Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

قرآنی معجزے، حفاظت حقیقی واقعات کی روشنی میں

(گزشتہ سے پیوستہ)
امام محمدؒ امام ابوحنفیہؒ کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو امام صاحب نے آپ کو قرآن شریف حفظ کرنے کا حکم دیا، امام محمدؒ ایک ہفتہ غائب رہے پھر آکر فرمایا پورا قرآن یاد کرلیا۔ (الجواہر المضیئۃ ۲/۵۲۸)شیخ عزالدین ابن جماعہ تیس علوم میں مہارت رکھتے تھے، قرآن مجید کو ایک ماہ میں یاد کرلیا تھا۔ (اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ۹۹) ہشام کلبیؒ کا بیان ہے کہ میں نے ایسا یاد کیا ہے کہ کسی نے نہ کیا ہوگا اور بھولا بھی ایسا کہ کبھی بھولا نہ ہوگا، فرماتے ہیں کہ میرے چچا ہمیشہ مجھے قرآن یاد نہ کرنے پر ملامت کیا کرتے تھے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی میں ایک گھر میں بیٹھ گیا اور قسم کھائی کہ جب تک کلام باری تعالیٰ حفظ نہ کرلوں گااس گھر سے باہر نہ نکلوں گا؛ چنانچہ پورے تین دنوں میں قرآن کریم کو حفظ کرکے اپنی قسم پوری کرلی اور بھول جانے کا قصہ یہ ہے کہ میں نے آئینہ میں دیکھاکہ داڑھی لمبی ہوگئی ہے تو میں نے اس کو چھوٹی کرنا چاہا ایک مشت سے زائد کو قطع کرنے کےلیے داڑھی مٹھی میں لی اور بجائے نیچے کے اوپرقینچی چلادی؛ چنانچہ داڑھی صاف ہوگئی۔ (وفیات الاعیان (۶/۸۲) واسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ۸۴ و شامی ۵/۲۶۱ یا ۶/۴۰۷ تاریخ خطیب بغدادی ۱۶/۶۸)
اللہ تعالیٰ نے ایسا اس لیےکرایاکہ ان کے اندر اس سے کبر نہ پیدا ہوجائے کہ تین دن میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔ (ملفوظات فقیہ الامت ۲/۲۵۳ طبع جدید کراچی)خلیفہ ہارون رشید کے دربارمیں چار سال کاایک بچہ لایاگیا جس نے قرآن مجید پڑھ لیاتھا، مسائل شرعی سے بھی واقف تھا؛مگر جب بھوکاہوتا توبچوں کی طرح روتا یعنی بچوں کاخاصہ موجود تھا۔قاضی ابوعبداللہ اصبہانی نے فرمایاکہ میں نے پانچ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔ (مقدمہ ابن الصلاح ص۱۳۱، النوع ۲۴ واسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ص۲۰۲)نیز مولانا فضل حق خیرآبادیؒ (م۱۲۷۸ھ) نے صرف چار ماہ میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔(ایضاً، ونزہۃ الخواطر ۷/۴۱۳)حضرت روح اللہ لاہوریؒ نےمکہ معظمہ میں ماہ رمضان مبارک کےاندر بیس دنوں میں پورا قرآن حفظ کرلیا۔ (ایضاً ص۲۰۶)حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ جب حج کے لیے تشریف لےجارہےتھے تو سمندر میں جہاز پر رمضان شریف کا چاند نظر آگیا، رفقاکی خواہش ہوئی کہ تراویح پڑھی جائے؛ مگر کوئی حافظ نہیں تھا لوگوں کے اصرار پر ایک پارہ روزانہ دن میں حفظ کرتے اور رات کو تراویح میں سنادیا کرتے؛ اس طرح پورا قرآن (ایک ماہ میں ) یاد کرکے سنادیا۔ (اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ۲۰۷)حضرت مولانا محمد اسحاق بردوانی (خلیفہ حضرت تھانویؒ) کودورانِ تدریس حفظ قرآن کا شوق پیداہوا اور آپ نے صرف سات دن اور چار گھنٹوں میں پورا قرآن مجید حفظ کرلیا، آپ کے حافظہ اور کرامت پر تمام شہر کانپور میں ہلچل مچ گئی،حضرت حکیم الامتؒ (اپنے وعظ میں)فرماتے تھے: ’’ہمارے ایک دوست مولانا محمداسحاق بردوانی کاانداز حفظ کلام مجید بھی معجزاتِ کلام الٰہی میں سےایک ہے‘‘۔ (کاروانِ تھانویؒ ص۱۰۴)شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خاں صاحبؒ خلیفہ حضرت مولانا مسیح اللہ خاں صاحبؒ وبانی جامعہ فاروقیہ کراچی روزانہ ایک پارہ دن میں یاد کرتے اور رات کو تراویح میں سنادیتے، ۲۷ یا ۲۹ دنوں میں پورا قرآن حفظ کرلیا۔ (ملفوظات فقیہ الامت ۱/۸۵ وماہنامہ الخیر ص۲۴، صفر۱۴۲۶ھ) حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کو ان کے بچوں کے حفظ کی تکمیل پر خیال آیا کہ بچوں کو حافظ بناکر اپنے لیے اور اپنے اہلیہ کے لیے تاج کی فضیلت کا انتظام کرلیا؛ لیکن اپنے والدین کے لیے کچھ نہیں کیا؛ چنانچہ اپنی مصروفیات کے باوجود تقریباً تین ماہ کی مدت میں قرآن کریم حفظ کرلیا اس وقت حضرت مفتی صاحب کی عمر چھیالیس سال تھی۔ (انوارالرشید ۲۳۵ والخیر شمارہ صفر ۱۴۲۶ھ)ایک سات سالہ بچہ نے پانچ ماہ سے کم مدت میں قرآن حفظ کرلیا، احمد پور شرقیہ ضلع بھاول پور کے ایک دینی ادارہ جامعۃ الحنیف الاسلامیہ کے سات سالہ طالب علم محمد ساجد (پیدائش ۲۸؍دسمبر ۱۹۹۶ء) نے ایک اگست ۲۰۰۳ء کو نورانی قاعدہ سے اپنی تعلیم شروع کی اور ۱۸؍جنوری ۲۰۰۴ء کو قرآن کریم مکمل حفظ کرلیا، اس دوران ۲۸ یوم کی تعطیلات ہوئیں،اس حساب سے بچے کی تدریسی مدت چار ماہ ۲۳ دن بنتی ہے۔ (ماہنامہ الخیر ص۴، شمارہ ربیع الثانی ۱۴۲۵ھ)مصر کے سید مصطفی کی عمر کل گیارہ (۱۱) برس کی ہے لیکن خدادادصلاحیت، قوت حافظہ اور محنت شاقہ کی بدولت اس نے تین ماہ میں قرآن مجید اور چھ مہینوں میں قرات عشرہ پر مشتمل مکمل قرآن حفظ کرلیا، یہ کارنامہ بے مثال ہی کہاجائے گا۔ الخ (ماہنامہ القاسم نوشہرہ پاکستان ص۲۲، محرم ۱۴۳۵ھ نومبر ۲۰۱۳ء) حضرت مولانا ظفراحمد عثمانیؒ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ میرا خود دیکھا ہوا ہے جس زمانہ میں میرا قیام مدرسہ راندیریہ رنگون میں تھا تو ہندوستان سے ایک شخص رنگون آیا اس کے ساتھ اس کی لڑکی بھی تھی جس کی عمر چار سال سے زیادہ نہ تھی، اس نے کہا یہ لڑکی حافظۂ قرآن ہے اور بغیر پڑھے پڑھائے پیدائشی حافظہ ہے، آپ جہاں سے چاہیں ایک آیت پڑھ دیں یہ اس سے آگے دس بارہ آیتیں پڑھ دے گی؛ چنانچہ رنگون میں بہت سے مقامات پر اس کا امتحان لیاگیا جیسا کہا تھا ویسا دیکھا گیا، رنگون کے لوگوں نے اس لڑکی کو بہت انعام دیا، اس کے باپ کی آمدنی اسی لڑکی کے اس کمال ہی سے تھی، میں نے اس سے کہا کہ اسے آمدنی کا ذریعہ نہ بنائو مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح یہ لڑکی زیادہ نہ جیے گی؛ چنانچہ میرا خیال صحیح نکلا، اگلے سال میں نے سن لیا کہ اس بچی کا انتقال ہوگیا ہے۔ (الخیر ص۶، ربیع الثانی ۱۴۲۵ھ بحوالہ اشرف البیان فی معجزات القرآن للشیخ ظفراحمد عثمانی)
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں