Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

قرآنی معجزے، حفاظت حقیقی واقعات کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن۔ ترجمہ: ماہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا۔(البقرہ:۱۸۵) علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: یعنی قرآن میں شرافت کی سب جہتیں جمع ہوگئی ہیں :کتاب بہترین، زبان سب سے اشرف عربی، رسول سب سے اشرف نبی آخرالزماں ﷺ، بیچ میں واسطہ سب سے اشرف فرشتہ جبرئیل، نزول کی ابتداء ہوئی سب سے بہترین زمین کے ٹکڑے مکہ مکرمہ میں اور بہترین ماہ رمضان میں ۔ لیلۃ القدر میں قرآن کریم لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اتارا گیا پھر بتدریج ۲۳ سال میں پیغمبر پر اترا، نیز اسی شب میں پیغمبر پر اس کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ (فوائد علامہ عثمانیؒ: سورۃ الدخان والقدر)حضرت عثمانؓ پوری رات عبادت کرتے اور ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیتے۔
حضرت تمیم داریؒ بھی ایک رکعت میں ختم کرتے تھے۔ (ایضاً ۶۲) حضرت علیؓ ایک دن میں آٹھ ختم کرلیتے۔ (ایضاً ۶۴) حضرت ثابت بُنانیؒ روزانہ ختم کرتے اورہمیشہ روزہ رکھتے۔ (ایضاً ۷۰)حضرت قتادہؒ سات راتوں میں ایک ختم کرتے اور رمضان شریف میں تین راتوں میں ایک ختم کرتےاور رمضان کےاخیر عشرہ میں ہررات ایک ختم کرتے۔ (ایضاً ۷۱) حضرت سعید بن جبیرؒ دوراتوں میں ختم کرتے، ایک مرتبہ بیت اللہ کے اندر ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیا۔ (ایضاً ۷۲)حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ روزانہ ایک ختم کرتے تھے اور رمضان شریف میں دو ختم کرتے ایک دن میں اورایک رات میں اورعبداللہ بن مبارکؒ کی روایت ہےکہ دو رکعات میں پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے۔ (ایضاً ۷۶)امام زہریؒ روزانہ ختم کرتے اور ہمیشہ روزہ رکھتے اور ۲۱،۲۵،۲۷؍رمضان کو افطاری سے پہلے پہلے قرآن ختم کرلیتے تھے۔ (ایضاً ۹۰)حضرت امام شافعیؒ بھی روزانہ ایک قرآن ختم کرلیتے اور رمضان شریف میں دو ختم کرتے اور یہ سب ختم نماز میں ہوتے۔ (ایضاً ۹۱)شیخ ابوالعباس بن عطا روزانہ ایک ختم کرتے اور رمضان شریف میں روزانہ تین ختم کرلیتے۔ (ایضاً ۹۴) واصل بصری اور وکیع بن جراح ہر رات ایک قرآن ختم کرتے۔ (ایضاً ۹۵)
(حضرت وکیع امام ابوحنیفہ کے شاگرد اور امام شافعی کے استاذ تھے) سُلیم تُجیبی ہر رات تین قرآن ختم کرلیتے تھے۔ (ایضاً حاشیہ شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ ۹۶)حسن بن صالح اور علی بن صالح اور ان کی والدہ تینوں رات کو تین حصوں میں تقسیم کرکے عبادت کرتے اور ہر رات ایک قرآن ختم کرتے جب والدہ کا انتقال ہوا تو دونوں بھائی مل کر ختم کرتے جب علیؒ کابھی انتقال ہوگیاتو حسن اکیلے ہر رات قرآن ختم کرتے۔ (ایضاً حاشیہ ص۹۶)ابوبکر بن عیاش (شاگرد امام عاصمؒ) ۳۰ سال سے روزانہ ایک ختم قرآن کرتے تھے، ایک مرتبہ اپنے بیٹے سے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! اس کمرہ میں اللہ کی نافرمانی نہ کرنا؛ اس لیے کہ میں نے اس میں بارہ (۱۲) ہزار قرآن ختم کیے ہیں ، انتقال کے وقت آپ کی بیٹی رونے لگیں تو آپ نے فرمایا: کیوں روتی ہو؟ کیا تم ڈرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے عذاب دیں گے؛ حالانکہ میں نے اس گوشہ میں ۲۴ ہزار ختم کیے ہیں ۔ (ایضاً حاشیہ ۹۷) (نیز دیکھیے مقدمہ علم القراء ات از حضرت مولانا فضل الرحمن اعظمی مدظلہ ص۸۳) جعفر بن حسن سنبھلی نے بہت سارے ختم کیے ہر ختم ایک ہی رکعت میں ہوتا تھا،نماز میں سجدہ کی حالت میں انتقال فرمایا۔ (ایضاً ۹۸) حضرت معاویہؓ کے دورئہ خلافت میں مصر کے قاضی سُلیم بن عِشر باوجود قاضی ہونے کے ہر رات چار قرآن ختم فرماتے تھے۔ (ایضاً ص۹۹) شیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ نے ’’اقامۃ الحجۃ‘‘ کے حاشیہ میں ص ۹۸ و ۹۹ پر امام نوویؒ کے حوالہ سے تفصیل بیان کی ہے کہ مختلف حضرات مختلف اوقات میں ختم کرتے تھے، بہت سے حضرات ایک مہینہ میں ختم فرماتے، کئی حضرات نے ہفتہ بھر میں ختم کیا، اسی طرح تین دنوں میں یا ایک دن میں ختم کرنے والے بھی بہت گزرے ہیں ،ایک ہی دن میں دوختم والے اور تین ختم والےبھی کئی حضرات گزرے ہیں اور بعض حضرات نےایک ہی دن میں آٹھ ختم بھی کیے ہیں اور فرمایا: سب سے زیادہ تعداد ختم قرآن کے بارے میں ہمارے علم کے مطابق یہی (آٹھ) ہے۔ (اقامۃ الحجۃ ص۹۸ والاذکار للنووی ص۵۹) یعنی روزانہ قرآن ختم کرنے والے بہت گزرے ہیں ۔ (الاذکار، ص۵۹) حضرت امام بخاریؒ روزانہ تراویح کی ہر رکعات میں بیس آیتیں سناتے پھر اخیر شب میں ایک تہائی سے نصف قرآن تک پڑھتے اور ہر تیسرے دن ختم کرتے اور دن میں افطار کے قریب تک ایک ختم فرماتے۔ (ہدی الساری مقدمہ فتح الباری ۴۸۱ بحوالہ ہدیۃ الدراری ص۳۵ ازشیخ الحدیث حضرت مولانافضل الرحمن زیدمجدہ) علامہ شامیؒ بھی رمضان شریف میں روزانہ معانی میں تدبر کے ساتھ قرآن ختم فرماتے، حافظ کریم بخش نابینا تھے، گنگوہ کے رہنے والے تھے اور وہیں پڑھاتے تھے، وہ ساڑھے تین گھنٹے میں پورا قرآن کریم ختم کرتے تھے۔ (ملفوظات فقیہ الامت ۱؍۸۴)حضرت شمس الدین محمد بن احمد بصری عراقی م۸۱۶ھ روزانہ چار عمرےادا فرماتےاورروزانہ قرآن ختم فرماتے۔ (اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ص۱۳۵) حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ گورنر کوفہ کے پاس حکم نامہ بھیجا کہ فوجیوں کو قرآن پاک حفظ کرائیں اور سال کے اخیر میں ان کی فہرست میرے پاس بھیجیں ، انھوں نے حفظ شروع کرادیا اور سال کے آخر میں ان کی لسٹ بھیجی جس میں تین سو حفاظ کےنام تھے، اسی طرح ابو موسیٰ اشعریؓ گورنر بصرہ کے پاس حکم نامہ بھیجا، ان کے پاس سے سال کے اخیر میں دس ہزار حفاظ کی لسٹ آئی۔ (ملفوظات فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ۳/۵۹ طبع جدید کراچی)
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں