گنواتابلکہ تاریخ کے آئینے میں حال کاعکس دکھاتا ہے۔ آئیےاس داستان کوسرسری نگاہ سے نہیں بلکہ غوروفکرکی آنکھ سے پڑھیں کیونکہ جوکچھ آج رقم ہورہا ہے وہ کل کی تاریخ کاعنوان بن سکتاہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہفتوں پیشتر تنبیہ محض عسکری بیان نہ تھی بلکہ ایک نظریاتی اعلان جو محض سیاسی بیان نہ تھابلکہ تاریخ کےاوراق پرثبت ایک پیشگوئی تھی۔ انقلابِ ایران کے بعدسے ایرانی قیادت یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے کہ وہ خودکو محض ایک قومی ریاست نہیں بلکہ ایک انقلابی مرکزسمجھتی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نےجس لہجے میں پیشگی خبردارکیاتھا، اس میں محض سیاسی عتاب نہ تھابلکہ ایک اسٹریٹجک اعلان مضمر تھا۔ انقلابِ ایران کی سینتالیسویں سالگرہ پر ان کایہ اعلان کہ ’’اگرامریکا نے جنگ شروع کی تو یہ پورے خطے تک پھیل جائیگی”گویا آتشِ زیرِخاکستر پرپھونک تھا‘‘،چنانچہ جب خامنہ ای نےکہاکہ جنگ پورےخطےتک پھیلےگی تواس کامفہوم یہ تھاکہ ایران اپنی جغرافیائی حدودسے باہربھی اثراندازہونے کی صلاحیت رکھتاہے خواہ وہ سیاسی نیٹ ورکس ہوں یامسلح گروہ۔ ایران خودکو محصورنہیں ہونے دے گا۔یہ اعلان دراصل ’’جوابی پھیلاؤ‘‘کی حکمت کااشاریہ تھایعنی حملہ اگرمرکز پر ہوگاتوارتعاش محیط تک جائے گا۔آج جب امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں تہران نے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنایاہے تومحسوس ہوتاہے کہ الفاظ نے بارودکی صورت اختیارکرلی ہے، اوروعید،واقعہ بن چکی ہے ۔ ایرانی قیادت نے داخلی سطح پراس بیانیے کومزاحمتی وقارکے ساتھ جوڑا،تاکہ قوم کویہ احساس رہے کہ وہ دفاعی نہیں بلکہ فعال پوزیشن میں ہے۔
ایران کے میزائل جب سعودی عرب،کویت، بحرین،قطراورمتحدہ عرب امارات کی فضامیں گونجے تویہ محض ردِعمل نہ تھابلکہ ایک جغرافیائی پیغام تھا۔یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تقریباچالیس ہزارامریکی اہلکارتعینات ہیں۔قطر میں العدیدایئربیس کمانڈوکنٹرول کامرکزجوامریکا کے لئے فضائی آپریشنزکامرکزی اعصابی مرکزہے،بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی،کویت میں بری اوربحری تنصیبات ، اور اردن میں ٹاور22جیسی چوکیوں کاجال،سعودی عرب میں دفاعی اڈے، ایک ایساحصار بناتے ہیں جوایران کو چاروں طرف سے گھیرتامحسوس ہوتاہے۔ایران کی نظرمیں یہ محض دفاعی انتظام نہیں بلکہ اس کے خلاف ایک مستقل عسکری دبااورایک وسیع عسکری جال کی مانند پھیلے ہوئے ہیں۔ یونائیٹڈاسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کی اطلاعات کے مطابق یہ موجودگی محض علامتی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہے۔کویت،سعودی عرب،بحرین،عراق،شام اور مصرمیں امریکی اڈے اس امرکاثبوت ہیں کہ خطہ ایک عسکری شطرنج بن چکاہے جہاں ہرمہرہ کسی بڑے دائوکاحصہ ہےجوایران کےلئےایک مسلسل نگرانی اورفوری ردِعمل کاامکان پیداکرتاہے۔اس بندوبست کوتہران ’’گھیرائوکی سیاست‘‘کے طور پردیکھتاہے۔۔
یہ سوال کہ ایران خلیجی ممالک کوکیوں نشانہ بنارہاہے،دراصل اس بڑے سوال کاجزوہے کہ جنگ کی حدبندی کون کرے گا؟ایران شاید یہ باورکرانا چاہتاہےکہ اگراس کے خلاف محاذ کھولا گیاتواس کی تپش صرف تہران تک محدود نہ رہے گی۔ایران کی کارروائیوں کو ’’توازنِ خوف‘‘کی حکمتِ عملی کے تحت سمجھاجاسکتاہے۔ تہران یہ باورکراناچاہتاہے کہ اگراس کے خلاف حملہ ہواتو اس کی قیمت پوراخطہ اداکرے گا۔یہ وہی منطق ہے جوسردجنگ کے دور میں’’ڈیٹرنس‘‘کہلاتی تھی، دوسرے فریق کونقصان کےخوف سے روکنا۔گویا ایران وہی کر رہا ہےجس کااعلان کیاتھا’’اگرہمیں گھیرائو میں لیاگیاتوحصارکی دیواریں بھی محفوظ نہ رہیں گی‘‘۔
ایران کی جانب سےخلیجی ریاستوں میں موجود امریکی تنصیبات کی سمت کارروائی دراصل براہِ راست امریکاکونہیں بلکہ ’’میزبانوں‘‘کومخاطب کرنے کا انداز ہے۔ مقصدیہ باور کرانا کہ عسکری شراکت داری کی قیمت مقامی سلامتی سے اداہوسکتی ہے۔یہ ایک طرح کی ’’بالواسطہ بازگشت‘‘ہے ریاض،ابوظہبی،قطر،اردن اوردوحہ پردباؤ،دراصل واشنگٹن کو پیغام دیا گیاہے۔
سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،کویت، بحرین اورقطران سب کے لئے معیشت اولین ترجیح ہے۔ ان کی توانائی تنصیبات،بندرگاہیں اور شہری ڈھانچے کسی بھی طویل کشیدگی کے متحمل نہیں۔خلیجی ممالک کے لئے یہ صورتِ حال دودھاری تلوار ہے۔ایک طرف وہ امریکی دفاعی چھتری کےمحتاج ہیں،دوسری طرف وہ ایران کےساتھ کھلی جنگ نہیں چاہتے،اگر حملےامریکی اہداف تک محدودرہیں اور تیل کی تنصیبات محفوظ رہیں توغالب امکان ہے کہ وہ براہِ راست تصادم سے گریزکریں گی۔اسی لیے بظاہرمذمتی بیانات کے باوجود عملی سطح پر ان کی کوشش یہی ہوگی کہ تصادم کی لکیران کے شہروں سے دوررہے جبکہ پسِ پردہ دفاعی تیاریوں میں اضافہ اور پسِ پردہ کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں مصروف رہ سکتے ہیں یہی متوقع راستہ ہے۔سیاست میں بعض اوقات خاموشی بھی حکمت ہوتی ہےاوراحتیاط بھی ایک اعلان ہوتاہے۔
ایران کی کارروائیوں کافوری اثرعالمی منڈی پرپڑتاہے۔اگررسد میں معمولی خلل بھی آئے تو قیمتوں میں تیزی آسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایرانی اقدام کا پہلاارتعاش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اضافے کی صورت نمودارہواہے۔عراق میں شیعہ مسلح گروہوں کی ممکنہ سرگرمیاں امریکی تنصیبات کے لئےاضافی خطرہ اوراسرائیلی اہداف کے لئے نئی آزمائش بن سکتی ہیں جس سےسرمایہ کاروں کااعتمادمزید متزلزل ہوگا۔گویاجنگ کادائرہ محض سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت کی نبض تک پھیل چکاہے۔عالمی توانائی منڈی میں شدید اضطراب کی لہریں دکھائی دے رہی ہیں۔تیل اورگیس کی رسدمیں معمولی خدشہ بھی قیمتوں کواوپرلےجاتا ہے۔ ایشیاء کی صنعتی معیشتیں خصوصاچین،جاپان اورجنوبی کوریا خلیجی رسد پر انحصارکرتی ہیں۔یورپ،جو پہلے ہی توانائی کے بحرانوں سے گزر چکا ہے، مزید عدمِ استحکام کامتحمل نہیں ہوسکتاچنانچہ یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ بین البراعظمی اثرات رکھتا ہے
دراصل ایران نے پیشگی اعلانات کے مطابق مرحلہ وارردِعمل اپنایاہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ تہران نےاپنےبیانیے کوعمل سے جوڑنے کی کوشش کی تاکہ ساکھ برقراررہے۔اس حکمتِ عملی سے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثرہوں گے،تاہم ایران پہلے ہی خبردارکرچکاتھاکہ اگر وہ امریکی قیادت کوحملوں سے نہ روک سکے تونتائج کے لئے تیاررہیں۔بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ دباؤکی سیاست اورردِعمل خلیجی ممالک پرسیاسی دبائو ڈالنے کی کوشش بھی ہوسکتاہےتاکہ خطے کے ممالک خودجنگ بندی کی وکالت اورواشنگٹن کوجنگ کےخاتمے پر آمادہ کریں۔

دراصل ایران اس تنازع کوصرف امریکا و اسرائیل تک محدودنہیں رکھناچاہتابلکہ اس تنازع کووسیع تربناناچاہتاہے۔تاکہ جنگ کی قیمت سب اداکریں اور جنگ کے خاتمے کی آوازیں خودانہی دارالحکومتوں سے بلندہوں جوآج محتاط خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں۔اس حکمت عملی کامقصدیہ ہوسکتاہے کہ خلیجی دارالحکومت خود امریکاپردباؤڈالیں کہ وہ مہم جوئی ترک کرے۔ ایران کی حکمت عملی میں ’’دائرہ وسیع کرنے‘‘ کا عنصر موجود ہے، تاکہ کسی ایک فریق پرانحصارنہ رہے۔ اگرسب متاثرہوں گے توسب متحرک بھی ہوں گے یہی اس سوچ کی بنیادہے۔
ایرانی حملوں سے اگرچہ خلیجی انفراسٹرکچر کومحدود نقصان پہنچا،تاہم یہ تاثرابھراکہ ایران شدیددباؤ میں ہے۔جب کوئی ریاست یہ محسوس کرے کہ کھونے کوکچھ نہیں رہاتواس کے اقدامات زیادہ جرات مند بلکہ بعض اوقات مایوس کن ہوسکتے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں رہائشی عمارتوں کو نقصان اورکویت ایئرپورٹ پرحملے نے یہ تاثرپیداکیاکہ ایران ایک نازک موڑپرہے۔تاہم خلیجی ممالک غالبابراہِ راست جواب دینے کے بجائے دفاعی تیاریوں کوترجیح دیں گے۔جنگ کے ہنگامے میں بعض اوقات صبربھی سب سے بڑاہتھیار ہوتا ہے۔ ایران کی داخلی کیفیت کایہ عالم ہے کہ ایرانی معاشرہ معاشی پابندیوں،مہنگائی اورسماجی بے چینی سے دوچارہے۔ بیرونی تصادم بعض اوقات داخلی وحدت پیداکرنے کاذریعہ بنتا ہے ۔تاہم اگرنقصانات بڑھیں تویہی حربہ الٹابھی پڑسکتاہے۔ اس لیے تہران کیلئیتوازن برقرار رکھنانہایت اہم ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیاکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ان کاہدف ہے۔ٹرمپ کاحکومت کی تبدیلی کااعلان دراصل ایران کے سیاسی ڈھانچے کوچیلنج کرنے کی کوشش ہے۔حکومت کی تبدیلی کی بات دراصل ایک نفسیاتی دباؤبھی ہے اورسیاسی عزم کااظہاربھی۔ان کا یہ بیان کہ ایرانی عوام سڑکوں پرنکلیں،ایک داخلی بغاوت کی تمناکاعکاس ہے مگرتاریخ گواہ ہے کہ بیرونی دباؤسے پیدا ہونے والی تبدیلی جہاں اکثرطویل افراتفری کاپیش خیمہ اورناپائیدارہوتی ہے وہاں غیرمتوقع نتائج لاتی ہے۔عراق اورلیبیاء کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایران جیسے مضبوط ریاستی ڈھانچے میں فوری انہدام کاامکان کم،مگر طویل بے یقینی کاامکان زیادہ ہے۔
امریکی ٹھنک ٹینک سٹیمسن سنٹر کی ریسرچ سکالر باربراسلاون نے خبردارکیاتھاکہ سینئرایرانی عہدیداران حتیٰ کہ رہبرِاعلیٰ بھی نشانہ بن سکتے ہیں،اگرسینئر قیادت کونشانہ بنایاگیاتواس کے بعدیا تو مزیدسخت گیر قیادت ابھرے گی یاطویل بدامنی جنم لے گی۔ ریاستی ادارے فوج،پاسدارانِ انقلاب،عدلیہ ایک مضبوط نیٹ ورک کی صورت موجودہیں،جواچانک خلا کو پرکرسکتے ہیں۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ قیادت کی تبدیلی ہمیشہ نظام کی تبدیلی نہیں لاتی۔
امکان ہے کہ امریکااوراسرائیل ایران کی میزائل وجوہری صلاحیتوں کومحدود اورکمزورکرنے پرتوجہ مرکوزرکھیں گے وسیع پیمانے پرعسکری اور سویلین قیادت کونشانہ بنانا،فوری سیاسی خلاپیدا کرنا اوراندرونی احتجاج کوہوادینا،ایک تدریجی حکمت ہوسکتی ہے مگریہ راستہ باریک بھی ہے اورپرخطر بھی۔ پینٹاگون کی منصوبہ بندی بظاہرایران کی میزائل، ڈرون اور جوہری تنصیبات کی صلاحیت گھٹانے پرمرکوزہے۔یہ ’’صلاحیت کم کرو‘‘کی حکمت ہے،نہ کہ لازما’’نظام بدل دو‘‘کی۔ تاہم دونوں کے بیچ لکیرباریک ہے۔
خلیجی قیادتیں سمجھتی ہیں کہ یہ جنگ ان کے دروازے تک آپہنچی ہے،جبکہ ان کی ترجیح اقتصادی استحکام اورعلاقائی ترقی تھی۔ان کے لئے یہ بحران ایک غیرمطلوب بوجھ ہے۔خلیجی ریاستیں اگرچہ امریکی سکیورٹی فریم ورک کاحصہ ہیں،مگروہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ کشیدگی کی قیمت انہیں اداکرنی پڑتی ہے۔مشرقِ وسطی کے ممالک اس جنگ سے ہی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی حکمتِ عملی سے بھی مایوس دکھائی دیتے ہیں۔تعلقات میں فوری بہتری کی امیدکمزورپڑچکی ہے،مگراس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واشنگٹن کے ہر اقدام کے ہم نواہوں گے۔ اسی لئے وہ یک طرفہ وابستگی کے بجائے متوازن خارجہ پالیسی اپنانے کی کوشش کرتی ہیںچین اورروس کے ساتھ روابط اسی تناظرمیں دیکھے جاسکتے ہیں۔
حالیہ حملوں نے مذاکرات کی بساط لپیٹ دی ہے۔سفارت کاری کی شمع مدھم ہوچکی ہے اورخطہ نئی آگ کی لپیٹ میں آتامحسوس ہوتا ہے۔حملوں کے بعد مذاکراتی عمل تعطل کاشکارہو گیا ہے۔مذاکراتی راستے وقتی طورپرمسدود ضرورہوئے ہیں،مگرعمان، قطراوربعض یورپی ممالک پسِ پردہ رابطوں میں کرداراداکرسکتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ شدیدتصادم کے بعدہی کبھی کبھی مفاہمت کی کھڑکی کھلتی ہے۔یادرہے کہ جب توپیں بولتی ہیں توسفارت کارخاموش ہوجاتے ہیںیہ تاریخ کاالمیہ ہے۔
ایران میں تبدیلی کی خواہش ایک ایساجواہے جونہ صرف خودامریکی سیاست میں طوفان اٹھاسکتا ہے بلکہ خودامریکی سیاست میں اختلافات کوہوا دے سکتا ہے۔ امریکامیں عوامی رائے بیرونی جنگوں کے حوالے سے منقسم ہے۔اگرجنگ طویل ہوئی،نتائج توقع کے مطابق نہ نکلے توصدر کی ساکھ مجروح اورانتخابی سیاست پراثرات پڑسکتے ہیں جس سے عوامی حمایت میں کمی آسکتی ہے۔ معاشی دبائو،بجٹ خسارہ اورافراطِ زرجیسے مسائل رائے دہندگان کے فیصلوں پراثرانداز ہوں گے۔
ٹرمپ نے ایک بڑاداؤکھیلا ہے،ٹرمپ کی حکمتِ عملی فوجی طاقت کے ذریعے خطے کوازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش اوردیرینہ خواب ہے ایک ایساخواب جوماضی میں بھی دیکھاگیا مگرمکمل تعبیرنہ پاسکا۔جس میں ماضی کے کئی امریکی صدورناکام رہے۔ مشرقِ وسطی کو طاقت کے ذریعے’’ری انجینئر‘‘کرنے کی سوچ نئی نہیں۔ مگرعراق اورافغانستان کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ عسکری برتری سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں ہوتی۔ ایران کاریاستی ڈھانچہ عراق سے کہیں زیادہ مربوط ہے،اس لیے نتائج بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔
اگرفضائی طاقت ایران کی جوہری صلاحیت کومفلوج کردے یااگرایران کی جوہری پیش رفت عارضی طورپررک بھی جائے اورتہران میں اقتداربدل جائے،خواہ بعدکانقشہ مبہم ہی کیوں نہ ہوتوسوال باقی رہے گاکہ بعدازاں کیاہوگا؟ کیاکوئی واضح سیاسی منصوبہ موجود ہے یاصرف عسکری فتح پراکتفاکیاجائے گا؟ کیایہ پائیدارحل ہے؟اوراگر قیادت تبدیل ہو بھی جائے توکیا نئی قیادت عالمی برادری سے ہم آہنگ ہوگی یامزید خودمختارراستہ اپنائے گی؟
پینٹاگون نے اس کارروائی کو ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘کانام دیاہے۔اگریہ آگ پھیل گئی تو نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن جماعت کے امکانات متاثرہوسکتے ہیں۔ امریکی عوام بیرونی مہمات کے بارے میں منقسم رائے رکھتے ہیں۔ٹرمپ کایہ کہنا کہ ’’امریکی ہیروزکی جانیں جاسکتی ہیں‘‘دراصل اس خطرے کا اعتراف ہے کہ یہ معرکہ طویل بھی ہوسکتاہے اور مہنگا بھی۔ایک امریکی اخبارکو انٹرویودیتے ہوئے انہوں نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کااعتراف بھی کیاہے اورساتھ ہی یہ اعلان کہ وہ آئندہ ایرانی سربراہ سے بات چیت کرنے کے لئے تیارہیں،دراصل حقائق کوچھپانے کی ایک چال ہے۔
امریکاکودوبارہ عظیم بنانے کا نعرہ داخلی استحکام پرزوردیتاہے۔اگربیرونی مداخلت اس تصورسے متصادم ہوئی توصدرکواپنے حامیوں کوقائل کرنامشکل ہوسکتا ہے۔ امریکاکودوبارہ عظیم بنانے کے نظرئیے کے حامی کیاایک نئی بیرونی مہم جوئی کوقبول کریں گے؟مہنگائی اورداخلی مسائل کے بیچ یہ سوال ٹرمپ کے لئے کڑاامتحان بن سکتاہے۔جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض سینئراہلکارایران پر بڑے آپریشن سے متحفظ اورحق میں نہ تھے۔عسکری توسیع اور عوامی دھمکیوں کے درمیان پالیسی اختلافات ابھر آئے تھے جواس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل ہم آہنگی نہیں تھی اورفیصلہ یک رائے نہ تھا۔
آبنائے ہرمزکی جغرافیائی ومعاشی اہمیت بھی اس جنگ میں فیصلہ کن کردارادا کرنے میں معاون ہوسکتی ہے۔خلیج فارس کوبحرِعمان سے ملاتی ہے۔آبنائے ہرمجو ایک عالمی اقتصادی شہ رگ ہے۔یہ تقریباً21میل چوڑا تنگ راستہ ہے جس سے یومیہ لاکھوں بیرل خام تیل گزرتاہے۔عالمی تیل تجارت کاتقریبابیس سے تیس فیصداسی راستے سے گزرتا ہے۔ اور بالخصوص سعودی عرب،کویت، یواے ای،عمان اورقطرکا90فیصد تیل اوردیگرتوانائی ایل این پی جی کاروٹ یہی ہے،یہ ممالککب تک اس کی بندش سے عظیم مالی خسارہ برداشت کرسکیں گے اوراس کے ساتھ ہی ان ملکوں کا مکمل فضائی نیٹ ورکس بھی منجمدہوگئے ہیں اورروزانہ ہزاروں ملین ڈالرکی آمدن بھی اچانک رک گئی ہے۔اس کے بند ہو جانے پر عالمی توانائی منڈی میں شدید بحران پیداہو سکتا ہے،ایشیائی معیشتیں فوری متاثرہوں گی اوریورپ کومتبادل راستوں کی تلاش کرناپڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں